جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے

 جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے


 جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے

وہاں تک چاہیے بچنا *دوا* سے


اگر *خوں* کم بنے، *بلغم* زیادہ

تو کھا *گاجر، چنے ، شلغم* زیادہ


*جگر کے بل* پہ ہے انسان جیتا

اگر ضعف جگر ہے کھا *پپیتا*


*جگر* میں ہو اگر *گرمی* کا احساس

*مربّہ آملہ* کھا یا *انناس*


اگر ہوتی ہے *معدہ* میں گرانی

تو پی لے *سونف یا ادرک* کا پانی


تھکن سے ہوں اگر *عضلات ڈھیلے*

تو فوراََ *دودھ گرما گرم* پی لے


جو دکھتا ہو *گلا نزلے* کے مارے

تو کر *نمکین* پانی کے *غرارے*


اگر ہو درد سے *دانتوں* کے بے کل

تو انگلی سے *مسوڑوں* پر *نمک* مَل


جو *طاقت* میں *کمی* ہوتی ہو محسوس

تو *مصری کی ڈلی ملتان* کی چوس


شفا چاہیے اگر *کھانسی* سے جلدی

تو پی لے *دودھ میں تھوڑی سی ہلدی*


اگر *کانوں* میں تکلیف ہووے

تو *سرسوں* کا تیل پھائے سے نچوڑے


اگر *آنکھوں* میں پڑ جاتے ہوں *جالے*

تو *دکھنی مرچ گھی* کے ساتھ کھا لے


*تپ دق* سے اگر چاہے رہائی

بدل پانی کے *گّنا چوس* بھائی


*دمہ* میں یہ غذا بے شک ہے اچھی

*کھٹائی* چھوڑ کھا دریا کی *مچھلی*


اگر تجھ کو لگے *جاڑے* میں سردی

تو استعمال کر *انڈے کی زردی*


جو *بد ہضمی* میں تو چاہے افاقہ

تو *دو اِک وقت* کا کر لے تو *فاقہ*


حکیم سعید صاحب مرحوم

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا کی تشریح

ارسطو کے تنقیدی نظریات

چند معروضی سوالات اور ان کے جواب