اشاعتیں

اپریل, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے۔۔سیماب اکبر آبادی

چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے قفس میں رہ کے قدرِ آشیاں معلوم ہوتی ہے کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے ہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کو جہاں منزل بھی گردِ کارواں معلوم ہوتی ہے قفس کی پتلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے کہ ہر بجلی قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے ترقی پر ہے روز افزوں خلش دردِ محبت کی جہاں محسوس ہوتی تھی، وہاں معلوم ہوتی ہے نہ کیوں سیماب مجھ کو قدر ہو ویرانیئ دل کی یہ بنیادِنشاطِ دو جہاں معلوم ہوتی ہے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ ثاقب لکھنوی

ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے کس نظر سے آپ نے دیکھا دلِ مجروح کو زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے جُز زمینِ کوئے جاناں کچھ نہیں پیشِ نگاہ جس کا دروازہ نظر آیا صدا دینے لگے باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقتِ دفن زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے آئینہ ہوجائے میرا عشق ان کے حسن کا کیا مزا ہو درد اگر خود ہی دوا دینے لگے ثاقبؔ لکھنوی ​

تلاک، تلاق یا طلاق

تلاک، تلاق یا طلاق... . ایک مرتبہ مولانا حالی کے پاس مولوی وحید الدین سلیم (سر سید احمد خان کے لٹریری اسسٹنٹ) بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور مولانا حالی سے پوچھنے لگا۔ "حضرت، میں نے غصہ میں آ کر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تجھ پر تین طلاق، لیکن بعد میں مجھے اپنے کیے پر افسوس ہوا، بیوی بھی راضی ہے مگر مولوی کہتے ہیں کہ طلاق پڑ گئی، اب صلح کی کوئی شکل نہیں، خدا کے لیے میری مشکل آسان فرمائیں اور کوئی ایسی ترکیب بتائیں کہ میری بیوی گھر میں دوبارہ آباد ہو سکے۔" ابھی مولانا حالی کوئی جواب نہیں دینے پائے تھے کہ مولوی سلیم اس شخص سے کہنے لگے۔ "بھئی یہ بتاؤ کہ تُو نے طلاق 'ت' سے دی تھی یا 'ط' سے؟" اس شخص نے کہا۔ "جی میں تو ان پڑھ اور جاہل آدمی ہوں، مجھے کیا پتہ کہ ت سے کیسی طلاق ہوتی ہے اور ط سے کیسی ہوتی ہے۔" مولوی صاحب نے اس سے کہا کہ "میاں یہ بتاؤ کہ تم نے قرأت کے ساتھ کھینچ کر کہا تھا کہ "تجھ پر تین طلاق" جس میں ط کی آواز پوری نکلتی ہے یا معمولی طریقہ پر کہا تھا جس میں ط کی آواز نہیں نکلتی بلکہ ت کی آواز نکلتی ہے۔...

واردات از منشی پریم چند

واردات   منشی پریم چند ​   فہرست ۱۔ شکوہ و شکایت ۲۔ معصوم بچّہ ۳۔   بدنصیب ماں ۴۔    شانتی ۵۔   روشنی ۶۔   مالکن ۷۔ نئی بیوی ۸۔ گلی ڈنڈا ۹۔   سوانگ ۱۰۔ انصاف کی پولیس ۱۱۔ غم نداری بُز بخر ۱۲۔ مفت کرم داشتن ۱۳۔   قاتل کی ماں شکوہ و شکایت ​ ۱۔ زندگی کا بڑا حصہ تو اسی گھر میں گزر گیا۔ مگر کبھی آرام نصیب نہ ہوا، میرے شوہر دنیا کی نگاہ میں بڑے نیک اور خوش اخلاق اور بیدار مغز ہونگے، لیکن جس پر گزرتی ہے، وہی جانتا ہے۔ دنیا کو تو ان لوگوں کی تعریف میں مزا آتا ہے، جو اپنے گھر کو جہنم میں ڈال رہے ہوں اور غیروں کے پیچھے اپنے آپ کو تباہ کیے جاتے ہوں، جو گھر والوں کیلیے مرتا ہے، اسکی تعریف دنیا والے نہیں کرتے۔ وہ تو انکی نگاہ میں خود غرض ہے، بخیل ہے، تنگ دل ہے، مغرور، کور باطن ہے۔ اسی طرح جو لوگ باہر والوں کیلیے مرتے ہیں، انکی تعریف گھر والے کیوں کرنے لگے۔ اب انہی کو دیکھو، صبح سے شام تک مجھے پریشان کیا کرتے ہیں۔ باہر سے کوئی چیز منگواؤ تو ایسی دکان سے لائیں گے، جہاں سے کوئی گاہک بھول کر بھی نہ لاتا ہو۔ ایسی دکانوں پر نہ چیز اچھی ملتی ہے...