ہفتہ، 25 مئی، 2024

بچھو پھوپھی۔ عصمت چغتائی

بچھو پھوپھی

عصمت چغتائی

جب پہلی بار میں نے انہیں دیکھا تو وہ رحمان بھائی کے پہلے منزلے کی کھڑکی میں بیٹھی لمبی لمبی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھیں۔ یہ کھڑکی ہمارے صحن میں کھلتی تھی اور قانونا اسے بند رکھا جاتا تھا کیوں کہ پردے والی بی بیوں کا سامنا ہونے کا ڈر تھا۔ رحمان بھائی رنڈیوں کے جمعدار تھے، کوئی شادی بیاہ، ختنہ، بسم اللہ کی رسم ہوتی، رحمان بھائی اونے پونے ان رنڈیوں کو بلا دیتے اور غریب کے گھر میں بھی وحید جان، مشتری بائی اور انوری کہروا ناچ جاتیں۔

مگر محلے ٹولے کی لڑکیاں بالیاں ان کی نظر میں اپنی سگی ماں بہنیں تھیں۔ ان کے چھوٹے بھائی بندو اور گیندا آئے دن تاک جھانک کے سلسلہ میں سر پھٹول کیا کرتے تھے، ویسے رحمان بھائی محلے کی نظروں میں کوئی اچھی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی بیوی کی زندگی ہی میں اپنی سالی سے جوڑ توڑ کر لیا تھا۔ اس یتیم سی سالی کا سوائے اس بہن کے اور کوئی مرا جیتا نہ تھا۔ بہن کے ہاں پڑی تھی۔ اس کے بچے پالتی تھی۔ بس دودھ پلانے کی کسر تھی۔ باقی ساراگو موت وہی کرتی تھی۔

اور پھر کسی نک چڑھی نے اسے بہن کے بچے کے منہ میں ایک دن چھاتی دیتے دیکھ لیا۔ بھانڈا پھوٹ گیا اور پتہ چلا کہ بچوں میں آدھے بالکل ’’خالہ‘‘ کی صورت پہ ہیں۔ گھر میں رحمان کی دلہن چاہے بہن کی درگت بناتی ہوں پرکبھی پنچوں میں اقرار نہ کیا۔ یہی کہا کرتی تھیں۔ ’’جو کنواری کو کہے گا، اس کے دیدے گھٹنوں کے آگے آئے گا۔‘‘ ہاں بر کی تلاش میں ہردم سوکھا کرتی تھیں، پر اس کیڑے بھرے کباب کو بر کہاں جٌڑتا؟ ایک آنکھ میں یہ بڑی کوڑی سی پھلی تھی۔ پیر بھی ایک ذرا چھوٹا تھا۔ کولہا دبا کر چلتی تھی۔

سارے محلے سے ایک عجیب طرح کا بائیکاٹ ہو چکا تھا۔ لوگ رحمان بھائی سے کام پڑتا تو دھونس جما کر کہہ دیتے محلے میں رہنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ یہی کیا کم عنایت تھی۔ رحمان بھائی اسی کو اپنی عزت افزائی سمجھتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ رحمان بھائی کی کھڑکی میں بیٹھ کر طول طویل گالیاں دیا کرتی تھی۔ کیوں کہ باقی محلے کے لوگ ابا سے دبتے تھے مجسٹریٹ سے کون بیر مول لے۔

اس دن پہلی دفعہ مجھے معلوم ہوا کہ ہماری اکلوتی سگی پھوپی بادشاہی خانم ہیں اور یہ لمبی لمبی گالیاں ہمارے خاندان کو دی جا رہی تھیں۔

