اشاعتیں

2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

رومن اردو Roman Urdu

 *رومن اردو ہماری آنے والی نسلوں کو تباہ کرنے کی ایک بہت بڑی سازش:*   رومن اُردو سے مراد اُردو الفاظ کو انگریزی حروف تہجی کی مدد سے لکھنا ہے۔ مثلاً کتاب کو Kitaab اور دوست کو Dost لکھنا۔  اس طرزِ تحریر کو دشمنِ اردو کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ اگر قارئین اس بات کو نہیں سمجھے کہ رومن اردو سے اردو رسم الخط کو کیا خطرہ لاحق ہے تو اس کو سمجھنے کے لیے ترکوں کی مثال دی جاسکتی ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ١٩٢٨ء میں سیکولر ذہنیت کے حامل کمال اتاترک نے کئی طریقوں سے اسلام سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔ جیسے کہ اذان پر پابندی، حج و عمرہ کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا، آیا صوفیہ جیسی عظیم الشان مسجد کو میوزیم میں تبدیل کیاگیا اور یہاں تک کہ ہجری کیلنڈر کی جگہ عیسوی کلینڈر کو نافذ کیاگیا۔  کمال اتاترک نے اسلام دشمنی کا ایک اور ثبوت دیا اور ترکی زبان جو عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، اسے بدل کر رومن حروف میں لکھنے کا حکم دے دیا۔ جواز یہ پیش کیاگیا کہ اس سے شرح خواندگی اوپر آئے گی لیکن اس اقدام کا اصل مقصد آنے والی تُرک نسل کو اسلامی کتب جو عربی رسم الخط میں تھیں، ان سے دور کرنا ت...

پروفیسر شارب ردولوی کا مجاز لکھنوی پر لکچر کا لنک

 https://youtu.be/MHmz0I5COTs

ہم زندۂ جاوید کا ماتم نہیں کرتے

تصویر
 یہ غزل یہاں اس لیے پوسٹ کی ہے کہ اکثر اس کے شعروں کو غلط چھپا ہوا دیکھا ہے اور بارہا لوگوں کو غلط پڑھتے ہوئے بھی سنا ہے۔ کئی مرتبہ خط لکھ کر صحیح شعر اور غزل کی نشان دہی کی اور بر سرِ موقع تصحیح بھی کی ہے۔ اس لیے یہاں پوسٹ کر رہا ہوں تاکہ لوگوں تک صحیح کلام پہنچ سکے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، یہ غزل کان پور کے مناظرے میں اقبال سہیلؔ نے پیش کی تھی۔ اس غزل کو یہاں پوسٹ کرنے سے مراد لوگوں تک درست کلام پہنچانا ہے، نہ کہ کسی مسلک کی پاسداری کرنا۔ بندہ کسی خاص مسلک کو تسلیم نہیں کرتا اور انسانیت میں یقین رکھتا ہے، مسلک میں نہیں۔ 

دعا میں _ التجا نہیں از مبارک صدیقی

دعا میں _ التجا  نہیں تو "عرض حال" مسترد  "سرشت" میں وفا نہیں تو سو "جمال" _مسترد  ادب نہیں، تو سنگ و خشت ہیں  تمام  _ " ڈگریاں"  جو "حُسن خلق" ہی نہیں تو سب کمال _ مسترد  عبث ہیں وہ _ "ریاضتیں"  جو "یار" _ نہ منا سکیں  وہ  ڈھول,  تھاپ,  بانسری وہ ہر "دھمال" _مسترد کتاب عشق میں یہی لکھا  ہوا  تھا _" جا بجا "  " بجز " _ خیال  یار  _کے ہر   اک خیال _مسترد  کہو، سنو، ملو، _ مگر بڑی ہی" احتیا ط" سے  مٹھاس بھی تو" زہر" ہے جو  " اعتدال" _مسترد وہ شخص  آفتاب  ہے میں اک چراغ _" کج ادا"  سو اس حسین کی بزم میں میری" مجال"_  مسترد تو کیا کوئی" گلاب" ہے؟  حَسین  میرے  یار _سا ؟ وہ" لا جواب" شخص ہے سو یہ سوال _ مسترد میں معترف تو ہوں _تیرا مگر _" اے چاند " _معذرت  کہ ذکر" حُسن یار"_ میں تیری  " مثال "  _مسترد حساب _عمر  دیکھ  لو  کہ پھر _" پل صراط"  پر  یہ" نفس" کے  اگر _ مگر "...

