اشاعتیں

مئی, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پشاور ایکسپریس۔ کرشن چندر

پشاور ایکسپریس جب میں پشاور سے چلی تو میں نے چھکا چھک اطمینان کا سانس لیا۔ میرے ڈبوں میں زیادہ تر ہندو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ پشاور سے ہوئی مردان سے، کوہاٹ سے، چارسدہ سے، خیبر سے، لنڈی کوتل سے، بنوں نوشہرہ سے، مانسہرہ سے آئے تھے اور پاکستان میں جانو مال کو محفوظ نہ پاکر ہندوستان کا رخ کر رہے تھے، اسٹیشن پر زبردست پہرہ تھا اور فوج والے بڑی چوکسی سے کام کر رہے تھے۔ ان لوگوں کو جو پاکستان میں پناہ گزین اور ہندوستان میں شرنارتھی کہلاتے تھے اس وقت تک چین کا سانس نہ آیا جب تک میں نے پنجاب کی رومان خیز سرزمین کی طرف قدم نہ بڑھائے، یہ لوگ شکل و صورت سے بالکل پٹھان معلوم ہوتے تھے، گورے چٹے مضبوط ہاتھ پاؤں، سرپر کلاہ اور لنگی، اور جسم پر قمیض اور شلوار، یہ لوگ پشتو میں بات کرتے تھے اور کبھی کبھی نہایت کرخت قسم کی پنجابی میں بات کرتے تھے۔ ان کی حفاظت کے لئے ہر ڈبے میں دو سپاہی بندوقیں لے کر کھڑے تھے۔ وجیہہ بلوچی سپاہی اپنی پگڑیوں کے عقب مور کے چھتر کی طرح خوبصورت طرے لگائے ہوئے ہاتھ میں جدید رائفلیں لئے ہوئے ان پٹھانوں اور ان کے بیوی بچوں کی طرف مسکرا مسکرا کر دیکھ رہے تھے جو ایک تاریخی خ...

کالی شلوار kali shalwar

کالی شلوار سعادت حسن منٹو دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ یہاں آئی اور اس کا کاروبار نہ چلا تو ایک روزاس نے اپنی پڑوسن طمنچہ جان سے کہا۔ ” دِس لیف.... ویری بیڈ۔“ یعنی یہ زندگی بہت بری ہے، جبکہ کھانے ہی کو نہیں ملتا۔ انبالہ چھاؤنی میں اس کا دھندا بہت اچھا چلتا تھا۔ چھاؤنی کے گورے شراب پی کر اس کے پاس آجاتے تھے اور وہ تین چار گھنٹوں میں ہی آٹھ دس گوروں کو نپٹا کر بیس تیس روپے پیدا کرتی تھی۔ یہ گورے، اس کے ہم وطنوں کے مقابلے میں اچھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسی زبان بولتے تھے جس کا مطلب سلطانہ کی سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر ان کی زبان سے یہ لاعلمی اس کے حق میں بہت اچھی ثابت ہوتی تھی۔ اگر وہ اس سے کچھ رعایت چاہتے تو وہ کہہ دیا کرتی تھی۔ ”صاحب ہماری سمجھ میں تمہاری بات نہیں آتی۔“ اور اگر وہ اس سے ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کرتے تو وہ اپنی زبان میں گالیاں دینی شروع کردیتی تھی۔ وہ حیرت میں اس کے منہ کی طرف دی...

کھول دو Khol do

کھول دو سعادت حسن منٹو امر تسر سے اسپيشل ٹرين دوپہر دو بجے  چلي آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچي، راستے ميں کئی آدمی مارے گئے، متعد زخمي اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے۔ صبح دس بجے ۔۔۔کيمپ کی ٹھنڈی زمين پرجب سراج الدين نے آنکھيں کھوليں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ايک متلاطم سمندر ديکھا تو اس کی سوچنے  کی قوتيں اور بھی ضعيف ہوگئيں، وہ دير تک گدلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے ديکھتا رہا۔ يوں تو کيمپ ميں ہر طرف شور برپا تھا ليکن بوڑھے سراج الدين کے کان جيسے بند تھے، اسے کچھ سنائ نہيں ديتا تھا، کوئی اسے ديکھتا تو يہ خيال کرتا تھا کہ وہ کسی گہری  فکر ميں غرق ہے، اسے کچھ سنائي نہيں ديتا ہے، اس کے ہوش و حواس شل تھے، اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔ گدلے آسمان کي طرف بغير کسي ارادے کے ديکھتے ديکھتے سراج الدين کي نگاہيں سورج سے ٹکرائيں، تيز روشني اس کے وجود کے رگ و ريشے ميں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا، اوپر تلے اس کے دماغ پر کئي تصويريں دوڑ گئيں، لوٹ، آگ۔۔۔بھاگم بھاگ۔۔۔اسٹیشن۔۔۔گولياں۔۔۔رات اور سکينہ۔۔۔سراج الدين ايک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کي طرح اس نے اپنے چاروں ط...

کچھ عالمی کہانیاں some world stories

کچھ عالمی کہانیاں ترجمہ: نیئر عباس زیدی جمع و ترتیب: اعجاز عبید فہرست گمشدہ جنگل ... 3 جادو 9 لو 23 دوزخ میں    جانے والی لفٹ ... 33 ایک کہانی . 42 لومڑی . 59   گمشدہ جنگل جو ھینری جینسن کورا ( Korra )ایک ایسے شخص کا نام ہے جو کاشت کاری کرتا تھا۔ محنت و مشقت کرنے کے بعد جب اس نے خاصی رقم اکٹھی کر لی تو وہ ایک غلام خریدنے کی غرض سے ایک چھوٹے سے شہر پہنچ گیا۔ دلال نے اُسے کئی غلام دکھائے لیکن کسی پر بھی وہ مطمئن نہیں    ہوا۔ ٍ دوپہر تھی اور تمام کے تمام غلام سوئے ہوئے تھے۔ دلال نے چڑ کر کہا، ’’میرا خیال ہے کہ آپ چاہتے ہیں    کہ میں    ان سب غلاموں    کو آپ کے سامنے لے آؤں   ‘‘۔ کورا نے بڑی سادگی سے جواب دیا، ’’میں    کسی اور جگہ بھی جا سکتا ہوں   ‘‘۔ ’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے!’’دلال نے زنجیریں    کھینچیں    اور تمام غلام غنودگی کی حالت میں    ہی باہر آ گئے۔ کورا نے ان تمام کا بغور جائزہ لیا۔ دلال نے ایک غلام کو کورا کی طرف دھکیلتے...