اشاعتیں

2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بیسویں صدی کا سب سے بڑا تحفہ: اُردو سافٹ ویر

  بیسویں صدی کا سب سے بڑا تحفہ   اُردو سافٹ ویر  رحمت یوسف زئی ’ اُردو کا رسم الخط بہت پیچیدہ ہے ‘   ’ اُردو کی سب سے بڑی کمزوری اِس کا رسم الخط ہے ‘  ’ اُردو والے جب تک اپنا رسم الخط نہیں بدلیں گے ، ترقی یافتہ اقوام میں شامل نہیں ہو سکتے۔  یہ وہ جملے ہیں جو ۷ ۴ کے بعد ‚ آج تک متواتر سنے جاتے رہے ۔ خود اُردو کے بعض اہم دانشوروں نے رسم الخط بدلنے کے لیے تجاویز پیش کیں ۔ لیکن اُردو رسم الخط کے چاہنے والوں نے ایک نہ سنی، کیوں کہ رسم الخط در اصل زبان کا لباس ہے اور اگر لباس بدل جائے تو اس کی شناخت ختم ہونا لازمی تھا ۔ تبدیلی کے لیے دو تجاویز تھیں ۔ ایک تو یہ کہ رومن رسم الخط اختیار کیا جائے ۔ تاکہ عالمی سطح پر ترسیل میں آسانی ہو ۔ اس تجویز کی بنیاد اِس بات پر تھی کہ انگریزی حروف کے ٹائپ رائٹر ہر جگہ دستیاب تھے ۔ اِس رسم الخط کے ذریعے الکٹرانک میڈیا پرٹیلی گرام ، ٹیلی پرنٹر وغیرہ کے ذریعے پیامات کو آسانی سے بھیجا جا سکتا تھا ۔  ہندوستان کے تناظر میں دوسری تجویز یہ تھی کہ دیوناگری رسم الخط کو اختیار کرلیا جائے تاکہ ملک کے طول و عرض میں ہ...

سمت میں میرا مضمون دیوانِ غالب کی پہلی غزل : تفہیم و تجزیہ

http://samt.bazmeurdu.net/article/%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%90-%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%d8%aa%d9%81%db%81%db%8c%d9%85-%d9%88-%d8%aa%d8%ac%d8%b2%db%8c%db%81-%db%94/ دیوانِ غالب کی پہلی غزل : تفہیم و تجزیہ یہ مضمون میری اجازت کے بغیر سمت میں شائع کیا گیا ہے۔ 

مشینی ترجمہ پر میرا لکچر

 https://fb.watch/nE2zlsy61J/ اوپر دیا ہوا ویڈیو لنک فیس بک پر یو جی سی۔نیٹ؍ جے آر ایف صفحے پر ملا ہے۔ یہ لکچر چوبیس ستمبر ۲۰۱۹ کو شعبۂ اردو، سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر میں دیا گیا تھا، جسے بغیر اجازت کسی نے بنایا اور یہاں پوسٹ کیا ہے۔ اسے دیکھ کر افسوس ہوا مگر سرقہ رپورٹ کرنے کا اختیار کتابِ رخ پر دستیاب ہی نہیں ہے کہ شکایت درج کی جا سکے۔  بندہ اسے ادبی بد دیانتی تسلیم کرتا ہے۔ خدارا ایسا نہ کیجیے۔ پوسٹ کرنے سے پہلے اجازت لینا مناسب نہ لگے تو اطلاع ہی دے دیجیے۔  ۱۳،۱۰،۲۰۲۳

بے غرض محسن

  بے غرض محسن پریم چند   ساون کا مہینہ تھا، ریوتی رانی نے پاؤں میں مہندی رچائی، مانگ چوٹی سنواری۔ اور تب اپنی بوڑھی ساس سے جاکر بولی، ’’امّاں جی آج میں میلہ دیکھنے جاؤں گی۔ ‘‘ ریوتی پنڈت چنتا من کی بیوی تھی۔ پنڈت جی نے سرسوتی کی پوجا میں زیادہ نفع نہ دیکھ کر لکشمی دیوی کی مجاوری کرنی شروع کی تھی۔ لین دین کا کاروبار کرتے تھے۔ مگراور مہاجنوں کے خلاف خاص خاص حالتوں کے سوا پچیس فیصدی سے زیادہ سودلینا مناسب نہ سمجھتے تھے۔ ریوتی کی ساس ایک بچّے کو گود میں لیے کھٹولے پر بیٹھی تھیں۔ بہو کی بات سن کر بولیں۔ ’’ بھیگ جاؤ گی تو بچّے کو زکام ہوجائے گا۔ ‘‘ ریوتی۔ نہیں امّاں مجھے دیر نہ لگے گی ابھی چلی آؤں گی۔ ریوتی کے دو بچّے تھے ایک لڑکا دوسری لڑکی۔ لڑکی ابھی گود میں تھی اور لڑکا ہیرا من ساتویں سال میں تھا۔ ریوتی نے اسے اچھے اچھے کپڑے پہنائے، نظر بد سے بچانے کے لیے ماتھے اور گالوں پر کاجل کے ٹیکے لگادئیے۔ گڑیاں پیٹنے کے لیے ایک خوش رنگ چھڑی دے دی اور ہمجولیوں کے ساتھ میلہ دیکھنے چلی۔ کیرت ساگر کے کنارے عورتوں کا بڑا جمگھٹ لگا تھا۔ نیلگوں گھٹائیں چھائی تھیں۔ عورتیں سولہ سنگار ...

علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک

علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک       ایران میں عروض اور شاعری سے متعلق عام خیال یہ تھا کہ یہاں شاعری کا وجود نہ تھا۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اردو کے ایک اہم عروض داں سلیم جعفر اپنے ایک مضمون ’گاتھا کا عروض ‘ میں لکھتے ہیں :           ’’ایران پر پرچمِ اسلام لہرانے کے بعد ایک ادیب نے لکھا کہ ایران میں مسلمانوں کے آنے سے پہلے شعر نہ تھا ۔صدیوں تک یہ خیال دنیا میں قائم رہا۔خود ایرانی اور غیر ایرانی اس قابل نہ تھے کہ اس کی تردید کرتے۔مصالحہ موجود تھا غلطی فوراً رفع کی جاسکتی تھی لیکن تحقیقات کے تنگ وسعت دائرے نے لبوں پر مہرِ خاموشی لگادی۔کوئی مخالفت کی بنا پر قلم اٹھاتا تو کس بنا پر؟رفتہ رفتہ زمانے  نے ترقی کی۔۔۔پہلے یوروپ نے اس طرف قدم اٹھایا، اس نے پارسیوں کی کتاب پڑھ کر فیصلہ کیا کہ ایران میں اسلام سے پہلے شعر تھا۔ خود ایرانیون کا ادب اتنا تباہ و برباد ہو چکا تھا کہ اس سے مدد لینا ممکن نہ تھا ۔اس لیے دعوے کو سنسکرت کی مدد سے مستحکم کرنے کی کو شش کی۔‘‘ ؎۱       اپنے اسی مضمون کے آخر میں گاتھا...