اشاعتیں

اکتوبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پابلو پکاسو Pablo Picasso

تجریدی مصوری کے موجد، نامور مصور، مجسمہ ساز اور لینن امن انعام یافتہ ہسپانوی مصور پابلو پکاسو کی پیدائش  25/ اکتوبر1881ء کو اور  وفات 8/ اپریل 1973ء (92 سال) کو ہوئی تھی- ابتدائی حالات: دور جدید کا سب سے بڑا مصور اور تجریدی مصوری کا موجد۔ شہر ملاگا ’’سپین‘‘ میں پیدا ہوا۔ جوانی بارسلونا میں بسر ہوئی۔ جہاں باپ اکیڈیمی آف آرٹس میں پروفیسر تھا۔ پابلو پکاسو مالاگا ( اسپین ) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد آرٹ کے ٹیچر تھے۔ اس کے والدین بعد میں لاکارونا نامی شہر منتقل ہو گئے تھے جو بحر اطلانتک کے علاقے میں واقع ہے ۔ پکاسو نے ابتدا ہی سے روایتی تعلیم سے بغاوت کی۔ اس کے والد نے جب بیٹے کی ڈرائنگز دیکھیں تو اپنے پینٹ اور برش پکاسو کے حوالے کر دیے اور پھر کبھی خود پینٹ نہيں کیا۔ آگے چل کر وہ میڈرڈ چھوڑ کر ہورٹاڈي نامی ایبرو نامی پہاڑي گاؤں میں بس گیا تھا۔ 1900ء میں اسے پہلی سولو نمائش کی اجازت ملی۔ پکاسو پیش رو، ایک ماسٹراور ایک دیو مالائی عفریت کا حامی تھا۔ بیسویں صدی کی ہر تحریک میں اس کا ہاتھ تھا۔ 1904ء میں پیرس جیسے آرٹ کے مرکز میں رہنے لگا۔ اس کے اسٹوڈیو کا نام Bateau Laboir تھا ۔ کا رہائے...

ساحر لدھیانوی Sahir Ludhiyanvi

 ساحر لدھیانوی ساحر کا اصل نام عبدالحئی تھا، وہ 8/مارچ1921ء کو لدھیانہ کے ایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔  طالبِ علمی کے زمانے  ہی  میں ان کا شعری مجموعہ تلخیاں شائع ہوچکا تھا، جس نے اشاعت کے بعد دھوم مچا دی تھی۔ سن 1949 عیسوی میں وہ لاہور سے بمبئی  آ گئے اور اسی سال ان کی پہلی فلم 'آزادی کی راہ' ریلیز ہوئی  لیکن اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950  ء  میں فلم نوجوان میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو نصیب ہوئی۔ ان میں سے ایک گانے 'ٹھنڈی ہوائیں' کی دھن تو ایسی ہٹ ہوئی کہ عرصے تک اس کی نقل ہوتی رہی۔  ایس ڈی برمن اور ساحر کی جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں کام کیا جو آج بھی یادگار ہیں- ان فلموں میں بازی، جال، ٹیکسی ڈرائیور، ہاؤس نمبر 44، منیم جی اور پیاسا وغیرہ شامل ہیں۔ ساحر کی دوسری سب سے تخلیقی شراکت روشن کے ساتھ تھی، خصوصاً فلم 'برسات کی رات' کے گانوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی تھی۔ اس فلم کا گانا 'زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات' اس سال کا مقبول ترین نغمہ قرار پایا۔  اس کے علاوہ اسی فلم کی قوالی 'نہ تو کارواں کی تلا...

مرزا ہادی رسوا Mirza Hadi Ruswa

 آج نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسواؔ کا یوم وفات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نام محمد ہادی، تخلص مرزا، فرضی نام رسوا تھا۔ لکھنو کے محلہ ’’بگٹولہ‘‘میں 1857ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے مورث اعلیٰ ماڑ ندران سے دلی آئے اور وہاں سے لکھنو آ کر مستقل سکونت اختیار کرلی۔  آپ کے والد کا نام آغا محمد تقی تھا۔ والدین کا سایہ سولہ سال کی عمر میں ہی سر سے اٹھ گیا۔ رشتے کے ایک ماموں نے پرورش کی لیکن تمام خاندانی ترکے پر قابض ہوگئے۔  فارسی کی درسیات اور ریاضی و نجوم کی تحصیل اپنے والد سے کی۔ اس کے بعد عربی اور مذہبی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انگریزی پڑھنی شروع کی۔ انٹر کا امتحان پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے پاس کیا۔ اس کے بعد رڑکی چلے گئے۔ وہاں سے اوورسیئری کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے منشی کامل کا امتحان بھی پاس کیا۔  بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے پرائیوٹ طور پر بی۔اے کیااور امریکہ کی اورینٹل یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔  ایک دن اتفاقاً کیمسٹری کا ایک عربی رسالہ...

شان الحق حقی

 آج معروف شاعر‘ ادیب‘ محقق و نقاد‘مترجم اورماہر لسانیات شان الحق حقی کا یوم وفات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شان الحق حقی دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔  ان کے والد مولوی احتشام الدین حقی اپنے زمانے کے مشہور ماہر لسانیات تھے اور انہوں نے مولوی عبدالحق کی لغت کبیر کی تدوین میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ اسی علمی ماحول میں شان الحق حقی کی پرورش ہوئی۔  انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور سینٹ اسٹیفنز کالج دہلی سے انگریزی میں ایم اے کیا جس کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو اورہندوستان کے شعبہ اطلاعات کے مشہور ماہنامہ آج کل سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے 1950ء سے 1968ء تک حکومت پاکستان کے محکمہ مطبوعات و فلم سازی میں خدمات انجام دیں، بعدازاں وہ پاکستان ٹیلی وژن سے بھی بطور ڈائریکٹر سیلز منسلک رہے۔ شان الحق حقی کی تصانیف میں تار پیراہن‘ دل کی زبان‘ حرف دل رس‘ نذر خسرو‘ انتخاب ظفر (مع مقدمہ) اور نکتہ راز‘  تراجم میں انجان راہی‘ تیسری دنیا‘ قلوپطرہ‘ گیتا نجلی اور ارتھ شاستر اور مرتبہ لغات م...