اشاعتیں

2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شمس الرحمن فاروقی کی یاد میں

  شمس الرحمن فاروقی کی یادمیں معصوم مرادآبادی کے قلم سے آج عہدساز نقاد اور ادیب شمس الرحمن فاروقی کی پہلی برسی ہے۔انھوں نے گزشتہ 25/ دسمبر2020 کو اپنے وطن الہ آباد میں آخری سانس لی۔ بلاشبہ وہ اردو زبان وادب کے ایک ایسے سرخیل تھے، جس کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے جو علمی اور ادبی ورثہ یادگارچھوڑا ہے ،اس پر اردو دنیا ہمیشہ ناز کرے گی اور اس بات کی مثالیں دے گی کہ اس دور ابتلا میں بھی ہمارے درمیان ایسے ادیب اورمحقق پیدا ہوئے، جنھوں نے اردو ادب کو عالمی ادب سے آنکھیں چار کرنے کے لائق بنایا۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ فاروقی صاحب اگر انگریزی میں ایسا ادب تخلیق کرتے تو انھیں نوبل پرائز ضرور ملتا۔وہ ایک ہمہ جہت قلم کار تھے۔ انھوں نے اپنے لیے ایسے دقیق موضوعات کا انتخاب کیا، جنھیں چھوتے ہوئے ہمارے تن آسان ادیب خوف محسوس کرتے ہیں۔ان کی مثال ایک ایسے جوہری سے دی جاسکتی ہے جو جس چیز کو ہاتھ لگاتا ہے، وہ کندن بن جایا کرتی ہے۔انھوں نے اپنا سفر ایک نقاد کے طور پر شروع کیا اور میرفہمی پر ایسی معرکۃ الآراء کتاب تخلیق کی، جس پر اردو والے آج تک سردھنتے ہیں۔چارجلدوں پر مشتمل میرتقی ...

تو دیکھ لینا از سرفراز بزمی

  تو دیکھ لینا _سرفراز بزمیؔ______ سنہری کرنوں سے جگمگاتی ہوئی منڈیروں پہ بیٹھ کر جب کوئی پری وش نہ گنگنا ۓ ، کوئی پرندہ نہ چہچہا ۓ ، کوئی پپیہا نہ گیت گا ۓ تو دیکھ لینا   یہ دیکھ لینا --- کہ بند کمروں کے سونے سونے سے طاقچوں میں سجی ہوئی ہیں جو کچھ کتابیں لرز رہی ہیں وہ امن نامے ، وہ عہد نامے ، اصول و دستور کے صحیفے ، وہ ضابطے امن وآشتی کے ، ضمانتوں کے سبھی نوشتے ، حسین سپنے برابری کے غرور کثرت کے زعم بیجا کی ٹھوکروں میں پڑے ہو ۓ ہیں افق سے اٹھتے ہو ۓ بگولوں سے سرخ آندھی پنپ رہی ہے یہ تاج والے خراج والے ، یہ کل کے طوفاں سے آنکھ موندے سے آج والے انا کی ضد پر اڑے ہو ۓ ہیں تو روزن ابر سے ستارہ کوئی افق پر جو جگمگا ۓ تو دیکھ لینا بھرے نشیمن اجڑ رہے ہوں ستم کے طوفان اٹھ رہے ہوں گلے عدالت کے گھٹ رہے ہوں سزا سے بےخوف چیل کوے کسی کبوتر کو نوچتے ہوں لہو میں انصاف کے سنے ہوں وہ ہاتھ تھی جن کی ذمہ داری نظام گلشن کی پاسداری وہ دامن عدل پھاڑتے ہوں رخ عدالت کو نوچتے ہوں ہری زمینوں پہ سرخ شبنم پڑی ہوئی ہو دیا کی دیو...

جانی کیا آج میری برسی ہے. Jaun Elia جون ایلیا

جانی کیا آج میری برسی ہے؟ یعنی کیا آج مر گیا تھا میں؟   اصلی نام: سید جون اصغر، قلمی نام: جون ایلیا   ولادت: 14/ دسمبر 1931ء(امروہہ)  بھارت   وفات: 08/نومبر ،2002ء (کراچی) پاکستان     نام   سیّدجون اصغر اور تخلص جونؔ تھا۔ آپ 14؍دسمبر 1931ء کو ایک علمی وادبی خاندان میں     امروہہ ، یونائٹڈ پروونس ،بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔ رئیسؔ امروہوی اور سیّد محمد تقی ان کے بڑے بھائی تھے۔ جون ایلیا اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور بھارت کے ممتاز فلم ساز کمال امروہی کے سگے   بھائی تھے۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا ۔اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انھیں خطوط پر کی۔ انھوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 /سال کی عمر میں کہا تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شفیق حسن ایلیا کی سرپرستی میں حاصل کی۔ ادیب کامل (اردو)، کامل (فارسی) ، فاضل (عربی) کے امتحانات پاس کیے۔ اردو، فارسی اور عربی زبانوں پر جونؔ ایلیا کو یکساں عبور حاصل تھا۔ 1957ء میں بھارت سے ہجرت کرنے کے ...