اشاعتیں

اپریل, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زخم ہمارے گننا

 مشق کرنے کے لئے پہلے ستارے گننا  گنتی آجائے تو پھر زخم ہمارے گننا  تم جو خبریں دیے جاتے ہو کہ سب اچھا ہے  اپنی بستی میں کبھی درد کے مارے گننا  بھول مت جانا گُلوں اور پرندوں کو، میاں ! اپنے احباب جو گننے ہوں تو سارے گننا  یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ شکایت کریں ہم  ہمیں آتا ہی نہیں ظلم تمہارے گننا  ویسے کم گو ہُوں مگر تم کبھی فرصت پا کر  میری خاموش نگاہوں کے اشارے گننا  گر نبھانا ہے محبت کا تعلق، مرے دوست !  فائدے گننے سے پہلے نہ خسارے گننا  محکمے غم کے بہت، دُکھ کے دفاتر ہیں کئی  ملکِ دل میں کبھی اشکوں کے ادارے گننا  جلنے والوں کے تُو جُملے نہ گنا کر فارس  غیر ممکن ہے جہنم کے شرارے گننا

مہاجر نامہ۔ منور رانا

 مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں  نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں  عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں  کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں  پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں  یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں  ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں  گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں  ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں  کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں  شکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی...

ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات۔ ریاض خیرآبادی

 ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات جاگیں تمام رات جگایئں تمام رات ان کی جفایئں یاد دلایئں تمام رات وہ دن بھی ہو کہ ان کو ستایئں تمام رات زاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے میکش اسے شراب پلایئں تمام رات اے قیس بے قرار ہےکچھ کوہ کن کی روح آتی ہے بے ستوں سے صدایئں تمام رات تا صبح میکدے سے رہی بوتلوں کی مانگ برسیں کہاں یہ کالی گھٹایئں تمام رات خلوت ہے بے حجاب ہیں وہ جل رہی ہے شمع  اچھا ہے اس کو اور جلایئں تمام رات شب بھر رہے کسی سے ہم آغوشیوں کے لطف ہوتی رہیں قبول دعایئں تمام رات  دابے رہے پروں سے نشیمن کو رات بھر کیا کیا چلی ہیں تیز ہوایئں تمام رات کاٹا ہے سانپ نے ہمیں سونے بھی دو ریاضؔ ان گیسوؤں کی لی ہے بلایئں تمام رات   جناب ریاض خیر آبادی

یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا

 کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے  وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے  اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن  اس کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن   اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے  دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی  اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئی  آس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے  تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہ  کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ  ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے  کیفی اعظمی

منشی نول کشور کی چتا کو آگ کیوں نہیں لگی؟

 تاریخ عالم کا وہ واحد ہندو جس کی چتا پر کئی من گھی ڈالاگیا مگر اُس کے جسم کو آگ نہ لگی، اُس کا قرآن سے کیا تعلق تھا ، تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے ۔ پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے۔ دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قران پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا۔ نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلی ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی* ۔دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا۔وقت گزرتا...

ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں ۔ مبشر سعید

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں صرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوں تتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں تو اگر ایک جھلک اپنی دکھا دے اُن کو سب مصور تری تصویر بنانے لگ جائیں ایک لمحے کو اگر تیرا تبسم دیکھیں ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں ہم اگر وجد میں آئیں تو زمانے کو سعید کبھی غزلیں تو کبھی خواب سنانے لگ جائیں

ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا

  ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی تری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہوگا سکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا مرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا پنڈت ہری چند اختر