اشاعتیں

آج ساقی شراب رہنے دو۔ محسن نقوی

 آج ساقی شراب رہنے دو تشنگی کے عذاب رہنے دو پوچھ ڈالو نہ آنکھ سے کاجل کچھ تو خنجر پہ آب رہنے دو تم سنوارو نہ اپنی زلفوں کو میری حالت خراب رہنے دو چاند بادل میں اچھا لگتا ہے آدھے رُخ پر نقاب  رہنے  دو اُن کے چہرے کی بات ہوجائے آج   ذکرِ   گلاب   رہنے    دو اُن کی چوکھٹ کو چُوم لو محسن باقی   سارے   ثواب   رہنے   دو  ✍ محسن نقوی

یہ کُھلے کُھلے سےگِیسو، اِنھیں لاکھ تُو سنوارے

 آغا حشر کاشمیری سُوئے میکدہ نہ جاتے،تو کُچھ اور بات ہوتی وہ نِگاہ سے پِلاتے، تو کُچھ اور بات ہوتی گو ہَوائے گُلسِتاں نےمِرے دِل کی لاج رکھ لی وہ نقاب خود اُٹھاتے،تو کُچھ اور بات ہوتی یہ بَجا،کلی نے کِھل کر کیا گُلسِتاں مُعَطّر ! اگر آپ مُسکراتے،تو کُچھ اور بات ہوتی یہ کُھلے کُھلے سےگِیسو، اِنھیں لاکھ تُو سنوارے مِرے ہاتھ سے سنورتے،تو کُچھ اور بات ہوتی گو حَرَم کے راستے سے،وہ پہنچ گئے خُدا تک تِری رہگُزر سے جاتے،تو کُچھ اور بات ہوتی آغا حشر کاشمیری

استفہام، گنجینۂ معنیٰ کا طلسم اور غالبؔ

 استفہام، گنجینۂ معنی کا طلسم اور غالبؔ غالبؔ کی تفہیم کا سلسلہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے ۔ اس عرصے میں کتنے ہی دانشور، شارحین اورمحققین نے غالبؔ کی شاعری کی مختلف جہا ت کا احاطہ کر نے کی کوششیں کیں لیکن کیا ان مفا ہیم تک ان شارحین کی رسائی ممکن ہو سکی؟ جوکہ شاعر کا اصل مدعا تھا ۔ کیا حقیقت میں ان مفاہیم تک شارحین پہنچ سکے جوکہ شاعر بیان کرنا چاہتا تھا؟ کیوں کہ دیوانِ غالبؔ کی تقریباً دو درجن شرحیں لکھی گئی ہیں۔ اگر کسی ایک کی تشریح و تفہیم سے دوسرا سخن شناس مطمئن ہوتا تو شاید مزید تشریح کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عہد میں سخن فہم حضرات نے غالبؔ کو اپنے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کو ششیں کی ہیں اوراس سلسلے کے آئندہ بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے ۔  یہاں غالب ؔ ، استفہام اور گنجینۂ معنی کا طلسم جیسے موضوع کا انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انھیں کبھی خدائے سخن، کبھی عظیم شاعر تو کبھی فلسفی کہا گیا ہے۔ راقم کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب ؔ کی شاعری میں معنوی تہہ داری، استفہام، جذبے کی شدت، شعری محاسن، زندگی کے ایک ایک پل کا انوکھا اظہار وغیرہ ایسی چیزی...

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو۔ قمر جلالوی

 منتخب کلام  قمر جلالوی  کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو چمن میں جانا تو صیّاد دیکھ بھال آنا اکیلا چھوڑ کے آیا ہوں آشیانے کو چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو ۔۔۔۔ مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے" مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسل...

پرایا گھر۔ جیلانی بانو

تمام گھر ایک جیسے ہیں، کہیں میں کسی اور گھر میں نہ پہنچ جاؤں۔ جب وہ مجھے ہاسپٹل سے گھر لے جارہے تھے تو میں بار بار یہی سوچ رہا تھا۔ ہسپتال کے ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ کار کے حادثے میں مجھے شدید چوٹ آئی تھی۔ مگر وہ سب جھوٹے ہیں، اگر مجھے چوٹ لگی تھی تو اس کااحساس کیوں نہ ہوا۔ وہ سب مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھتے رہے اور ہر وقت میرے بستر کے پاس پہرہ دیتے رہتے تھے جیسے میں اٹھ کر کہیں بھاگنے والا ہوں۔ آخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ وہ لوگ مجھے جانے کس پرائے گھر میں چھوڑ گئے، جیسے ہی مجھے سب نے پکڑ کر بستر پر لٹایا کوئی عورت زور زور سے چلانے لگی، ’’ہائے یہ کیا ہوگیا۔ نہیں نہیں، یہ میرا حامد نہیں ہوسکتا۔ اسے کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اور پھرکسی بچے نے پوچھا، ’’امی یہ چادر اوڑھے کون لیٹا ہے، ابا کے پلنگ پر؟‘‘ اب تو اس میں کوئی شک نہ رہا کہ میں غلطی سے کسی اور کے گھر میں آگیا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اسی بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ اگرمیں بھول کر کسی اور کے گھر میں گھس جاؤں تو کیا ہوگا؟ کہیں گھر کے مرد نہ آجائیں۔۔۔ چلو بھاگو، بھاگو۔ مگر لوگ مجھے چاروں طرف سے پکڑے بیٹھے ہیں۔ ’’چپ رہو۔۔۔ چپ رہو بھابی۔‘‘ دوسرے کمرے میں ک...

