اشاعتیں

2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جہدِ آزادی میں اردو شاعری کا حصہ (Jahd-e Azadi me Urdu Shaeri ka Hissa)

جہدِ آزادی میں اردو شاعری کا حصہ ادب خواہ کسی زبان کا ہو، وہ اپنے عہد کے غالب کے رویوں کا ترجمان اور عکاس ہوتا ہے۔ خواہ وہ رویے سماجی ہوں، تہذیبی ہوں یا سیاسی۔ اردو ادب کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قدیم زمانے میں بھی شاعروں نے اپنے عہد کے حالات و واقعات پر بلا خوف و خطر اظہار خیال کیا ہے۔ حالاں کہ ان میں سے کچھ کو اس کی سزا بھی بھگتنی پڑی یا جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اردو شاعری میں یہ رجحان وقت کے ساتھ ساتھ  تیز سے تیزتر ہوتا چلا گیا اور جہدِ آزادی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ کلاسیکی اردو شاعری میں شہر آشوب، ہجو اور دوسری شعری اصناف میں ایسے موضوعات کثرت سے پائے جاتے ہیں، جنھیں آج کی جدید اصطلاح میں احتجاجی ادب کا نام دیا گیا ہے مگر ہر دور میں اس طرح کے احتجاجی ادب کا مزاج بدلتا رہتا ہے۔ مثال کے لیے انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے ادب کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلے میں انیسویں صدی کے ا دب سے بیسویں صدی کا ادب یکسر مختلف ہے۔ ادب ہمیشہ ہی سماج کے موثر رجحانات کا علم بردار رہا ہے۔ سیاست سماج کو پہلے متاثر کرتی ہے اس کے بعد سماج ادب کو مت...

Mere pasandeeda Sher

 میرے پسندیدہ شعر خلافِ شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں چھوڑ بھی دیجے تکلف شیخ جی جب بھی آئیں، پی کے جایا کیجیے شیخ کو تھوڑا نہ سمجھو یہ بہت ہوشیار ہیں ساری دنیا چھوڑ بیٹھے حور و غلماں کے لیے مئے تمہں ایسی پلا دیں گے تم آؤ تو سہی               ہوش کا نام بھلا دیں  گے تم آؤ تو سہی آج کل روز ہے میخانے میں آنا جانا                  تم کو ساقی سے ملا دیں  گے تم آؤ تو سہی Mai tumhen aisi pila denge tum aao to sahi ! Hosh ka naam bhula denge tum aao to sahi !! Aajkal roz hai maikhaane mein aana jaana ! Tum ko saaqi se milaa denge tum aao to sahi !! وہ اپنے چہرے میں سو آفتاب رکھتے ہیں اسی لئے تو وہ رخ پہ نقاب رکھتے ہیں حسرت جےپوری تری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے ہمارے میکدے میں رات دن رحمت برستی ہے۔ teri masjid me wa-iz khas hain auqa...

کتے از پطرس بخاری

تصویر
کتے علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا، سلوتریوں سے دریافت کیا، خود سر کھپاتے رہے لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجیے دودھ دیتی ہے، بکری کو لیجیے دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی، یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آ کر طرح کا ایک مصرع دیدیا۔ ایک آدھ منٹ ک ے  بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ دیا۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھیے، کم بخت بعض تو دو غزلے سے غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ ہم نے کھڑکی میں س...