Eid Gah عید گاہ
عید گاہ پریم چند رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد عید آئی ہے۔ کتنا منوہر، کتنا سہانا اثر ہے. درختوں پر عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب لالی ہے۔ آج کا سورج دیکھو، کتنا پیارا ہے؟ یعنی دنیا کو عید کی مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہے، پڑوس کے گھر میں سوئی دھاگے لینے دوڑا جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں، ان میں تیل ڈالنے کے لیے تیلی کے گھر پر بھاگا جاتا ہے۔ جلدی- جلدی بیلوں کو سانی- پانی دے دیں۔ عید گاہ سے لوٹتے- لوٹتے دوپہر ہو جائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں آدمیوں سے ملنا- بھےٹنا، دوپہر کے پہلے لوٹنا ناممکن ہے۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک۔ کسی نے وہ بھی نہیں لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کے حصہ کی چیز ہے۔ روزے بڑے- بوڑھوں کے لیے ہوں گے۔ ان کے لئے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے تھے آج وہ آگئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا مطلب؟ سیویوں کے لیے دودھ اور شکر گھر میں ہیں یا نہیں، ان کی...