عورت از کیفی اعظمی
عورت اٹھ مری جان ! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار تیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردار تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! م...