اشاعتیں

ستمبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

گزرا ہوا زمانہ از سر سید احمد خاں

گزرا ہوا زمانہ سرسید احمد خاں   برس کی اخیر رات کو ایک بڈھا اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھا ہے۔ رات بھی ڈراؤنی اور اندھیری ہے۔ گھٹا چھا رہی ہے۔ بجلی تڑپ تڑپ کر کڑکتی ہے۔ آندھی بڑے زور سے چلتی ہے، دل کانپتا ہے اور دم گھبراتا ہے۔ بڈھا نہایت غمگین ہے مگر اس کا غم نہ اندھیرے گھر پر ہے، نہ اکیلے پن پر اور نہ اندھیری رات اور بجلی کی کڑک اور آندھی کی گونج پر۔ اور نہ برس کی اخیر رات پر۔ وہ اپنے پچھلے زمانے کو یاد کرتا ہے اور جتنا زیادہ یاد آتا ہے اتنا ہی غم بڑھتا ہے۔ ہاتھوں سے ڈھکے ہوئے منہ پر آنکھوں سے آنسو بھی بہے چلے جاتے ہیں۔ پچھلا زمانہ اس کی آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے۔ اپنا لڑکپن اس کو یاد آتا ہے جب کہ اس کو کسی چیز کا غم اور کسی بات کی فکر دل میں نہ تھی۔ روپیے اشرفی کے بدلے ریوڑی اور مٹھائی اچھی لگتی تھی۔ سارا گھر، ماں باپ، بھائی بہن اس کو پیار کرتے تھے۔ پڑھنے کے لیے چھٹی کا وقت جلد آنے کی خوشی میں کتابیں بغل میں لے مکتب میں چلا جاتا تھا۔ مکتب کا خیال آتے ہی اس کو اپنے ہم مکتب یاد آتے تھے۔ وہ اور زیادہ غمگین ہوتا تھا اور بے اختیار چلا اٹھتا تھا، ’’ہائے وقت، ہائے وقت، ہائے گزرے ہوئ...

ساغر صدیقی کی ایک حکایت

تصویر
  ساغر صدیقی کے والد نے ساغر کی پسند کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ہم خاندانی لوگ ہیں، کسی تندور والے کی بیٹی کو اپنی بہو نہیں بنا سکتے۔ غصہ میں اس لڑکی کے گھر والوں نے لڑکی کی شادی پنجاب کہ ایک ضلع حافظ آباد میں کردی جو کامیاب نہ ہوئی لیکن ساغر اپنے گھر کی ۔تمام آسائش و آرام چھوڑ چھاڑ کر لاہور رہنے لگا۔ جب اس کی محبوبہ کو پتہ چلا کہ ساغر داتا دربار ہے تو وہ داتا صاحب آ گئی کافی تلاش کے بعد آ خر تاش کھیلتے ہوئے ایک نشیڑیوں کے جھڑمٹ میں ساغر مل ہی گیا۔ اس نے ساغر کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور یہ بھی بتایا کہ مجھے میرے خاونذ نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور ہماری داستان محبت سن کر مجھے طلاق دے دی ہے۔ اب اگر تم چاہو تو مجھے اپنا لو۔ ساغر نے کہا: بندہ پرور کوئی خیرات نہیں ہم وفاؤں کا صلہ مانگتے ہیں غربت، ڈپریشن، ٹینشن کی وجہ سے ساغر صدیقی کے آخری چند سال نشے میں گزرے اور وہ بھیک مانگ کر گزارہ کیا کرتے تھے۔ گلیوں میں فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے لیکن اس وقت بھی انھوں نے شاعری کرنا نہ چھوڑا۔ میری غربت نے میرے فن کا اڑا یا ہے مذاق تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی...

کمپلین نہیں شکایت

          مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائے گی  پھر کہا گیا اردو کے لیے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک صاحب زادے گویا ہوئے : This is Kamran, how can I help you ?  ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحب زادے ! ہم نے تو اردو کے لیے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے۔  اس کے  باوجود یہ انگریزی فرمانے لگے "جی بولیے ؟"  ہم نے کہا،" بولتے تو جانور بھی ہیں، انسان تو کہتا ہے" جواباً ارشاد ہوا: "جی کہیے،"  ہم نے کہا: " ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہیے تھا " فرمائیے! “  اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے: “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“ ہم نے کہا: "ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے۔ اس لیے کہ اردو کے لیے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت، اس لیے کہ اردو کے لیے ایک دبایا ہے۔"  اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا: " سر میں سمجھ گیا آپ شکایت  بتائیں۔‘‘  ہم نے کہا: " سر نہیں جناب! اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے، ش...