اشاعتیں

محبت کے وقت عورت کے دماغ اور جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں — سائنسی راز

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے وجود کو بدل دیتا ہے، لیکن سائنس کہتی ہے کہ جب ایک عورت محبت میں مبتلا ہوتی ہے تو صرف دل نہیں بلکہ اس کا پورا جسم، دماغ اور ہارمونز کا نظام بدلنے لگتا ہے۔ محبت عورت کے احساسات، سوچ، نیند، کھانے، حتیٰ کہ چہرے کے تاثرات تک پر اثر ڈالتی ہے۔ یہ تبدیلیاں صرف جذباتی نہیں بلکہ مکمل سائنسی حقیقت ہیں جنہیں جدید تحقیقات نے واضح کیا ہے۔ جب عورت کسی سے محبت کرتی ہے، تو اس کے دماغ میں ایک خاص کیمیائی تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ **ڈوپامین (Dopamine)** نامی ہارمون تیزی سے خارج ہوتا ہے، جو خوشی، دلچسپی اور جذبے کو بڑھاتا ہے۔ یہی ہارمون عورت کو اُس شخص کی طرف زیادہ متوجہ کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتی ہے۔ اس لمحے عورت کے دماغ کا "Reward System" فعال ہو جاتا ہے — وہ ہر لمحہ اُس شخص سے تعلق میں خوشی محسوس کرتی ہے اور اس کے ساتھ رہنے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، دماغ میں **آکسی ٹوسن (Oxytocin)** کا اخراج بھی بڑھ جاتا ہے، جسے محبت اور تعلقات کا ہارمون کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون عورت کو جذباتی طور پر مضبوطی سے باندھ دیتا ہے۔ اسی لیے عورت جب کسی کو دل سے ...

اردو کے تازہ اعداد و شمار

 کیا انڈیا میں اردو کا جنازہ نکل رہا ہے؟ کیا اردو صرف مشاعروں، ادبی محفلوں تک محدود ہو گئی ہے؟ کیا ہندوستان میں اردو بولنے/جاننے والے کم یا ختم ہوتے جا رہے ہیں؟ کیا قومی/ریاستی سرکاری، نیم سرکاری و غیرسرکاری سطح پر اردو کی ترویج، یا اس کے فروغ کے کاز صفر ہیں؟ کیا تعلیم و تدریس کے میدان میں اردو درسی کتب یا مواد کا مکمل فقدان ہے؟ کیا موجودہ تکنیکی و مواصلائی ذرائع سے اردو کی ترویج مناسب و موزوں سطح پر نہیں کی جا رہی؟ کیا سرکاری و خانگی اردو ادارے اردو کی ترویج و فروغ کے حوالے سے مکمل غیرسنجیدہ ہیں؟ یہ سوالات کڑوے ضرور ہیں مگر ان کے جوابات تحقیقی سطح پر اعداد و شمار کے ذریعے نہیں دئے جاتے بلکہ اکثر و بیشتر جذباتی پروپگنڈہ کیا جاتا ہے جس سے منفیت کا رجحان قوی سے قوی تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آئیے ہم معروضی سطح پر ایک عمومی جائزہ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تاکہ صورتحال کا مکمل نہ سہی کچھ نہ کچھ درست اندازہ ہو سکے۔ 1) قومی سرکاری سطح پر، متعدد اداروں کی ویب سائٹس کے اردو ورژن موجود ہیں مثلاً پریس انفارمیشن بیورو، این سی پی یو ایل، وزیراعظم ہند، انڈیا پوسٹل ڈپارٹمنٹ وغیرہ 2) وہ ریاستیں جہاں اردو بحیثی...

مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت

 مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت  یہودیوں میں: یہودی عورت کو آدم کے جنت سے نکالے جانے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک عورت حیض کے دوران ناپاک ہوتی ہے اور ان کے پاس اسے بیچنے اور وراثت سے محروم کرنے کا حق تھا۔ انہوں نے عورت پر انتہائی ظلم کیا اور اسے حقوق سے محروم رکھا۔ ان کے مطابق عورت ایک لعنت ہے کیونکہ اس نے آدم کو ورغلایا۔ تورات میں آیا ہے: "عورت موت سے بھی زیادہ تلخ ہے، اور جو اللہ کے سامنے نیک ہے وہ اس سے بچ جائے گا۔"  مسیحیوں میں: عورت انسان ہے لیکن اسے مرد کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ان کی روح جہنم کے عذاب سے بچنے والی روح سے خالی ہے، سوائے "مسیح کی ماں" کے۔  قدیم ہندوؤں میں: ہندو عورتیں اگر ان کے شوہر مر جاتے تو انہیں شوہر کی لاش کے ساتھ آگ میں جلا دیا جاتا تھا، اور بعض اوقات انہیں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔  چینی اور جاپانیوں میں: چینیوں کے نزدیک عورت کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی اور اسے "دردناک پانی" کہتے تھے۔ عورت کو مرد کے گھر میں برائی سمجھا جاتا تھا جسے وہ جب چاہے نکال سکتا تھا۔ شوہر کے مرنے پر اسے گھر میں جانوروں کی طرح خدمت کے لیے رکھا...