سقراط اور زہر کا پیالہ

  سقراط اور زہر کا پیالہ سقراط ایک سنگ تراش سوفرونس کس اور ایک دائی، فائی ناریت کا بیٹا تھا، وہ جیومیٹری اور فلکیات کا ماھر مانا جاتا تھا، اس نے ادب موسیقی اور جمناسٹکس میں باقاعدہ ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ سقراط ایک منصف مزاج تھا وہ زبانی بحث کو تحریر پر فوقیت دیتا تھا اسی لیے اس نے اپنی بالغ  زندگی کا زیادہ عرصہ ایتھنز کی گلیوں اور بازاروں میں بحث کے متمنی کسی بھی شخص کے ساتھ بحث بازی کرتے ہوئے گزارا، وہ نہایت جفاکش اور خود منضبط تھا، وہ اپنی حاضر جوابی اور دلچسپ حس مزاح کے باعث مقبول تھا وہ ایک فلسفی تھا لیکن اس نے نہ کوئی کتاب لکھی تھی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ فلسفیانہ مکتب قائم کیا تھا لیکن فلسفے میں اس کی حصے داری بنیادی طور پر اخلاقی نوعیت کی تھی، انصاف، محبت اور نیکی جیسے تصورات کی معروضی تفہیم پر یقین اور حاصل کردہ خود آگہی اس کی تعلیمات کی اساس تھی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ تمام بدی، لاعلمیت اور جہالت کا نتیجہ ہے کیونکہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے برا نہیں بنتا- سقراط  ہمیشہ حق اور سچ کی جستجو میں لگا رہتا تھا، اس کی نظر میں حقیقی علم ہی ایک ایسی چیز تھی جس ک...

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

  اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا                                                                                                                                                                                                         لوہو آتا ہے جب نہیں آتا ہوش جاتا نہیں رہا لیکن                ...

مَنحُوس غَزل۔ ابن انشا

مَنحُوس غَزل اِبنِ اِنشاء کی وَجہِ شُہرت اُن کی نظمیں اور غَزلیں ہیں جو کِتابی صُورت اِختیار کرنے سے قَبل باقاعدگی سے اَدبی جریدوں میں شائِع ہُوتی تھیں۔ سَتّر کی دَہائی کے شُروع میں اُنہوں نے ایک غَزل لِکھی جِس نے اُنہیں بامِ عُروج پر پَہُنچا دیا۔ یہ غَزل اُن کے دُوسرے مَجمُوعہِ کلام "اِس بَستی کے اِک کُوچے میں" میں شامِل ہے اور یہ غَزل ہے: "اِنشا جی اُٹھو اَب کُوچ کرو " یہ غَزل ایک اَفسُردہ شَخص کے بارے میں تھی جِس نے ایک رات کِسی مَحفِل (مُمکِنہ طَور پر قَحبَہ خانے) میں گُزاری اور پِھر اَچانک اُٹھنے اور جانے کا فیصلہ کیا۔ نہ صِرف اُس جَگہ سے بَلکہ شَہر سے بھی۔ وہ اپنے گھر واپس جاتا ہے اور وہاں عَلیَ الصُبح پَہُنچتا ہے۔ وہ اِس تَعَجُّب کا شِکار ہُوتا ہے کہ اَپنے مَحبُوب کو کیا جَواز پیش کرے گا۔ وہ ایسا شَخص ہے جِسے غَلط سَمجھا گیا ہے اور اَب وہ جو اُس کے مُطابِق لایعنی وُجُود ہے۔ اِس میں مَطلب ڈُھونڈنے نِکلا ہے۔ اِس غَزل نے جَلد ہی مَعرُوف کلاسیکل اور غَزل گُلوکار امانت علی خان کی دل چَسپی حاصِل کر لی۔ امانت ایسے الفاظ کی تلاش میں تھے جو شَہری زندگی (لاہور او...

میری بات چیت تحریک بقائے اردو فیس بک پیج کے لیے

 https://www.facebook.com/TahreekBaqaeUrdu/videos/772922176817721/ میری بات چیت تحریک بقائے اردو فیس بک پیج کے لیے

کچھ خیالات ساسوں کے، کچھ سسروں کے

کچھ خیالات ساسوں کے، کچھ سسروں کے     احمد حاطب صدیقی (ابونثر) داماد والا کالم شاید ہر ’ساس‘ کو خوش آیا۔ اب معلوم ہوا کہ ہر داماد اپنی ساس کو ’خوش دامن‘ کہہ کہہ کر کیوں یاد کرتا ہے۔ خبر نہیں ’خوش دامن‘ کی ترکیب کس خوش فہم نے ایجاد کی؟کون جانے خوشی کس کے حصے میں آتی ہے اور دامن کس کا تار تار ہوتا ہے؟ مگر اپنے اطہر شاہ خان جیدیؔ مرحوم تو لوگوں کو نیکی کی تلقین یوں فرمایا کرتے تھے : : نیکی ہی کام آتی ہے                     دنیا ہے دو دن کا مال ساس کسی کی ہو جیدیؔ                  نیکی کر دریا میں ڈال البتہ ہمارے ایک سادہ لوح دوست اُردو کی ایک معروف کہاوت میں محض ایک حرف کا تصرف کرکے یہ کہتے ہیں کہ ’’جب تک ساس ہے، تب تک آس ہے‘‘۔ غالباً یہی عقیدہ حضرتِ بیدلؔ جونپوری مرحوم کا بھی رہا ہوگا۔ بیدلؔ صاحب بڑے ’دلدار‘  شاعر تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے، ذرا اُن کے اِن اشعار کی بے ساختگی اور بالخص...

عورت از کیفی اعظمی

  عورت اٹھ مری جان ! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج                     حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج                            حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار                 تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار تیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردار                           تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! م...