مشفق بھائی
مشفق بھائی پرویز احمد اعظمی ناچیز ابھی رضائی میں پڑے پڑے یہ سوچ رہا تھا کہ اب اٹھوں کہ تب اٹھوں کیوں کہ سورج کی ننھی کرنوں کو ابھی اندھیرے پہ غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا۔ کہیں دور سے مور کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں کہ اتنے میں میرے کمرے کے بازو والے کمرے کا دروازہ دھڑاک سے کھلا۔ میں نے اندازہ کر لیا کہ لگتا ہے مشفق بھائی باہر نکلے ہیں۔ اکہرا بدن، نکلتا ہوا قد، جسم کمان کی شکل اختیار کرتا ہوا، جس کے سبب ہاتھ گھٹنوں تک پہنچتے ہوئے، پیشانی پر لاتعداد شکنیں، آنکھیں ایسی کہ لوگ آنکھیں چار کرنے سے گھبرائیں۔ ناک طوطے کی مانند، بالوں میں مہندی، داڑھی سلیقے سے تراشی ہوئی، کان گاندھی جی کی طرح لمبے، مزاج اس قدر شائستہ و سنجیدہ کہ شاید ہی کسی نے کبھی ہنستا ہوا دیکھا ہو۔ طبیعت میں خلوص و انکسار کوٹ کوٹ کر بھر ہوا ہے۔ بہ ظاہر تپاک سے ہر کسی سے ملتے ہیں لیکن دل سے چند لوگوں ہی سے ملتے ہیں۔ ذہن میں ہر وقت ایک طرح کا خمار، طبیعت سے سرشار، مذہب سے بیزار، سونے میں ایسے طاق ہیں کہ سنا ہے کہ کمبھ کرن ایک رات خواب میں آکر دست بستہ گزارش کر رہا تھا کہ حضور میری لاج رکھیے ورنہ زمانہ مجھے بھلا کر آپ کی...