علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک
علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک ایران میں عروض اور شاعری سے متعلق عام خیال یہ تھا کہ یہاں شاعری کا وجود نہ تھا۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اردو کے ایک اہم عروض داں سلیم جعفر اپنے ایک مضمون ’گاتھا کا عروض ‘ میں لکھتے ہیں : ’’ایران پر پرچمِ اسلام لہرانے کے بعد ایک ادیب نے لکھا کہ ایران میں مسلمانوں کے آنے سے پہلے شعر نہ تھا ۔صدیوں تک یہ خیال دنیا میں قائم رہا۔خود ایرانی اور غیر ایرانی اس قابل نہ تھے کہ اس کی تردید کرتے۔مصالحہ موجود تھا غلطی فوراً رفع کی جاسکتی تھی لیکن تحقیقات کے تنگ وسعت دائرے نے لبوں پر مہرِ خاموشی لگادی۔کوئی مخالفت کی بنا پر قلم اٹھاتا تو کس بنا پر؟رفتہ رفتہ زمانے نے ترقی کی۔۔۔پہلے یوروپ نے اس طرف قدم اٹھایا، اس نے پارسیوں کی کتاب پڑھ کر فیصلہ کیا کہ ایران میں اسلام سے پہلے شعر تھا۔ خود ایرانیون کا ادب اتنا تباہ و برباد ہو چکا تھا کہ اس سے مدد لینا ممکن نہ تھا ۔اس لیے دعوے کو سنسکرت کی مدد سے مستحکم کرنے کی کو شش کی۔‘‘ ؎۱ اپنے اسی مضمون کے آخر میں گاتھا...