اشاعتیں

نومبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اس نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے! پروین شاکر

 اس نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے میں نے کہا۔۔۔۔۔!!!    تُجھے عشق ہو خُدا کرے، کوئی تُجھ کو اس سے جُدا کرے، تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جا ئیں، تیری آنکھ پُرنم رہا کرے، تُو اس کی باتیں کیا کرے، تو اس کی باتیں سُنا کرے، اُسے دیکھ کر تو رُک پڑے، وہ نظر جُھکا کر چلا کرے، تُجھے ہجر کی وہ جھڑی لگے، تو ملن کی ہر پل دُعا کرے، ترے خواب بکھریں ٹوٹ کر، تُو کرچی کرچی چُنا کرے، تُو نگر نگر پھرا کرے، تُو گلی گلی صدا کرے، میں کہوں عشق ڈھونگ ہے، تُو نہیں نہیں کہا کرے، یہ دُعا ہے آتشِ عشق میں، کہ میری طرح تُو جلا کرے، نہ نصیب ہو تُجھے بیٹھنا، تیرے دل میں درد اٹھا کرے، لٹیں ہوں کُھلی اور چشمِ تر، کہیں نالہ لب پہ ہو سوز گر، کہ میری تلاش میں در بدر، تو پکڑ کے دل کو پھرا کرے، تیرے سامنے تیرا گھر جلے، تُو بجھا سکے نہ بس چلے، تیرے دل سے نکلے یہی دعا، نہ گھر کسی کا جلا کرے، ُتجھے عشق ہو پھر یقین ہو، اُسے تسبیحوں پر پڑھا کرے، لوٹ آئیں خیر سے پھر وہ دن، کہیں نہ آئے چین، تجھے میرے بن، نہ لگائیں تجھ کو گلے سے ہم، تُو ہزار منتیں کیا کرے، تُجھے عشق ہو خُدا کرے، کوئی تُجھ کو اس سے جُدا کرے۔۔۔ پروین شاکر #hiba_____...

شارب ردولوی کا زندگی نامہ

  زندگی نامہ نام مسیب عباس شارب  قلمی نام شارب ردولوی والد حکیم حسن عباس ، صدر الافاضل والدہ امیرالنساء تاریخِ پیدائش یکم ستمبر 1935 (بہ حساب سرٹیفکیٹ) ردولی، ضلع( بارہ بنکی) موجودہ ضلع ایودھیا، یوپی بعض اہل خانہ کے مطابق 13 ؍  مارچ 1932 تعلیم: بی۔اے۔(آنرس) ایم۔اے۔ (اردو) پی ایچ۔ڈی ۔ لکھنؤ یونی ورسٹی، لکھنؤ جدید اردو ادبی تنقید کے اصول Theoritical Basis of Modern Urdu Literary Criticism   کے موضوع پر، پروفیسر احتشام حسین کی نگرانی میں پی ایچ ڈی۔ ملازمت: 1961 دیال سنگھ (شبینہ) کالج ،دہلی یونی ورسٹی میں اردو لکچرر کی حیثیت تقرر 1975 بیوروفارپروموشن آف اردو، وزارتِ تعلیم و  سماجی بہبود میں پرنسپل پبلی کیشن آفیسر کی حیثیت سے تقرر 1979 وزارت تعلیم سے مستعفی، دیال سنگھ کالج دہلی یونی ورسٹی میں بحیثیت سینئر لکچرر(ریڈر) واپسی 1990 دہلی یونی ورسٹی، شعبۂ اردو میںبحیثیت ریڈر تقرر 1993 جواہرلال نہرو یونی ورسٹی، نئی دہلی کے سنٹر آف انڈین لینگویجز میں بحیثیت پروفیسر تقرر 2000 جواہرلال نہرو یونی ورسٹی سے وظیفہ ی...

Prof. Sharib Rudelvi by Prof. Muzaffer Shahmiri

   Prof. Sharib Rudelvi                                     Prof. Muzaffer Shahmiri                                                                                                                              Former...

جون ایلیا اور زاہدہ حنا کی بیٹی فینانہ فرنام کی دل گداز تحریر

  جون ایلیا اور زاہدہ حنا کی بیٹی فینانہ فرنام کی دل گداز تحریر 8 نومبر 2021 آج ابو کی انیسویں برسی ہے دنیا اور ان کے مداحوں نے انھیں آج کے دن کھویا تھا مگر میں نے ابو کو سالہا سال پہلے کھو دیا تھا ۔ یہ وہ موضوع ہے جس پہ میں بات نہیں کرتی یا نہیں کرنا چاہتی تھی اور میں برسوں خاموش رہی بہت سے لوگوں نے چاہا کہ میں ان سے اس موضوع پر بات کروں مگر میں نے ہمیشہ ٹال دیا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ بہت ذاتی نوعیت کی بات ہے اور اپنے گھر کی بات میں دنیا سے کیوں کروں ۔ سحینا اور میں نے کئی دفعہ چاہا کہ ہم اس لئے ابو کے بارے میں بات کریں کیونکہ ہماری خاموشی کی وجہ سے لوگوں نے ایسی باتیں کیں جو بڑی تکلیف دہ تھیں اور سچ سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا ۔ میری، سحینا اور زریون کی مشکل یہ ہے کہ ہمارے دونوں والدین مشہور ہیں اور مشہور لوگوں کی زندگی پر بات کرنا ان کے مداح اپنا حق سمجھتے ہیں بات اتنی سادہ ہوتی تو کوئی مشکل نہ تھی مگر سچائی کا علم ہوئے بغیر یا ایک طرف کی بات سن کر رائے قائم کرنا اور اس پر یقین لے آنا زیادتی ہے۔ ہماری خاموشی نے لوگوں کی مزید حوصلہ افزائی کی اور جس کا جو ...

اصولِ گفتگو۔ سقراط

تصویر
  " اصولِ گفتگو " ایک دفعہ افلاطون اپنے اُستاد "سقراط" کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ “آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا تھا” سقراط نے مسکرا کر پوچھا “وہ کیا کہہ رہا تھا؟ افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا “آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا! اُس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا “تم یہ بات سنانے سے پہلے اِسے تین کی کسوٹی پر پرکھو۔ اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کہ کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے یا نہیں؟ ” افلاطون نے عرض کیا “میرے عظیم استاذ! تین کی کسوٹی کیا ہے؟ ” سقراط بولا “کیا تمہیں یقین ہے تم مجھے جو بات مجھے بتانے والے ہو یہ سو فیصد سچ ہے؟ ” افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔‘‘ سقراط نے ہنس کر کہا “پھر یہ بات بتانے کا تمہیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، سقراط نے کہا “یہ پہلی کسوٹی تھی۔ اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں۔ “مجھے تم جو بات بتانے والے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟ ”افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا۔ “جی! نہیں یہ بُری بات ہے‘‘ س...