محبت کے وقت عورت کے دماغ اور جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں — سائنسی راز

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے وجود کو بدل دیتا ہے، لیکن سائنس کہتی ہے کہ جب ایک عورت محبت میں مبتلا ہوتی ہے تو صرف دل نہیں بلکہ اس کا پورا جسم، دماغ اور ہارمونز کا نظام بدلنے لگتا ہے۔ محبت عورت کے احساسات، سوچ، نیند، کھانے، حتیٰ کہ چہرے کے تاثرات تک پر اثر ڈالتی ہے۔ یہ تبدیلیاں صرف جذباتی نہیں بلکہ مکمل سائنسی حقیقت ہیں جنہیں جدید تحقیقات نے واضح کیا ہے۔ جب عورت کسی سے محبت کرتی ہے، تو اس کے دماغ میں ایک خاص کیمیائی تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ **ڈوپامین (Dopamine)** نامی ہارمون تیزی سے خارج ہوتا ہے، جو خوشی، دلچسپی اور جذبے کو بڑھاتا ہے۔ یہی ہارمون عورت کو اُس شخص کی طرف زیادہ متوجہ کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتی ہے۔ اس لمحے عورت کے دماغ کا "Reward System" فعال ہو جاتا ہے — وہ ہر لمحہ اُس شخص سے تعلق میں خوشی محسوس کرتی ہے اور اس کے ساتھ رہنے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، دماغ میں **آکسی ٹوسن (Oxytocin)** کا اخراج بھی بڑھ جاتا ہے، جسے محبت اور تعلقات کا ہارمون کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون عورت کو جذباتی طور پر مضبوطی سے باندھ دیتا ہے۔ اسی لیے عورت جب کسی کو دل سے ...

اردو کے تازہ اعداد و شمار

 کیا انڈیا میں اردو کا جنازہ نکل رہا ہے؟ کیا اردو صرف مشاعروں، ادبی محفلوں تک محدود ہو گئی ہے؟ کیا ہندوستان میں اردو بولنے/جاننے والے کم یا ختم ہوتے جا رہے ہیں؟ کیا قومی/ریاستی سرکاری، نیم سرکاری و غیرسرکاری سطح پر اردو کی ترویج، یا اس کے فروغ کے کاز صفر ہیں؟ کیا تعلیم و تدریس کے میدان میں اردو درسی کتب یا مواد کا مکمل فقدان ہے؟ کیا موجودہ تکنیکی و مواصلائی ذرائع سے اردو کی ترویج مناسب و موزوں سطح پر نہیں کی جا رہی؟ کیا سرکاری و خانگی اردو ادارے اردو کی ترویج و فروغ کے حوالے سے مکمل غیرسنجیدہ ہیں؟ یہ سوالات کڑوے ضرور ہیں مگر ان کے جوابات تحقیقی سطح پر اعداد و شمار کے ذریعے نہیں دئے جاتے بلکہ اکثر و بیشتر جذباتی پروپگنڈہ کیا جاتا ہے جس سے منفیت کا رجحان قوی سے قوی تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آئیے ہم معروضی سطح پر ایک عمومی جائزہ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تاکہ صورتحال کا مکمل نہ سہی کچھ نہ کچھ درست اندازہ ہو سکے۔ 1) قومی سرکاری سطح پر، متعدد اداروں کی ویب سائٹس کے اردو ورژن موجود ہیں مثلاً پریس انفارمیشن بیورو، این سی پی یو ایل، وزیراعظم ہند، انڈیا پوسٹل ڈپارٹمنٹ وغیرہ 2) وہ ریاستیں جہاں اردو بحیثی...

مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت

 مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت  یہودیوں میں: یہودی عورت کو آدم کے جنت سے نکالے جانے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک عورت حیض کے دوران ناپاک ہوتی ہے اور ان کے پاس اسے بیچنے اور وراثت سے محروم کرنے کا حق تھا۔ انہوں نے عورت پر انتہائی ظلم کیا اور اسے حقوق سے محروم رکھا۔ ان کے مطابق عورت ایک لعنت ہے کیونکہ اس نے آدم کو ورغلایا۔ تورات میں آیا ہے: "عورت موت سے بھی زیادہ تلخ ہے، اور جو اللہ کے سامنے نیک ہے وہ اس سے بچ جائے گا۔"  مسیحیوں میں: عورت انسان ہے لیکن اسے مرد کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ان کی روح جہنم کے عذاب سے بچنے والی روح سے خالی ہے، سوائے "مسیح کی ماں" کے۔  قدیم ہندوؤں میں: ہندو عورتیں اگر ان کے شوہر مر جاتے تو انہیں شوہر کی لاش کے ساتھ آگ میں جلا دیا جاتا تھا، اور بعض اوقات انہیں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔  چینی اور جاپانیوں میں: چینیوں کے نزدیک عورت کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی اور اسے "دردناک پانی" کہتے تھے۔ عورت کو مرد کے گھر میں برائی سمجھا جاتا تھا جسے وہ جب چاہے نکال سکتا تھا۔ شوہر کے مرنے پر اسے گھر میں جانوروں کی طرح خدمت کے لیے رکھا...