اماں کا چہرہ فق تھا اور وہ اندر کمرے میں سہمی بیٹھی تھیں، جیسے بچھو پھوپی کی آواز ان پر بجلی بن کر ٹوٹ پرے گی۔ چھٹے چھ ماہے اسی طرح بادشاہی خانم رحمان بھائی کی کھڑکی میں بیٹھ کر ہنکارتیں، ابامیاں ان سے زراسی آڑ لے کر مزے سے آرام کرسی پردراز اخبار پڑھتے رہتے اور موقع محل پر کسی لڑکے بالے کے ذریعے کوئی ایسی بات جواب میں کہہ دیتے کہ پھوپی بادشاہی پھر شتابیاں چھوڑنے لگتیں۔ ہم لوگ سب کھیل کود، پڑھنا لکھنا چھوڑ کر صحن میں گچھا بنا کر کھڑے ہو جاتے اور مڑ مڑ اپنی پیاری پھوپی کے کوسنے سنا کرتے جس کھڑکی میں وہ بیٹھتی تھیں وہ ان کے طول طویل جسم سے لبا لب بھری ہوئی تھی۔ ابامیاں سے اتنی ہم شکل تھیں جیسے وہی مونچھیں اتار کر ڈوپٹہ اوڑھ کر بیٹھ گیے ہوں۔ اور باوجود کوسنے اور گالیاں سننے کے ہم لوگ بڑے اطمینان سے انہیں تکا کرتے تھے۔

ساڑھے پانچ فٹ کا قد، چار انگل چوڑی کلائی، شیر سا کلا، سفید بگلا بال، بڑا سا دہانہ، بڑے بڑے دانت بھاری سی تھوڑی اور آواز تو ماشاء اللہ ابا میاں سے ایک سر نیچی ہی ہو گی۔

پھوپی بادشاہی ہمیشہ سفید کپڑے پہنا کرتیں تھیں۔ جس دن پھوپا مسعود علی نے مہترانی کے سنگ کلیلیں کرنی شروع کیں پھوپی نے بٹے سے ساری چوڑیاں چھنا چھن توڑ ڈالیں۔ رنگا ڈوپٹہ اتار دیا اور اس دن سے وہ انہیں ’’مرحوم‘‘ یا ’’مرنے والا‘‘ کہا کرتی تھیں۔ مہترانی کو چھونے کے بعد انہوں نے وہ ہاتھ پیر اپنے جسم کو نہ لگنے دیئے۔

یہ سانحہ جوانی میں ہوا تھا اور اب جب سے ’’رنڈاپا‘‘ جھیل رہی تھیں۔ ہمارے پھوپا ہماری اماں کے چچا بھی تھے۔ ویسے تو نہ جانے کیا گھپلا تھا۔ میرے ابا میری اماں کے چچا لگتے تھے۔ اور شادی سے پہلے جب وہ چھوٹی سی تھیں تو میرے ابا کو دیکھ کر ان کا پیشاب نکل جاتا تھا۔ اور جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کی منگنی اسی بھیانک دیو سے ہونے والی ہے۔ تو انہوں نے اپنی دادی یعنی ابا کی پھوپی کی پٹاری سے افیون چرا کر کھالی تھی۔ افیون زیادہ نہیں تھی اور کچھ دن لوٹ پوٹ کر اچھی ہو گئیں۔ ان دنوں ابا علی گڑھ کالج میں پڑھتے ان کی بیماری کی خبر سن کر امتحان چھوڑ کر بھاگے۔ بڑی مشکل سے ہمارے نانا جو ابا کے پھوپی زاد بھائی بھی تھے اور بزرگ دوست بھی، انہوں نے سمجھا بجھا کر واپس امتحان دینے بھیجا تھا۔ جتنی دیر وہ رہے، بھوکے پیاسے ٹہلتے رہے۔ ادھ کھلی آنکھوں سے میری اماں نے ان کا چوڑا چکلا سایہ پردے کے پیچھے بے قراری سے تڑپتے دیکھا۔

’’امراؤ بھائی! اگر انہیں کچھ ہو گیا... تو...‘‘ دیو کی آواز لرز رہی تھی۔ نانا میاں خوب ہنسے۔

