اشاعتیں

مارچ, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Sar Mundate hi...Pade

Azmi's: सर मुंडाते ही ...पड़े : सर मुंडाते ही ...पड़े शाम का वक्त है और मैं अपने आंगन में लेटा, अपने आप में गुम,  सुर और ताल के साथ गुनगुना रहा हूँ: मेरी ख़ब्तुलहवास...

Azeez Lakhnavi ki ghazal goyi

عزیز لکھنوی کی غزل گوئی ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس ہوتا ہے۔ یہ خارجی حقیقتوں کو داخلی آئینے میں پیش کرتا ہے۔ ادب میں انسانی زندگی کی تصویر اس طرح پیش کی جاتی ہے کہ اس میں انسانی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ مشاہدات،تجربات اور خیالات کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں۔ شاعر یا ادیب کا تعلق کسی نہ کسی ایک سماج اور کسی ایک ملک سے ضرور ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سماج کی رسموں اور تہذیب کا،جس میں کہ ادیب پیدا ہوا اور پلا بڑھا ہے،کا اثرادیب پرہونا لازم ہے۔ چوں کہ شاعری بھی اظہار کا ایک ذریعہ ہے، اس لیے طلبہ میں اس کا ذوق و شعور پیدا کرنے، ا ن میں شعر فہمی کو ابھارنے کے لیے شاعری کا درس دیا جاتا ہے۔ اس کے مطالعے سے طلبہ میں نہ صرف شعری ذوق پیدا ہوتا ہے بلکہ ان میں اپنی تہذیب اور زبان سے ایک لگاؤ پیدا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی وہ زبان کی باریکیوں، لفظوں کے در و بسط اور شعری محاسن سے بھی واقف ہوتے جاتے ہیں۔ دبستانِ لکھنؤ کی خدمات اردو شاعری کے تعلق سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ چند کمیوں کو اگر نظر انداز کر کے دیکھا جائے تو ہمیں اس میں بہت سی خوبیاں بھی نظر آئیں گی۔ ان کمیوں سے الگ اس کا ایک ایسا کارنامہ ہے، جس ک...

Aarzu Lakhnavi ki Ghazal Goyi

آرزوؔ لکھنوی کی غزل گوئی اردو شاعری کی تاریخ میں دبستان لکھنؤ کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ شاعری کی تمام اصناف سخن میں ریختی اور معاملہ بندی کو چھوڑ کر اس دبستان نے اردو زبان کی جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس کا اعتراف تمام اہل اردو کو ہے۔ اردو شاعری کی ابتدا سے دورِ حاضر تک غزل ہمیشہ ہی شاعروں کی پسندیدہ صنف سخن رہی ہے۔ترقی پسند تحریک کے دور میں کئی ادبیوں نے غزل کی گردن زدنی کا اعلا ن کیا لیکن اس دور میں بھی اصغرؔ گونڈوی، فانی  بدایونی، اقبال سہیل، حسرتؔ موہانی اور جگرؔ مرادآبادی نے یہ ثابت کر دیا کہ غزل ہمیشہ وقت کے ساتھ رہی ہے اور رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ غزل ہمیشہ سے اردو کی تمام اصناف سخن میں سب سے زیادہ مقبول صنف رہی ہے اور شاید آئندہ بھی رہے گی۔ غالبا غزل کے اسی کس بل کو دیکھتے ہوئے اسے اردو شاعری کی آبرو کہا گیا ہے۔ اردو شاعری کی اسی مقبول ترین صنف کو آرزوؔ لکھنوی نے اپنی طبع آزمائی کے لیے منتخب کیا اور اپنی جولانیٔ طبع کے جوہر دکھائے۔ ویسے تو انہو ں نے اپنی طبعِ رساکا جوہر دکھانے کے لیے قصیدہ، مثنوی، رباعی، قطعہ، مرثیہ اور سلام بھی بہ کثرت کہے ہیں، جن کے دیکھنے ...

تجھ لب کی صفت لعلِ بدخشاں سوں کہوں گا کی تشریح و تفہیم

ولی کی غزل تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا تشریح و وضاحت: اس شعر کو پڑھتے ہی ہمارے ذہن میں میر کا یہ شعر فوراً رقص کرنے لگتا ہے: ہستی اپنی حباب کی سی ہے               یہ نمائش سراب کی سی ہے ا س کی وجہ یہ ہے کہ ولی اور میر دونوں ہی شعرأ کی غزلوں کے مطلعوں میں تشبیہ کا استعمال ہوا ہے۔ ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں تشبیہ کا استعمال ہوا ہو۔ شاید میر نے ولی  کے مذکورہ شعر سے متاثر ہو کر اپنی غزل کے مطلعے میں ولی ہی کی طرح تشبیہ کا استعمال کیا ہو۔ شعر زیرِ بحث میں شاعر نے اپنے محبوب کی تعریف کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو بدخشاں کے لعل سے تشبیہ دی ہے ۔ (بدخشاں کا علاقہ اس وقت افغانستان اور تاجکستان، دونوں ملکوں میں منقسم ہے۔)  اس کے دو پہلو ممکن ہیں۔ اول: محبوب کے ہونٹ لعل بدخشاں کی مانند سرخ ہیں۔ دوم: محبوب کے ہونٹ لعل بدخشاں ہی کی مانند قیمتی اور پر کشش ہیں۔ لعل بدخشاں سے مراد وہ ہیرا؍پتھر ہے، جس کی رنگت سرخ ہے جو کہ بدخشاں میں پ...

Asghar gondwi ki ghazlon me falasafa-o-tasawwuf

اصغر گونڈوی کی غزلوں میں فلسفہ و تصوف اصغرٓ گونڈوی کا شمار جدید غزل کے معماروں میں ہوتا ہے۔ اردو غزل پر بیسویں صدی کے اوائل میں جب بپتا پڑی اوراسے گردن زدنی قرار دیا گیا تو اس میں ایک نئی جان پھونکنے کے ساتھ ہی ساتھ اس کی عظمت کو برقرار رکھنے میں، جن لوگوں نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں اصغر کا نام سرِفہرست ہے۔ اصغر کے علاوہ اس کام میں حسرت موہانی، فانی بدایونی، اقبال سہیل اور جگرمرادآبادی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان لوگوں نے جدید غزل کو وقت کے ساتھ چلنے کا ہنر بخشا۔ اصغر کی غزلوں کی سب سے بڑی خوبی اخلاق کی بلندی ہے۔ ان کی شاعری نے اور کوئی کام کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن ہم کو شریف انسان بنانے کی جو کوشش ان کے یہاں ملتی ہے، کسی دوسرے شاعر کے یہاں مشکل سے ہی ملے گی۔ اصغرگونڈوی یکم مارچ ۱۸۸۴ کوگورکھپور کے محلے الٰہی باغ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصلی نام اصغر حسین تھا۔ ان کے والد مولوی تفضل حسین قانون گو تھے۔ لہٰذا جب ان کا تبادلہ گورکھپور سے گونڈہ ہوا تو ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ گونڈہ چلے آئے۔ اصغر کی ابتدائی تعلیم گونڈہ ہی میں ہوئی۔ انہوں نے۱۸۹۸ میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں ...