اشاعتیں

نومبر, 2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دیوانِ غالب کی پہلی غزل: تفہیم و تجزیہ

دیوانِ غالب کی پہلی غزل : تفہیم و تجزیہ  غالب کی تفہیم کا سلسلہ تقریباً ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے۔ اس عرصے میں کتنے ہی دانشور، شارحین اورمحققین نے غالب کی شاعری کی مختلف جہا ت کا احاطہ کرنے کی کوششیں کیں لیکن کیا ان مفا ہیم تک ان کی رسائی ممکن ہو سکی؟ کیا شعر کے ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لیا گیا؟ جوکہ شاعر کا اصل مدعا تھا۔ کیاحقیقت میں ان مفاہیم تک شارحین پہنچ سکے جوکہ شاعر بیان کرنا چاہتا تھا؟ کیوں کہ غالب نے اپنے اشعار کی جو شرح خود پیش کی تھی، اسے ان کے لائق و فائق شاگرد یعنی حالی نے قبول نہیں کیا اور حالی نے جو تاویل پیش کی، اس سے مختلف نظم طباطبائی نے شرح پیش کی۔ اسی طرح طباطبائی کو حسرت موہانی نے، حسرت موہانی کو بیخود موہانی نے قبول نہیں کیا اور یہ سلسلہ یوں ہی شمس الرحمٰن فاروقی تک جوں کا توں چلا آ رہا ہے۔ اگر کسی ایک کی تاویل سے دوسرا سخن شناس مطمئن ہوتا تو شاید مزید تشریح کی ضرورت نہ پیش آتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرعہد میں سخن فہم حضرات نے غالب کو اپنے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کو ششیں کی ہیں اوراس سلسلے کے آئندہ بھی جاری رہنے کے قوی امکانات ہیں۔ میں تفہ...

منفرد اسلوب کا شاعر: اخترالایمان

 منفرد اسلوب کاشاعر: اخترالایمان بیسویں صدی کے نصف اول میں اردو شاعری کے دو اہم دھارے تھی۔ اول کا نام ’’ترقی پسند تحریک ‘‘تھا، جو اس وقت سب سے زیادہ مقبول اورمتحرک تھی۔ یہ جماعت زیادہ تر مارکسی خیالات کے حامی لوگوں کی تھی اور یہاں انہیں خیالات کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ دوم جماعت میں وہ شعرأ تھے، جو ترقی پسند تحریک کی جکڑ بندیوں و پابندیوں کے خلاف تھے۔ اس جماعت کو ’’ حلقۂ ارباب ذوق ‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ جماعت ماہرِ نفسیات فرائڈ کے علاوہ دیگر یورپی ناقدین کے خیالات سے متاثر تھی۔ یہ لوگ شعر و شاعری کے لیے کسی بھی طرح کی پابندی کے سخت خلاف تھے۔ اول جماعت نے جہاں خارجی مضامین باندھنے اور ادب برائے زندگی کو پروان چڑھانے کی کوششیں کیں تووہیں دوسری جماعت نے داخلی شاعری کو اپنا نصب العین قرار دیا۔ اس طرح یہ دونوں جماعتیں دو الگ الگ سمتوں کی طرف رخ کر گئیں، جو ایک دوسرے کی ضد ہی نہیں بلکہ انتہا پر بھی تھیں۔ اسی عہد میں ایک شاعر ایسا بھی تھا،جس پران دونوں جماعتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا اور اس نے اپنا نصب العین خود طئے کیا۔ اس نے ان دونوں گروہوں سے دور رہ کراردو ش...

Machini Tarjume ki taknik aur Urdu me Machini Tarjuma

تصویر

یگانہ چنگیزی :ہم زبانِ آتَش (Yagana Changezi-Hum zaban-e-Aatash)

یگانہ چنگیزی :ہم زبانِ آتَش کلام یاس سے دنیا میں پھراک آگ لگی یہ کون   حضرت آتَش کا   ہم زباں نکلا      بیسویں صدی کے نصف اول میں جن شعرأ کے حصے میں بہت زیادہ شہرت و مقبولیت آئی، ان میں یاس یگانہ چنگیزی کا نام بھی خاص طور سے قابلِ ذکر ہے البتہ یہ بات الگ ہے کہ ان کو جتنی مقبولیت اپنی شاعری سے حاصل ہوئی، اس سے زیادہ تشہیر’’ غالب شکن‘‘ ہونے کے باعث نصیب ہوئی۔ ان کی شاعری اور شخصیت کا ایک مخصوص رنگ ہے۔ ان کا تعلق کسی دبستان سے نہیں تھا۔ روزمرہ، محاورے، زبان اور لفظوں کے در و بست پر انہیں بڑی قدرت حاصل تھی۔ اسی سے اردو شاعری میں انہوں نے اپنی طبیعت کی جولانیاں خوب دکھائیں۔       ان کا نام مرزا واجد حسین تھا۔ پہلے یاس تخلص کرتے تھے لیکن بعد میں یگانہ ہوگئے۔ آپ کے اجداد ایران سے ہندوستان آئے تھے اور سلطنت مغلیہ کے دامن سے وابستہ ہو گئے تھے۔ پرگنہ حویلی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پذیر ہو گئے۔ یگانہ چنگیزی ۲۷! ذی الحجہ ۱۳۰۱ ھ مطابق ۱۷ / اکتوبر ۱۸۸۴ کو پٹنہ کے محلے مغل پورہ میں پیدا ہوئے ۔  پانچ چھ سا...