اشاعتیں

دسمبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

لڑکی کی دعا از ساغر خیامی

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی بھر کرے عاشق مرا سیوا میری صبح سے شام تلک ہو کے مگن گاتا رہے میرا عاشق مری الفت میں بھجن گاتا رہے یوں میں چمکوں کہ زمانے میں اندھیرا ہو جائے کوئی لنگڑا کوئی اندھا کوئی لولا ہو جائے میرے جلووں کو عطا کر دے وہ قدرت یارب میری نفرت کو بھی سمجھے وہ محبت یارب میری فطرت ہو امیروں سے محبت کرنا اور غریبوں کی سر راہ مرمت کرنا بھولے بھالوں کی رقم خوب کھلانا مجھ کو مرے اللہ سگائی سے بچانا مجھ کو تو ہے مختار ہر اک راز کا یزدانی ہے دودھ لانے کی مرے گھر میں پریشانی ہے پیشگی ہی مرے درزی کی رقم بھی بھر دے وقت پڑ جائے تو ڈیڈی کی چلم بھی بھر دے اپنی دولت کی مرے ہاتھ میں جھولی دے دے ایسا عاشق نہیں درکار جو گولی دے دے میرا لچھمنؔ سا ہو دیور مجھے مقدور نہیں رامؔ جیسا مرا شوہر ہو یہ منظور نہیں جو پک اپ کرتا رہے پیار کی بانہوں میں مجھے دیکھ سکتا ہو جو اغیار کی بانہوں میں مجھے دعوے رکھتا نہ ہو جو یار پتی ہونے کا جذبہ رکھتا ہو جو بیوی پہ ستی ہونے کا میری الفت میں اسے کر دے تو پاگل مولا میں کہوں چائے تو منگوا دے وہ کیمپا کولا آئی آواز خداوند دیے دیتے ہیں داخلہ تیرا جے این ی...

جدید اردو تحقیق میں آن لائن وسائل کا استعمال

 https://fb.watch/wqXVUINk_d/

مصر میں فروغِ اردو کے لیے پروفیسر حسن الاعظمی کی جدوجہد

مصر میں فروغِ اردو کے لیے پروفیسر حسن الاعظمی کی جدوجہد عبدالعلیم قاسمی بن عبدالعظیم اصلاحی ہند و پاک میں وجود پذیر زبان "اردو" چند دہائیوں ہی میں مقامی سرحدوں کو عبور کرکے متعدد ملکوں میں داخل ہوئی ، آج دنیا کے کم و بیش اکثر ممالک کی یونیورسٹیوں اور جامعات  میں"  اردو "کو بحثیت زبان پڑھایا جاتا ہے ، بہت سی یونیورسٹیوں اور جامعات میں اردو کے علاحدہ  شعبے بھی قائم ہیں ، اردو اب محض مسلمانوں یا ہند و پاک کی زبان نہیں رہی ہے ؛ بلکہ یہ ایک عالمی زبان کا درجہ رکھتی ہے ، اردو کو فروغ دینے کے لیے ، اس کو متعدد ملکوں میں متعارف کرانے کے لیے عاشقانِ زبانِ اردو کی لازوال قربانیاں اور انتہک محنت و جدوجہد رہی ہے ۔   پروفیسر حسن الاعظمی دنیا کی متعدد زبانوں پر مہارت رکھتے تھے، اردو ، فارسی ، عربی ، انگریزی اور ترکی پر یکساں مہارت تھی ، آپ کی کوششوں اور جد و جہد سے مصر میں اردو کے فروغ ملا ، جامعہ مصریہ اور مصر کی دیگر یونیورسٹیوں میں اردو کا شعبہ قائم ہوا ، مصر میں اردو کے فروغ کے بعد اہل شام ، بغداد اور ترکی بھی اپنے ملکوں میں اردو کے شعبے قائم کئے جو کہ حسن الاعظمی ہی کی ج...

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے۔ قمر جلال آبادی

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے اور وہ بھی اس لیے کہ محبت کی بات ہے میں نے کہا کہ آئے ہو کتنے دنوں کے بعد کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے میں نے کہا کی مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے میں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ہے میں نے کہا کہ دیتے ہیں دل تم بھی لاؤ دل کہنے لگے کہ یہ تو تجارت کی بات ہے میں نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم کہنے لگے کہ یہ تو طبیعت کی بات ہے

بنجارہ نامہ از نظیر اکبرآبادی

ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا کیا بدھیا بھینسا بیل شتر کیا گوئیں پلا سر بھارا کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر کیا آگ دھواں اور انگارا سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا گر تو ہے لکھی بنجارا اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا اک اور بڑا بیوپاری ہے کیا شکر مصری قند گری کیا سانبھر میٹھا کھاری ہے کیا داکھ منقےٰ سونٹھ مرچ کیا کیسر لونگ سپاری ہے سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا تو بدھیا لادے بیل بھرے جو پورب پچھم جاوے گا یا سود بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا قزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا دھن دولت ناتی پوتا کیا اک کنبہ کام نہ آوے گا سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا ہر منزل میں اب ساتھ ترے یہ جتنا ڈیرا ڈانڈا ہے زر دام درم کا بھانڈا ہے بندوق سپر اور کھانڈا ہے جب نایک تن کا نکل گیا جو ملکوں ملکوں ہانڈا ہے پھر ہانڈا ہے نہ بھانڈا ہے نہ حلوا ہے نہ مانڈا ہے سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا جب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری رہ جاوے گی اک بدھیا تیری مٹی پر پھر گھاس نہ چرن...