اشاعتیں

مئی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اردو لکھنے میں کی جانے والی 12 غلطیاں

 اردو لکھنے میں کی جانے والی 12 غلطیاں انتخاب و تحریر: ڈاکٹر معین الدین عقیل  *# پہلی*  اردو کے مرکب الفاظ الگ الگ کر کے لکھنا چاہییں، کیوں کہ عام طور پر کوئی بھی لفظ لکھتے ہوئے ہر لفظ کے بعد ایک وقفہ ( اسپیس ) چھوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ خود بخود الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ دراصل تحریری اردو طویل عرصے تک ’کاتبوں‘ کے سپرد رہی، جو جگہ بچانے کی خاطر اور کچھ اپنی بے علمی کے سبب بہت سے لفظ ملا ملا کر لکھتے رہے۔ جس کی انتہائی شکل ہم ’آجشبکو‘ کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرِ لسانیات کی کوششوں سے اب الفاظ الگ الگ کر کے لکھے تو جانے لگے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ انہیں بدستور جوڑ کر لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب یہ اردو کے الگ الگ الفاظ ہیں، تو مرکب الفاظ کی صورت میں جب انہیں ملا کر لکھا جاتا ہے، تو نہ صرف پڑھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ ان کی ’شکل‘ بھی بگڑ جاتی ہے۔ مندرجہ ذیل میں ان الفاظ کی 12 اقسام یا ’ طرز ‘ الگ الگ کر کے بتائی جا رہی ہیں، جو دو الگ الگ الفاظ ہیں یا ان کی صوتیات/ آواز کو سامنے رکھتے ہوئے انھیں الگ الگ کرکے لکھنا ضروری ہے۔ * جب کہ، چوں کہ، چناں چہ، کیوں کہ، حالاں کہ * ک...

کسان از جوش ملیح آبادی

 کسان جھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطراب کھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب دشت کے کام و دہن کو دن کی تلخی سے فراغ دور دریا کے کنارے دھندلے دھندلے سے چراغ زیر لب ارض و سما میں باہمی گفت و شنود مشعل گردوں کے بجھ جانے سے اک ہلکا سا دود وسعتیں میدان کی سورج کے چھپ جانے سے تنگ سبزۂ افسردہ پر خواب آفریں ہلکا سا رنگ خامشی اور خامشی میں سنسناہٹ کی صدا شام کی خنکی سے گویا دن کی گرمی کا گلا اپنے دامن کو برابر قطع سا کرتا ہوا تیرگی میں کھیتیوں کے درمیاں کا فاصلا خار و خس پر ایک دردانگیز افسانے کی شان بام گردوں پر کسی کے روٹھ کر جانے کی شان دوب کی خوشبو میں شبنم کی نمی سے اک سرور چرخ پر بادل زمیں پر تتلیاں سر پر طیور پارہ پارہ ابر سرخی سرخیوں میں کچھ دھواں بھولی بھٹکی سی زمیں کھویا ہوا سا آسماں پتیاں مخمور کلیاں آنکھ جھپکاتی ہوئی نرم جاں پودوں کو گویا نیند سی آتی ہوئی یہ سماں اور اک قوی انسان یعنی کاشت کار ارتقا کا پیشوا تہذیب کا پروردگار جس کے ماتھے کے پسینے سے پئے عز و وقار کرتی ہے دریوزۂ تابش کلاہ تاجدار سرنگوں رہتی ہیں جس سے قوتیں تخریب کی جس کے بوتے پر لچکتی ہے کمر تہذیب کی جس کی محنت سے ...

وبائی مرض اور غالب کا "جدید خط"

وبائی مرض اور غالب کا "جدید خط"  میاں۔۔۔ خط تمہارا مع غزل پہنچا۔ غزل کیا دیکھوں، فی الوقت عذابِ الٰہی دیکھ رہا ہوں۔ نہ کاغذ ہے نہ ٹکٹ نہ لفافہ۔ اگلے لفافوں میں سے ایک بیرنگ لفافہ میں لپیٹ کر اس تحریر کو سپرد ڈاک کردوں گا۔ تم نے دلی کا حال پوچھا ہے!  میاں۔۔ اس کے مقدر میں تو اجڑنا ہی لکھا ہے۔۔۔ کبھی انسانوں سے کبھی آسمانوں سے! کیفیت کیا لکھوں۔ کلیجہ منہ کو آتا ہے۔۔ ہاتھ لرزاں قلم جنبش نکند ۔۔۔۔ لو صاحب تمہاری تواضع خاطر کے لیے جی ہلکا کیے لیتا ہوں۔ جی اپنا کڑا کر لو اور سنو۔۔۔ ہر جانب ہو کا عالم ہے۔ محلے ویران، مکان بے چراغ، نہ آدم نہ آدم زاد۔ بس ایک سناٹا کہ ہر سو چھایا ہوا ہے۔ شہر، اب شہر خموشاں ہے۔ ویرانی، وحشت، خاموشی، خوف، چشم تصور نے بھی کبھی دلی کو اس طرح دیکھا ہوگا؟ بحکم سرکار منادی والا آتا ہے، مرنے والوں کی تعداد بتا جاتا ہے۔ یہ عمل دن میں تین بار ہوتا ہے۔ خوف و دہشت کو ذرا جی سے دور کرنا چاہا کہ یہ کم بخت آ کر منادی موت کی سنا جاتا ہے۔ بتاؤ، ایسے حالات میں انسان زندگی کیوں کر اور کیسے کرے؟ صاحبانِ عالیشان کا فرمان ہے کہ ہر انسان چھوٹا بڑا، مرد و زن، اپنے مکانوں میں ...