بیسویں صدی کا سب سے بڑا تحفہ: اُردو سافٹ ویر
بیسویں صدی کا سب سے بڑا تحفہ اُردو سافٹ ویر رحمت یوسف زئی ’ اُردو کا رسم الخط بہت پیچیدہ ہے ‘ ’ اُردو کی سب سے بڑی کمزوری اِس کا رسم الخط ہے ‘ ’ اُردو والے جب تک اپنا رسم الخط نہیں بدلیں گے ، ترقی یافتہ اقوام میں شامل نہیں ہو سکتے۔ یہ وہ جملے ہیں جو ۷ ۴ کے بعد ‚ آج تک متواتر سنے جاتے رہے ۔ خود اُردو کے بعض اہم دانشوروں نے رسم الخط بدلنے کے لیے تجاویز پیش کیں ۔ لیکن اُردو رسم الخط کے چاہنے والوں نے ایک نہ سنی، کیوں کہ رسم الخط در اصل زبان کا لباس ہے اور اگر لباس بدل جائے تو اس کی شناخت ختم ہونا لازمی تھا ۔ تبدیلی کے لیے دو تجاویز تھیں ۔ ایک تو یہ کہ رومن رسم الخط اختیار کیا جائے ۔ تاکہ عالمی سطح پر ترسیل میں آسانی ہو ۔ اس تجویز کی بنیاد اِس بات پر تھی کہ انگریزی حروف کے ٹائپ رائٹر ہر جگہ دستیاب تھے ۔ اِس رسم الخط کے ذریعے الکٹرانک میڈیا پرٹیلی گرام ، ٹیلی پرنٹر وغیرہ کے ذریعے پیامات کو آسانی سے بھیجا جا سکتا تھا ۔ ہندوستان کے تناظر میں دوسری تجویز یہ تھی کہ دیوناگری رسم الخط کو اختیار کرلیا جائے تاکہ ملک کے طول و عرض میں ہ...