اشاعتیں

ستمبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فانی بدایونی (شوکت علی خاں)

 ﺷﻮﮐﺖ ﻋﻠﯽ  خاں,  ﻓﺎﻧﯽ  بدایونی  13/ ستمبر 1879ﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺍﯾﻮں ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻓﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﺠﺎﻋﺖ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﻥ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﭙﮑﭩﺮ ﺗﮭﮯ۔  ﺭﻭﺵ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺮﺑﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ 1901ﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﯾﻠﯽ ﺳﮯ ﺑﯽ ﺍﮮ ﮐﯿﺎ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﭽھ ﻋﺮﺻﮧ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍرﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺳﺨﻦ ﮐﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯿﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺴﻠﯽ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺑﻨﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔ 1908ﺀ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﮔﮍﮪ ﺳﮯ ﺍﯾﻞ ﺍﯾﻞ ﺑﯽ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﭘﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮐﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﺸﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﺮﻑ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻭﮐﺎﻟﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭽھ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﺮﯾﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮑﮭﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﮑﭩﺲ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺅ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺤﯿﺜﯿﺖ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻭﮐﯿﻞ ﺛﺎﺑﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﻓﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﯼ مگرﺟﺲ ﻭﻗﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺍﺥ ﺩﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗھ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﻮ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮩیں ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺣﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﮩﺎﺭﺍﺟﮧ ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﭩﯿﭧ ﺳﮯ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯼ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺤﮑﻤۂ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺭﻓﯿﻘۂ ﺣﯿﺎﺕ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ۔ 1933 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﮞ ﺳ...

راتوں کو جاگ کر دن میں سونے والی قوم کا انجام

راتوں کو جاگ کر دن میں سونے والی قوم کا انجام    (فکر انگیز تحریر) بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اس کے سامنے کیوں پیش کیے گئے؟  قبر کے لیے زمین کی جگہ کیوں نہیں ملی؟  آج بھی اس کی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں؟   کیوں؟ پڑھیں اور اپنی نسل کو بھی بتائیں۔ تباہی 1 دن میں نہیں آجاتی: صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد درج ذیل تحریر کو غور سے پڑھیں۔ زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے اور مقام دلی ہے۔  وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے۔ سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے۔ پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری، دونوں ڈرل کے لیے جاگ گئے ہیں. دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت، انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں۔ انگریز عورتیں گھوڑسواری کو نکل گئی ہیں۔ سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے۔  کوتوالی اور شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے۔  بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج ...

غبار خاطر میں چائے کا ذکر

 مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں: "چائے چین کی پیداوار ہے اور چینیوں کی تصریح کے مطابق پندرہ سو برس سے استعمال کی جا رہی ہے لیکن وہاں کبھی کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں گزری کہ اس جوہرِ لطیف کو دودھ کی کثافت سے آلودہ کیا جا سکتا ہے۔ جن جن ملکوں میں چین سےبراہ راست گئی مثلاً روس، ترکستان، ایران۔ وہاں کبھی بھی کسی کو یہ خیال نہیں گزرا۔ مگر سترھویں صدی میں جب انگریز اس سے آشنا ہوئے تو نہیں معلوم ان لوگوں کو کیا سوجھی، انہوں نے دودھ ملانے کی بدعت ایجاد کی۔ اور چونکہ ہندوستان میں چائے کا رواج انہی کے ذریعے ہوا اس لیے یہ بدعتِ سیئہ یہاں بھی پھیل گئی۔ رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ لوگ چائے میں دودھ ڈالنے کی جگہ دودھ میں چائے ڈالنے لگے۔ بنیاد ظلم در جہاں اندک بود۔ ہر کہ آمد براں مزید کرد۔ اب انگریز تو یہ کہہ کر الگ ہو گئے کہ زیادہ دودھ نہیں ڈالنا چاہیے، لیکن ان کے تخمِ فساد نے جو برگ و بار پھیلا دیے ہیں، انہیں کون چھانٹ سکتا ہے؟ لوگ چائے کی جگہ ایک طرح کا سیال حلوہ بناتے ہیں۔ کھانے کی جگہ پیتے ہیں، اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے چائے پی لی۔ ان نادانوں سے کون کہے کہ: ہائے کمبخت،...