اشاعتیں

2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مجازؔ لکھنوی (اسرارالحق)

تصویر
  آج - 5؍دسمبر 1955* *معروف ترقی پسند شاعر،رومانی اور انقلابی نظموں کے لیے مشہور، اپنے دورِ حاضر کے محبوب شاعر” اسرار الحق مجازؔ صاحب “ کا یومِ وفات ہے* *اسرار الحق* نام اور *مجازؔ* تخلص تھا۔ *۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۱ء کو ردولی، ضلع بارہ بنکی (بھارت)* میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جج کے عہدے پر فائز تھے ، اس لیے ان کا قیام زیادہ تر لکھنؤ میں رہا۔ ۱۹۳۶ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے پاس کرنے کے بعد کچھ دنوں آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں اور کچھ عرصے بمبئی کے محکمۂ اطلاعات میں ملازم رہے۔ ہارڈنگ لائبریری، دہلی سے بھی کچھ عرصہ منسلک رہے۔ ابتدا میں *فانی بدایونی* نے ان کی چند غزلوں پر اصلاح دی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ذوق کو خود رہبر بنایا۔ وہ اپنے دور کے محبوب شاعر تھے۔ *مجازؔ* شراب کے بے حد عادی تھے۔ کثرتِ شراب نوشی سے *۵؍دسمبر ۱۹۵۵ء* کو لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔ کسی نے *مجاز کو شیلے کہا اور کسی نے ان کو کیٹس، کسی نے ان کو بلبل رنگیں نوا* کہا۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام *’’آہنگ‘‘* کے نام سے ۱۹۳۸ء میں طبع ہوا۔ اس میں کچھ نظموں کا اضافہ کرکے ۱۹۴۵ء میں ’’ شبِ تاب‘‘ اور پھر مزید اضافے کے بعد۱۹۴۹ء میں ’’ سا...

امداد امام اثر: اردو تنقید اورتحقیق

تصویر
  امداد امام اثر: اردو تنقید اورتحقیق کے گوہر نایاب اور اردو کی " ماحولیاتی تنقید" (Ecological Criticism) کے بنیاد گذار" *** تحریر: احمد سہیل *** سید امداد امام نام اور اثر تخلص کرتے تھے۔ 17/اگست 1849 کو بہار کے ضلع آرہ کے سالار پور گاؤں میں پیدا ہوئے۔امداد اثر کے والد کا نام سید وحید الدین خان تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی سید محمد محسن بنارسی سے حاصل کی۔ امداد اثر اردو، فارسی، عربی اور انگریزی کے جید عالم تھے۔ وہ شیعہ مسلک اور عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی خاندانی پسند سے عنفوان جوانی میں ہوئی۔ ان کی اہلیہ جستس شرف الدیں کی بڑی ہمشیرہ سے ہوئی تھی۔ان سے ان کے دو صاحب دارد ہیں جن کا نام علی امام اور حسن امام تھا۔ علی امام کو انگریز حکومت نے " سر" کے اعزاز اور خطاب بھی دیا۔ 1909 میں ساٹھ {60} سال کی عمر نے دوسرا نکاح کیا۔ اپنی شادی کی وجہ وہ اپنی کتاب " کاشف الحقاق" میں یون بیان کرتے ہیں" ۔۔" میرا سن شادی بیاہ کا نہ تھا مگر کیا کرتا یہ کرارسپرا کے امام باڑے اور نیورا کی مسجدیں ویران ہوگئیں۔ علی امام، حسن امام کرستان ہوگ...

پابلو پکاسو Pablo Picasso

تجریدی مصوری کے موجد، نامور مصور، مجسمہ ساز اور لینن امن انعام یافتہ ہسپانوی مصور پابلو پکاسو کی پیدائش  25/ اکتوبر1881ء کو اور  وفات 8/ اپریل 1973ء (92 سال) کو ہوئی تھی- ابتدائی حالات: دور جدید کا سب سے بڑا مصور اور تجریدی مصوری کا موجد۔ شہر ملاگا ’’سپین‘‘ میں پیدا ہوا۔ جوانی بارسلونا میں بسر ہوئی۔ جہاں باپ اکیڈیمی آف آرٹس میں پروفیسر تھا۔ پابلو پکاسو مالاگا ( اسپین ) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد آرٹ کے ٹیچر تھے۔ اس کے والدین بعد میں لاکارونا نامی شہر منتقل ہو گئے تھے جو بحر اطلانتک کے علاقے میں واقع ہے ۔ پکاسو نے ابتدا ہی سے روایتی تعلیم سے بغاوت کی۔ اس کے والد نے جب بیٹے کی ڈرائنگز دیکھیں تو اپنے پینٹ اور برش پکاسو کے حوالے کر دیے اور پھر کبھی خود پینٹ نہيں کیا۔ آگے چل کر وہ میڈرڈ چھوڑ کر ہورٹاڈي نامی ایبرو نامی پہاڑي گاؤں میں بس گیا تھا۔ 1900ء میں اسے پہلی سولو نمائش کی اجازت ملی۔ پکاسو پیش رو، ایک ماسٹراور ایک دیو مالائی عفریت کا حامی تھا۔ بیسویں صدی کی ہر تحریک میں اس کا ہاتھ تھا۔ 1904ء میں پیرس جیسے آرٹ کے مرکز میں رہنے لگا۔ اس کے اسٹوڈیو کا نام Bateau Laboir تھا ۔ کا رہائے...