ازدواجی شکوہ اور جواب شکوہ

 _*ازدواجی "شکوہ اور جواب شکوہ"*_ کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں زن مریدی ہی کروں میں اور مدہوش رہوں طعنے بیگم کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں کوئی بزدل ہوں کہ خاموش رہوں جرات آموز مری تاب ِسخن ہے مجھکو شکوہ اک زوجہ سے ! خاکم بدہن ہے مجھکو تجھکو معلوم ہے لیتا تھا کوئی رشتہ ترا سر پٹختے ہوئے پھرتا تھا کبھی اّبا ترا کس قدر خوش تھا میں جس دن تیرا ڈولا نکلا تیرا ڈولا تو مگر موت کا گولا نکلا تو جو سوتی ہے تو سالن بھی پکاتا ہوں میں ٹیپو روتا ہے تو فیڈر بھی بناتا ہوں میں گڈی جاگے ہے تو جھولا بھی جھلاتا ہوں میں پّپو اٹھ بیٹھے جو راتوں کو کھلاتا ہوں میں پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں میں وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں ھےبجا حلقہ ازواج میں مشہور ھوں میں تیرا بیرا، تیرا دھوبی ، تیرا مزدور ھوں میں زن مریدی کا شرف پاکے بھی رنجور ھوں میں قصہ درد سناتا ھوں کہ مجبور ھوں میں میری مخدومہ میرے غم کی حکایت سن لے ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سن لے زچہ بن بن کے بجٹ میرا گھٹایا تو نے ھر نۓ سال نیا گل ھے کھلایا تو نے رشتہ داروں نے تیرے ، جان میری کھائ ھے فوج کی فوج میرے گھرمیں ج...

زخم ہمارے گننا

 مشق کرنے کے لئے پہلے ستارے گننا  گنتی آجائے تو پھر زخم ہمارے گننا  تم جو خبریں دیے جاتے ہو کہ سب اچھا ہے  اپنی بستی میں کبھی درد کے مارے گننا  بھول مت جانا گُلوں اور پرندوں کو، میاں ! اپنے احباب جو گننے ہوں تو سارے گننا  یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ شکایت کریں ہم  ہمیں آتا ہی نہیں ظلم تمہارے گننا  ویسے کم گو ہُوں مگر تم کبھی فرصت پا کر  میری خاموش نگاہوں کے اشارے گننا  گر نبھانا ہے محبت کا تعلق، مرے دوست !  فائدے گننے سے پہلے نہ خسارے گننا  محکمے غم کے بہت، دُکھ کے دفاتر ہیں کئی  ملکِ دل میں کبھی اشکوں کے ادارے گننا  جلنے والوں کے تُو جُملے نہ گنا کر فارس  غیر ممکن ہے جہنم کے شرارے گننا

مہاجر نامہ۔ منور رانا

 مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں  نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں  عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں  کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں  پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں  یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں  ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں  گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں  ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں  کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں  شکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی...

ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات۔ ریاض خیرآبادی

 ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات جاگیں تمام رات جگایئں تمام رات ان کی جفایئں یاد دلایئں تمام رات وہ دن بھی ہو کہ ان کو ستایئں تمام رات زاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے میکش اسے شراب پلایئں تمام رات اے قیس بے قرار ہےکچھ کوہ کن کی روح آتی ہے بے ستوں سے صدایئں تمام رات تا صبح میکدے سے رہی بوتلوں کی مانگ برسیں کہاں یہ کالی گھٹایئں تمام رات خلوت ہے بے حجاب ہیں وہ جل رہی ہے شمع  اچھا ہے اس کو اور جلایئں تمام رات شب بھر رہے کسی سے ہم آغوشیوں کے لطف ہوتی رہیں قبول دعایئں تمام رات  دابے رہے پروں سے نشیمن کو رات بھر کیا کیا چلی ہیں تیز ہوایئں تمام رات کاٹا ہے سانپ نے ہمیں سونے بھی دو ریاضؔ ان گیسوؤں کی لی ہے بلایئں تمام رات   جناب ریاض خیر آبادی