اشاعتیں

مارچ, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عورت از کیفی اعظمی

  عورت اٹھ مری جان ! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج                     حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج                            حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار                 تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار تیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردار                           تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! م...

مولانا ابوالکلام آزاد کا سفرِ آخرت از آغــاشورش کاشمیری

بطارق مسعود: بائیس فروری یوم وفات کی مناسبت سے امام الہنـد مولانا ابوالکلام آزاد کا سفرِ آخرت، آغــاشورش کاشمیری کے سحر انگیز قلم سے:  "مولانا آزاد (رحمۃ اللہ علیہ) محض سیاست داں ہوتے تو ممکن تھا حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ، لیکن شدید احساسات کے انسان تھے ، اپنے دور کے سب سے بڑے ادیب، ایک عصری خطیب، ایک عظیم مفکر اور عالم متبحرتھے، ان لوگوں میں سے نہیں تھے ، جو اپنے لئے سوچتے ہیں ، وہ انسان کے مستقبل پر سوچتے تھے ، انہیں غلام ہندوستان نے پیدا کیا اور آزاد ہندوستان کیلئے جی رہے تھے ، ایک عمر آزادی کی جدوجہد میں بسر کی اور جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کا نقشہ ان کی منشا کے مطابق نہ تھا، وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے سامنے خون کا ایک سمندر ہے ، اور وہ اس کے کنارے پر کھڑے ہیں ، ان کا دل بیگانوں سے زیادہ یگانوں کے چرکوں سے مجروح تھا، انہیں مسلمانوں نے سالہا سال اپنی زبان درازیوں سے زخم لگائے اور ان تمام حادثوں کو اپنے دل پر گذارتے رہے ۔ آزادی کے بعد یہی سانچے دس سال کی مسافت میں ان کیلئے جان لیوا ہو گئے ، 12/فروری 1958ء کو آل انڈیا ریڈیو نے خبر دی کہ مولانا آزاد علیل ہو گئے ہیں ، اس رات کابین...