ساحر لدھیانوی Sahir Ludhiyanvi

 ساحر لدھیانوی ساحر کا اصل نام عبدالحئی تھا، وہ 8/مارچ1921ء کو لدھیانہ کے ایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔  طالبِ علمی کے زمانے  ہی  میں ان کا شعری مجموعہ تلخیاں شائع ہوچکا تھا، جس نے اشاعت کے بعد دھوم مچا دی تھی۔ سن 1949 عیسوی میں وہ لاہور سے بمبئی  آ گئے اور اسی سال ان کی پہلی فلم 'آزادی کی راہ' ریلیز ہوئی  لیکن اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950  ء  میں فلم نوجوان میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو نصیب ہوئی۔ ان میں سے ایک گانے 'ٹھنڈی ہوائیں' کی دھن تو ایسی ہٹ ہوئی کہ عرصے تک اس کی نقل ہوتی رہی۔  ایس ڈی برمن اور ساحر کی جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں کام کیا جو آج بھی یادگار ہیں- ان فلموں میں بازی، جال، ٹیکسی ڈرائیور، ہاؤس نمبر 44، منیم جی اور پیاسا وغیرہ شامل ہیں۔ ساحر کی دوسری سب سے تخلیقی شراکت روشن کے ساتھ تھی، خصوصاً فلم 'برسات کی رات' کے گانوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی تھی۔ اس فلم کا گانا 'زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات' اس سال کا مقبول ترین نغمہ قرار پایا۔  اس کے علاوہ اسی فلم کی قوالی 'نہ تو کارواں کی تلا...

مرزا ہادی رسوا Mirza Hadi Ruswa

 آج نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسواؔ کا یوم وفات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نام محمد ہادی، تخلص مرزا، فرضی نام رسوا تھا۔ لکھنو کے محلہ ’’بگٹولہ‘‘میں 1857ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے مورث اعلیٰ ماڑ ندران سے دلی آئے اور وہاں سے لکھنو آ کر مستقل سکونت اختیار کرلی۔  آپ کے والد کا نام آغا محمد تقی تھا۔ والدین کا سایہ سولہ سال کی عمر میں ہی سر سے اٹھ گیا۔ رشتے کے ایک ماموں نے پرورش کی لیکن تمام خاندانی ترکے پر قابض ہوگئے۔  فارسی کی درسیات اور ریاضی و نجوم کی تحصیل اپنے والد سے کی۔ اس کے بعد عربی اور مذہبی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انگریزی پڑھنی شروع کی۔ انٹر کا امتحان پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے پاس کیا۔ اس کے بعد رڑکی چلے گئے۔ وہاں سے اوورسیئری کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے منشی کامل کا امتحان بھی پاس کیا۔  بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیوٹ طور پر بی۔اے کیااور امریکہ کی اورینٹل یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔  ایک دن اتفاقاً کیمسٹری کا ایک عربی رسالہ...

شان الحق حقی

 آج معروف شاعر‘ ادیب‘ محقق و نقاد‘مترجم اورماہر لسانیات شان الحق حقی کا یوم وفات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شان الحق حقی دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔  ان کے والد مولوی احتشام الدین حقی اپنے زمانے کے مشہور ماہر لسانیات تھے اور انہوں نے مولوی عبدالحق کی لغت کبیر کی تدوین میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ اسی علمی ماحول میں شان الحق حقی کی پرورش ہوئی۔  انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور سینٹ اسٹیفنز کالج دہلی سے انگریزی میں ایم اے کیا جس کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو اورہندوستان کے شعبہ اطلاعات کے مشہور ماہنامہ آج کل سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے 1950ء سے 1968ء تک حکومت پاکستان کے محکمہ مطبوعات و فلم سازی میں خدمات انجام دیں، بعدازاں وہ پاکستان ٹیلی وژن سے بھی بطور ڈائریکٹر سیلز منسلک رہے۔ شان الحق حقی کی تصانیف میں تار پیراہن‘ دل کی زبان‘ حرف دل رس‘ نذر خسرو‘ انتخاب ظفر (مع مقدمہ) اور نکتہ راز‘  تراجم میں انجان راہی‘ تیسری دنیا‘ قلوپطرہ‘ گیتا نجلی اور ارتھ شاستر اور مرتبہ لغات م...

فانی بدایونی (شوکت علی خاں)

 ﺷﻮﮐﺖ ﻋﻠﯽ  خاں,  ﻓﺎﻧﯽ  بدایونی  13/ ستمبر 1879ﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺍﯾﻮں ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻓﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﺠﺎﻋﺖ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﻥ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺗﮭﮯ۔  ﺭﻭﺵ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺮﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ 1901ﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﯾﻠﯽ ﺳﮯ ﺑﯽ ﺍﮮ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﭽھ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍرﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺳﺨﻦ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯿﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺴﻠﯽ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﻨﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔ 1908ﺀ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﮔﮍﮪ ﺳﮯ ﺍﯾﻞ ﺍﯾﻞ ﺑﯽ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﭘﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮐﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﺸﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﺮﻑ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻭﮐﺎﻟﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽھ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﺮﯾﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮑﮭﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﮑﭩﺲ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺅ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺤﯿﺜﯿﺖ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻭﮐﯿﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﻓﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﯼ مگرﺟﺲ ﻭﻗﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺍﺥ ﺩﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﻮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮩیں ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺣﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﮩﺎﺭﺍﺟﮧ ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭩﯿﭧ ﺳﮯ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯼ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺤﮑﻤۂ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺭﻓﯿﻘۂ ﺣﯿﺎﺕ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ۔ 1933 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﮞ ﺳ...