عرضی برائے اضافۂ تنخواہ
عرضی برائے اضافہٴ تنخواہ ٹوٹ جائیں نہ سب امید کے تار وقت سے ہو گیا ہوں تنگ و نزار اس لیے آج ہوں درخواست گزار عرض کرتا ہوں آپ سے اپنا حال ِ واقعی اور دل کی پکار آپ سن لیجے میری اک فریاد تا نہ ہو زندگی یہ مجھ پر بار میں مسائل میں گھر گیا ہوں بہت کوئی چارہ نہیں سوائے گہار ہے کفایت شعاری اپنا شعار پھر بھی کم ہیں بہت ہی چار ہزار کہوں نہ آپ سے تو کس سے کہوں آپ ہی ہیں ہمارے چارہ گزار اب بھی ایام تنگ ہیں مجھ پر نوکری ہے یا کوئی ہے بیگار چار ماہ ہو گئے ادا نہ ہوا لے کے آیا تھا قرض ڈیڑھ ہزار کیفیت رہتی ہے سیماب سی اب پھر بھی کیسے کہوں کہ ہوں بیزار تیرے گلشن کا ہوں میں خار سہی کر لے بندے کا بھی اپنوں میں شمار ایک عرصہ ہوا نہیں معلوم جانے کب آئی اور گئی ہے بہار ننگ ہے ملازمت ِ ای ٹی وی گر کٹے زندگی یہ اب بھی ادھار اب عنایت کی نظر کر دیجے منکسر تکتا ہے دامن کو پسار لاج رکھ لیجے آپ احقر کی زندگی ہووے نہ مزید یہ خوار میری تنخواہ کیجے سات ہزار تا نہ ہو زندگی مجھے دشوار آپ کر لیں قبول یہ عرضی دس...