اشاعتیں

جون, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک

علمِ عروض کا ارتقا: فارسی سے اردو تک       ایران میں عروض اور شاعری سے متعلق عام خیال یہ تھا کہ یہاں شاعری کا وجود نہ تھا۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اردو کے ایک اہم عروض داں سلیم جعفر اپنے ایک مضمون ’گاتھا کا عروض ‘ میں لکھتے ہیں :           ’’ایران پر پرچمِ اسلام لہرانے کے بعد ایک ادیب نے لکھا کہ ایران میں مسلمانوں کے آنے سے پہلے شعر نہ تھا ۔صدیوں تک یہ خیال دنیا میں قائم رہا۔خود ایرانی اور غیر ایرانی اس قابل نہ تھے کہ اس کی تردید کرتے۔مصالحہ موجود تھا غلطی فوراً رفع کی جاسکتی تھی لیکن تحقیقات کے تنگ وسعت دائرے نے لبوں پر مہرِ خاموشی لگادی۔کوئی مخالفت کی بنا پر قلم اٹھاتا تو کس بنا پر؟رفتہ رفتہ زمانے  نے ترقی کی۔۔۔پہلے یوروپ نے اس طرف قدم اٹھایا، اس نے پارسیوں کی کتاب پڑھ کر فیصلہ کیا کہ ایران میں اسلام سے پہلے شعر تھا۔ خود ایرانیون کا ادب اتنا تباہ و برباد ہو چکا تھا کہ اس سے مدد لینا ممکن نہ تھا ۔اس لیے دعوے کو سنسکرت کی مدد سے مستحکم کرنے کی کو شش کی۔‘‘ ؎۱       اپنے اسی مضمون کے آخر میں گاتھا...

تین گولے۔ سعادت حسن منٹو

حسن بلڈنگز کے فلیٹ نمبر ایک میں تین گولے میرے سامنے میز پر پڑے تھے، میں غور سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا اور میرا جی کی باتیں سن رہا تھا۔ اس شخص کو پہلی بار میں نے یہیں دیکھا۔ غالباً سن چالیس تھا۔ بمبے چھوڑ کرمجھے دہلی آئے کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ وہ فلیٹ نمبر ایک والوں کا دوست تھا یا ایسے ہی چلا آیا تھا لیکن مجھے اتنا یاد ہے کہ اس نے یہ کہا تھا کہ اس کو ریڈیوا سٹیشن سے پتہ چلا تھا کہ میں نکلسن روڈ پر سعادت حسن بلڈنگز میں رہتا ہوں۔ اس ملاقات سے قبل میرے اور اس کے درمیان معمولی سی خط و کتابت ہو چکی تھی۔ میں بمبئی میں تھا، جب اس نے ادبی دنیا کے لیے مجھ سے ایک افسانہ طلب کیا تھا۔ میں نے اس کی خواہش کے مطابق افسانہ بھیج دیالیکن ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیاکہ اس کا معاوضہ مجھے ضرور ملنا چاہیے۔ اس کے جواب میں اس نے ایک خط لکھاکہ میں افسانہ واپس بھیج رہا ہوں، اس لیے کہ’’ادبی دنیا‘‘ کے مالک مفت خور قسم کے آدمی ہیں۔ افسانے کا نام، ’’موسم کی شرارت‘‘ تھا۔ اس پر اس نے اعتراض کیا تھا کہ اس شرارت کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے اسے تبدیل کردیا جائے۔ میں نے اس کے جواب میں اس کو لک...