چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے۔ قمر جلال آبادی

چھوٹی سی بے رخی پہ شکایت کی بات ہے

اور وہ بھی اس لیے کہ محبت کی بات ہے

میں نے کہا کہ آئے ہو کتنے دنوں کے بعد

کہنے لگے حضور یہ فرصت کی بات ہے

میں نے کہا کی مل کے بھی ہم کیوں نہ مل سکے

کہنے لگے حضور یہ قسمت کی بات ہے

میں نے کہا کہ رہتے ہو ہر بات پر خفا

کہنے لگے حضور یہ قربت کی بات ہے

میں نے کہا کہ دیتے ہیں دل تم بھی لاؤ دل

کہنے لگے کہ یہ تو تجارت کی بات ہے

میں نے کہا کبھی ہے ستم اور کبھی کرم

کہنے لگے کہ یہ تو طبیعت کی بات ہے


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا کی تشریح

ارسطو کے تنقیدی نظریات

چند معروضی سوالات اور ان کے جواب