عشق حقیقی از سعادت حسن منٹو
افسانہ: عشق حقیقی از سعادت حسن منٹو عشق و محبت کے بارے میں اخلاق کا نظریہ وہی تھا جو اکثر عاشقوں اور محبت کرنے والوں کا ہوتا ہے۔ وہ رانجھے پیر کا چیلا تھا۔ عشق میں مر جانا اس کے نزدیک ایک عظیم الشان موت مرنا تھا۔ اخلاق تیس برس کا ہوگیا۔ مگر باوجود کوششوں کے اس کو کسی سے عشق نہ ہوا لیکن ایک دن انگرڈ برگ مین کی پکچر’’فور ہوم دی بل ٹولز‘‘ کا میٹنی شو دیکھنے کے دوران میں اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل اس برقع پوش لڑکی سے وابستہ ہوگیا ہےجو اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی اور سارا وقت اپنی ٹانگ ہلاتی رہی تھی۔ پردے پر جب سائے کم اور روشنی زیادہ ہوئی تو اخلاق نے اس لڑکی کو ایک نظر دیکھا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے تھے۔ ناک کی پھننگ پر چند بوندیں تھیں ۔جب اخلاق نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی ٹانگ ہلنا بند ہوگئی۔ ایک ادا کے ساتھ اس نے اپنے سیاہ برقعے کی جالی سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ یہ حرکت کچھ ایسی تھی کہ اخلاق کو بے اختیار ہنسی آگئی۔ اس لڑکی نے اپنی سہیلی کے کان میں کچھ کہا۔ دونوں ہولے ہولے ہنسیں۔ اس کے بعد اس لڑکی نے نقاب اپنے چہرے سے ہٹالیا۔ اخلاق کی طرف تیکھی تیکھی نظروں سے دیکھا...