پشاور ایکسپریس۔ کرشن چندر
پشاور ایکسپریس جب میں پشاور سے چلی تو میں نے چھکا چھک اطمینان کا سانس لیا۔ میرے ڈبوں میں زیادہ تر ہندو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ پشاور سے ہوئی مردان سے، کوہاٹ سے، چارسدہ سے، خیبر سے، لنڈی کوتل سے، بنوں نوشہرہ سے، مانسہرہ سے آئے تھے اور پاکستان میں جانو مال کو محفوظ نہ پاکر ہندوستان کا رخ کر رہے تھے، اسٹیشن پر زبردست پہرہ تھا اور فوج والے بڑی چوکسی سے کام کر رہے تھے۔ ان لوگوں کو جو پاکستان میں پناہ گزین اور ہندوستان میں شرنارتھی کہلاتے تھے اس وقت تک چین کا سانس نہ آیا جب تک میں نے پنجاب کی رومان خیز سرزمین کی طرف قدم نہ بڑھائے، یہ لوگ شکل و صورت سے بالکل پٹھان معلوم ہوتے تھے، گورے چٹے مضبوط ہاتھ پاؤں، سرپر کلاہ اور لنگی، اور جسم پر قمیض اور شلوار، یہ لوگ پشتو میں بات کرتے تھے اور کبھی کبھی نہایت کرخت قسم کی پنجابی میں بات کرتے تھے۔ ان کی حفاظت کے لئے ہر ڈبے میں دو سپاہی بندوقیں لے کر کھڑے تھے۔ وجیہہ بلوچی سپاہی اپنی پگڑیوں کے عقب مور کے چھتر کی طرح خوبصورت طرے لگائے ہوئے ہاتھ میں جدید رائفلیں لئے ہوئے ان پٹھانوں اور ان کے بیوی بچوں کی طرف مسکرا مسکرا کر دیکھ رہے تھے جو ایک تاریخی خ...