سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل از محسن کاکوروی
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل محسن کاکوروی سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جَل گھر میں اشنان کریں سرو قدانِ گوکل جا کے جَمُنا پہ نہانا بھی ہے اِک طولِ اَمَل خبر اُڑتی ہُوئی آئی ہے مہابن میں ابھی کہ چلے آتے ہیں تیرَتھ کو ہَوا پر بادل تہ و بالا کئے دیتے ہیں ہَوا کے جھونکے بیڑے بھادوں کے نکلتے ہیں بھرے گنگا جَل کبھی ڈُوبی کبھی اچھلی مہِ نَو کی کشتی بحرِ اخضر میں طلاطم سے پڑی ہے ہلچل شبِ دیجور اندھیرے میں ہے بادل کے نہاں لیلیٰ محمل میں ہے ڈالے ہوئے منہ پر آنچل آتشِ گل کا دُھواں بامِ فلک پر پہنچا جم گیا منزلِ خورشید کی چھت میں کاجل جس طرف سے گئی بجلی پھر اُدھر آ نہ سکی قلعۂِ چرخ میں ہے بھول بھلیّاں بادل آئنہ آبِ تموّج سے بہا جاتا ہے کہیے تصویر سے گرنا نہ کہیں دیکھ سنبھل آج یہ نشوونُما کا ہے ستارہ چمکا شاخ میں کاہکشاں کہ نکل آئی کوپل خضر فرماتے ہیں سنبل سے تِری عمر دراز پھول سے کہتے ہیں پھلتا رہے گلزارِ اَمَل دیکھتے دیکھتے بڑھ جاتی ہے گلشن کی بہار دیدۂِ نرگسِ شہلا کو نہ سمجھو ا...