چھورا چھوری از سلیمان خطیب
چھورا چھوری بولو خالہ مزاج کیسے ہیں؟ کتنے برسوں کے بعد آئی ہو؟ مِسّی ہونٹوں پہ آنکھ میں کاجل جیسے پیغام کوئی لائی ہو؟ لڑکے کی ماں میرے چھورے کو چھوری ہونا ہے میرا چھورا تو پکا سونا ہے تمیں دل میں ذرا نکو سوچو ہاتھ آیا تو ہیرا سونا ہے چار لوگاں میں اس کی ابرو ہے جیسے کیوڑے کے بن میں خوشبو ہے کھلّے دل کی ہوں سب بتاتی ہوں کھلّا مکھلاج میں سناتی ہوں تھوڑا ترپٹ ہے اور لُلّا ہے سیدھی آنکھی میں اس کی پھلّا ہے منہ پہ چیچک کے خالی داغاں ہیں رنگ ڈامر سے ذرّا کھلّا ہے ناک نقشے کا کِتّا اچھا ہے میرا بچہ تو بھور بچہ ہے اس کے دادا بھی سو پہ بھاری تھے یوں تو کم ذات کے مداری تھے کنولے جھاڑاں کی سیندھی پیتے تھے ...