اشاعتیں

نومبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نستعلیق ٹائپ رائٹر از معصوم مرادآبادی

تصویر
  نستعلیق ٹائپ رائٹر معصوم مرادآبادی جو لوگ آج اردو سافٹ وئیر سے استفادہ کررہے ہیں، ان میں سے بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ نستعلیق کو ٹائپ کے قالب میں ڈھالنے کا ارتقائی عمل ایک صدی سے زیادہ قدیم ہے۔ اس کی ایک نشانی یہ نستعلیق ٹائپ رائٹر بھی ہے جسے سید التفات حسین نے 1940 میں ایجاد کیا تھا۔ یہ منفرد ٹائپ رائٹر جامعہ آرکائیوز میں محفوظ ہے۔ اس کی ایجاد کے 41 سال بعد نستعلیق کو کمپیوٹر کے قالب میں ڈھالنے کا کارنامہ 1981 میں دو پاکستانی باشندوں احمد مرزا جمیل اور مطلوب الحسن سید نے نوری نستعلیق کے نام سے انجام دیا تھا۔ یہ کام لندن کی مونو ٹائپ کارپوریشن کی مدد سے ہوا تھا اور شروع میں اس سافٹ وئیر کی قیمت سوا لاکھ روپے تھی ۔اس مہنگے سافٹ وئیر کو ہندوستان میں سب سے پہلے جالندھر سے شائع ہونے والے اردو روزنامے " ہند سماچار" نے امپورٹ کیا تھا۔ مجھے اس سافٹ وئیر کو ہندوستان میں متعارف کرانے کا فخر یوں حاصل ہے کہ میں نے اس کے موجد احمد مرزا جمیل کا انٹرویو لینے کے لئے کراچی کا سفر کیا تھا۔ یہ انٹرویو ہفت روزہ " بلٹز" اور " قومی آواز " میں بڑے اہتمام سے شائع ...

او دیس سے آنے والے بتا۔ حافظ شیرانی

 او دیس سے آنے والے بتا اختر شیرانی او دیس سے آنے والا ہے بتا  او دیس سے آنے والے بتا  کس حال میں ہیں یاران وطن  آوارۂ غربت کو بھی سنا  کس رنگ میں ہے کنعان وطن  وہ باغ وطن فردوس وطن  وہ سرو وطن ریحان وطن  او دیس سے آنے والے بتا او دیس سے آنے والے بتا کیا اب بھی وہاں کے باغوں میں  مستانہ ہوائیں آتی ہیں  کیا اب بھی وہاں کے پربت پر  گھنگھور گھٹائیں چھاتی ہیں  کیا اب بھی وہاں کی برکھائیں  ویسے ہی دلوں کو بھاتی ہیں  او دیس سے آنے والے بتا  او دیس سے آنے والے بتا  کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی  سرمست نظارے ہوتے ہیں  کیا اب بھی سہانی راتوں کو  وہ چاند ستارے ہوتے ہیں  ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے  کیا اب وہی سارے ہوتے ہیں  او دیس سے آنے والے بتا  او دیس سے آنے والے بتا  کیا اب بھی شفق کے سایوں میں  دن رات کے دامن ملتے ہیں  کیا اب بھی چمن میں ویسے ہی  خوش رنگ شگوفے کھلتے ہیں  برساتی ہوا کی لہروں سے  بھیگے ہوئے پودے ہلتے ہیں  او دیس سے آنے والے بتا  ...