فوٹوگرافر از قرۃ العین حیدر موسم بہار کے پھولوں سے گھرا بے حد نظر فریب گیسٹ ہاؤس ہرے بھرے ٹیلے کی چوٹی پر دور سے نظر آجاتا ہے۔ ٹیلے کے عین نیچے پہاڑی جھیل ہے۔ ایک بل کھاتی سڑک جھیل کے کنارے کنارے گیسٹ ہاؤس کے پھاٹک تک پہنچتی ہے۔ پھاٹک کے نزدیک والرس کی ایسی مونچھوں والا ایک فوٹوگرافر اپنا سازوسامان پھیلائے ایک ٹین کی کرسی پر چپ چاپ بیٹھا رہتا ہے۔ یہ گم نام پہاری قصبہ ٹورسٹ علاقے میں نہیں ہے اس وجہ سے بہت کم سیاح اس طرف آتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی ماہ عسل منانے والا جوڑا یا کوئی مسافر گیسٹ ہاؤس میں آ پہنچتا ہے تو فوٹو گرافر بڑی امید اور صبر کے ساتھ اپنا کیمرہ سنبھالے باغ کی سڑک پر ٹہلنے لگتا ہے۔ باغ کے مالی سے اس کا سمجھوتا ہے۔ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہری کسی نوجوان خاتون کے لیے صبح سویرے گلدستہ لے جاتے وقت مالی فوٹو گرافر کو اشارہ کردیتا ہے اور جب ماہ عسل منانے والا جوڑا ناشتے کے بعد نیچے باغ میں آتا ہے تو مالی اور فوٹو گرافر دونوں ان کے انتظار میں چوکس ملتے ہیں۔ فوٹو گرافر مدتوں سے یہاں موجود ہے، نہ جانے اور کہیں جاکر اپنی دوکان کیوں نہیں سجاتا۔ لیکن وہ اسی قصبے کا باشندہ ہے۔ اپ...