اشاعتیں

مئی, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بچھو پھوپھی۔ عصمت چغتائی

بچھو پھوپھی عصمت چغتائی جب پہلی بار میں نے انہیں دیکھا تو وہ رحمان بھائی کے پہلے منزلے کی کھڑکی میں بیٹھی لمبی لمبی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھیں۔ یہ کھڑکی ہمارے صحن میں کھلتی تھی اور قانونا اسے بند رکھا جاتا تھا کیوں کہ پردے والی بی بیوں کا سامنا ہونے کا ڈر تھا۔ رحمان بھائی رنڈیوں کے جمعدار تھے، کوئی شادی بیاہ، ختنہ، بسم اللہ کی رسم ہوتی، رحمان بھائی اونے پونے ان رنڈیوں کو بلا دیتے اور غریب کے گھر میں بھی وحید جان، مشتری بائی اور انوری کہروا ناچ جاتیں۔ مگر محلے ٹولے کی لڑکیاں بالیاں ان کی نظر میں اپنی سگی ماں بہنیں تھیں۔ ان کے چھوٹے بھائی بندو اور گیندا آئے دن تاک جھانک کے سلسلہ میں سر پھٹول کیا کرتے تھے، ویسے رحمان بھائی محلے کی نظروں میں کوئی اچھی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی بیوی کی زندگی ہی میں اپنی سالی سے جوڑ توڑ کر لیا تھا۔ اس یتیم سی سالی کا سوائے اس بہن کے اور کوئی مرا جیتا نہ تھا۔ بہن کے ہاں پڑی تھی۔ اس کے بچے پالتی تھی۔ بس دودھ پلانے کی کسر تھی۔ باقی ساراگو موت وہی کرتی تھی۔ اور پھر کسی نک چڑھی نے اسے بہن کے بچے کے منہ میں ایک دن چھاتی دیتے دیکھ لیا۔ بھانڈا پھوٹ گیا ا...