’’نہیں برادر، خاطر جمع رکھو۔ کچھ نہ ہوگا۔‘‘

اس وقت میری منی سی معصوم ماں ایک دم عورت بن گئی تھی۔ اس کے دل سے ایک دم دیو زاد انسان کا خوف نکل گیا تھا۔ جبھی تو میری پھوپی بادشاہی کہتی تھی میری اماں جادو گرنی ہے اور اس کا تو میرے بھائی سے شادی سے پہلے تعلق ہو کر پیٹ گرا تھا۔ میری اماں اپنے جوان بچوں کے سامنے جب یہ گالیاں سنتیں تو ایسی بسور بسور کر روتیں کہ ہمیں ان کی مار فراموش ہو جاتی اور پیار آنے لگتا مگر یہ گالیاں سن کر ابا کی گمبھیر آنکھوں میں پریاں ناچنے لگتیں۔ وہ بڑے پیار سے ننھے بھائی کے ذریعے کہلواتے۔

’’کیوں پھوپی، آج کیا کھایا ہے؟‘‘

’’تیری میا کا کلیجہ۔‘‘ اس بے تکے جواب سے پھوپی جل کر مرندا ہو جاتیں، ابا پھر جواب دلواتے۔

’’ارے پھوپی، جب ہی منہ میں بواسیر ہو گئی ہے جلاب لو جلاب!‘‘

وہ میرے نوجوان بھائی کی مچمچاتی لاش پر کوؤں، چیلوں کی دعوت دینے لگتیں۔ ان کی دلہن کو جو نہ جانے بیچاری اس وقت کہاں بیٹھی اپنے خیالی دولہا کے عشق میں لرز رہی ہو گی، رنڈاپے کی دعائیں دیتیں۔ اور میری اماں کانوں میں انگلیاں دے کر بدبداتیں۔

’’جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو۔‘‘

پھر ابا اکساتے اور ننھے بھائی پوچھتے۔

’’پھوپی بادشہی، مہترانی پھوپی کا مزاج تو اچھا ہے؟‘‘ اور ہمیں ڈر لگتا کہ کہیں پھوپی کھڑکی میں سے پھاند نہ پڑیں۔

’’ارے جا سنپو لیے، میرے منہ نہ لگ، نہیں تو جوتی سے منہ مسل دوں گی۔ یہ بڈھا اندر بیٹھا کیا لونڈوں کو سکھا رہا ہے۔ مغل بچہ ہے تو سامنے آ کر بات کرے۔‘‘

’’رحمان بھائی اے رحمان بھائی، اس بورانی کتیا کو سنکھیا کیوں نہیں کھلاتے‘‘ ابا کے سکھانے پر ننھے بھائی ڈرتے ہوئے بولتے۔ حالانکہ انہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ کیوں کہ سب جانتے تھے کہ آواز ان کی ہے مگر الفاظ اباں میاں کے ہیں۔ لہٰذا گناہ ننھے بھائی کی جان پر نہیں۔ مگر پھر بھی بالکل ابا کی شکل کی پھوپی کی شان میں کچھ کہتے ہوئے انہیں پسینے آ جاتے تھے۔

کتنا زمین و آسمان کا فرق تھا۔ ہمارے ددھیال اور ننھیال والوں میں ننھیال حکیموں گلی میں تھی اور ددھیال گاڑی بانوں کٹہڑے میں۔ ننھیال والے سلیم چشتی کے خاندان سے تھے۔ جنہیں مغل بادشاہ نے مرشد کا مرتبہ دے کر نجات کا راستہ پہچانا۔ ہندوستان میں اسے بسے عرصہ گزر چکا تھا۔ رنگتیں سنولا چکی تھیں نقوش نرم پڑ چکے تھے۔ مزاج ٹھنڈے ہو گیے تھے۔

ددھیال والے باہر سے سب سے آخری کھیپ میں آنے والوں میں سے تھے۔ ذہنی طور پر ابھی تک گھوڑوں پر سوار منزلیں مار رہے تھے۔ خون میں لاوا دہک رہا تھا۔ کھڑے کھڑے تلوار جیسے نقوش، لال فرنگیوں جیسے منہ، گریلوں جیسی قد و قامت، شیروں جیسی گرجدار آوازیں۔ شہتیر جیسے ہاتھ پاؤں۔

اور ننھیال والے، نازک ہاتھ پیروں والے شاعرانہ طبیعت کے دھیمی آواز میں بولنے چالنے کے عادی۔ زیادہ تر حکیم، عالم اور مولوی تھے۔ جبھی محلے کا نام حکیموں کی گلی پڑ گیا تھا۔ کچھ کاروبار میں بھی حصہ لینے لگے تھے، شال باف، زردوز اور عطار وغیرہ بن چکے تھے۔ حالانکہ میری ددھیال والے ایسے لوگوں کو کنجڑے قصائی ہی کہا کرتے تھے کیوں کہ وہ خود زیادہ تر فوج میں تھے۔ ویسے مار دھاڑ کا شوق ابھی تک نہیں ہوا تھا۔ کشتی پہلوانی، تیراکی میں نام پیدا کرنا، پنجہ لڑانا، تلوار اور پٹے کے ہاتھوں دکھانا اور چوسر پچیسی کو جو میری ننھیال کے مرغوب ترین کھیل تھے ہیجڑوں کے کھیل سمجھنا۔

کہتے ہیں جب آتش فشاں پہاڑ پھٹتا ہے تو لاوا وادی کی گود میں اتر آتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میرے ددھیال والے ننھیال والوں کی طرف خود بخود کھینچ کر آ گیے۔ یہ میل کب اور کس نے شروع کیا سب شجرے میں لکھا ہے، مگر مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔ میرے دادا ہندوستان میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ دادیاں بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتی تھی مگر ایک چھوٹی سی بہن بن بیاہی تھی۔ نہ جانے کیوں کر وہ شیخوں میں بیاہ دی گئی۔ شاید میری اماں کے دادا نے میرے داد پر کوئی جادو کر دیا تھا کہ انہوں نے اپنی بہن بقول پھوپی بادشاہی کنجڑوں قصائیوں میں دے دی۔ اپنے ’’مرحوم‘‘ شوہر کو گالیاں دیتے وقت وہ ہمیشہ اپنے باپ کو قبر میں چین نہ ملنے کی بد دعائیں دیا کرتیں۔ جنہوں نے چغتائی خاندان کی مٹی پلید کر دی۔

میری پھوپی کے تین بھائی تھے۔ میرے تایا میرے ابامیاں اور میرے چچا۔ بڑے دو ان سے بڑے تھے اور چچا سب سے چھوٹے تھے۔ تین بھائیوں کی ایک لاڈلی بہن ہمیشہ کی نخریلی اور تنک مزاج تھیں۔ وہ ہمیشہ تینوں پر رعب جماتیں اور لاڈ کرواتیں۔ بالکل لونڈوں کی طرح پلیں، شیر سواری تیر اندازی اورتلوار چلانے کی بھی خاصی مشق تھی۔ ویسے تو پھیل پھال کر ڈھیر معلوم ہوتی تھیں۔ مگر پہلوانوں کی طرح سینہ تان کر چلتی تھیں۔ سینہ تھا بھی چار عورتوں جتنا۔

ابا مذاق میں اماں کو چھیڑا کرتے۔

’’بیگم بادشاہی سے کشتی لڑوگی؟‘‘

’’اوئی توبہ میری!عالم فاضل باپ کی بیٹی‘‘ میری اماں کان پر کان پر ہاٹھ دھر کر کہتیں، مگر وہ ننھے بھائی سے فورا پھوپی کو چیلنج بھجواتے۔

’’پھوپی ہماری اماں سے کشتی لڑوگی؟‘‘

’’ہاں، ہاں بلا اپنی اماں کو۔ آجائے خم ٹھوک کر۔ ارے الو نہ بنا دوں تو مرزا کریم بیگ کی اولاد نہیں۔ باپ کا نطفہ ہے تو بلا۔ بلا ملا زادی کو...‘‘ اور میری اماں اپنا لکھنؤ کا بڑے پائنچوں کا پاجامہ سمیٹ کر کونے میں دبک جاتیں۔

’’پھوپی بادشاہی، دادا میاں