ازدواجی شکوہ اور جواب شکوہ

 _*ازدواجی "شکوہ اور جواب شکوہ"*_ کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں زن مریدی ہی کروں میں اور مدہوش رہوں طعنے بیگم کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں کوئی بزدل ہوں کہ خاموش رہوں جرات آموز مری تاب ِسخن ہے مجھکو شکوہ اک زوجہ سے ! خاکم بدہن ہے مجھکو تجھکو معلوم ہے لیتا تھا کوئی رشتہ ترا سر پٹختے ہوئے پھرتا تھا کبھی اّبا ترا کس قدر خوش تھا میں جس دن تیرا ڈولا نکلا تیرا ڈولا تو مگر موت کا گولا نکلا تو جو سوتی ہے تو سالن بھی پکاتا ہوں میں ٹیپو روتا ہے تو فیڈر بھی بناتا ہوں میں گڈی جاگے ہے تو جھولا بھی جھلاتا ہوں میں پّپو اٹھ بیٹھے جو راتوں کو کھلاتا ہوں میں پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں میں وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں ھےبجا حلقہ ازواج میں مشہور ھوں میں تیرا بیرا، تیرا دھوبی ، تیرا مزدور ھوں میں زن مریدی کا شرف پاکے بھی رنجور ھوں میں قصہ درد سناتا ھوں کہ مجبور ھوں میں میری مخدومہ میرے غم کی حکایت سن لے ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سن لے زچہ بن بن کے بجٹ میرا گھٹایا تو نے ھر نۓ سال نیا گل ھے کھلایا تو نے رشتہ داروں نے تیرے ، جان میری کھائ ھے فوج کی فوج میرے گھرمیں ج...

زخم ہمارے گننا

 مشق کرنے کے لئے پہلے ستارے گننا  گنتی آجائے تو پھر زخم ہمارے گننا  تم جو خبریں دیے جاتے ہو کہ سب اچھا ہے  اپنی بستی میں کبھی درد کے مارے گننا  بھول مت جانا گُلوں اور پرندوں کو، میاں ! اپنے احباب جو گننے ہوں تو سارے گننا  یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ شکایت کریں ہم  ہمیں آتا ہی نہیں ظلم تمہارے گننا  ویسے کم گو ہُوں مگر تم کبھی فرصت پا کر  میری خاموش نگاہوں کے اشارے گننا  گر نبھانا ہے محبت کا تعلق، مرے دوست !  فائدے گننے سے پہلے نہ خسارے گننا  محکمے غم کے بہت، دُکھ کے دفاتر ہیں کئی  ملکِ دل میں کبھی اشکوں کے ادارے گننا  جلنے والوں کے تُو جُملے نہ گنا کر فارس  غیر ممکن ہے جہنم کے شرارے گننا

مہاجر نامہ۔ منور رانا

 مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں  نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں  عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں  کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں  پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں  یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں  ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں  گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں  ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں  کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں  شکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی...

ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات۔ ریاض خیرآبادی

 ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات جاگیں تمام رات جگایئں تمام رات ان کی جفایئں یاد دلایئں تمام رات وہ دن بھی ہو کہ ان کو ستایئں تمام رات زاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے میکش اسے شراب پلایئں تمام رات اے قیس بے قرار ہےکچھ کوہ کن کی روح آتی ہے بے ستوں سے صدایئں تمام رات تا صبح میکدے سے رہی بوتلوں کی مانگ برسیں کہاں یہ کالی گھٹایئں تمام رات خلوت ہے بے حجاب ہیں وہ جل رہی ہے شمع  اچھا ہے اس کو اور جلایئں تمام رات شب بھر رہے کسی سے ہم آغوشیوں کے لطف ہوتی رہیں قبول دعایئں تمام رات  دابے رہے پروں سے نشیمن کو رات بھر کیا کیا چلی ہیں تیز ہوایئں تمام رات کاٹا ہے سانپ نے ہمیں سونے بھی دو ریاضؔ ان گیسوؤں کی لی ہے بلایئں تمام رات   جناب ریاض خیر آبادی

یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا

 کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے  وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے  اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن  اس کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن   اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے  دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی  اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئی  آس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے  تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہ  کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ  ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے  کیفی اعظمی

منشی نول کشور کی چتا کو آگ کیوں نہیں لگی؟

 تاریخ عالم کا وہ واحد ہندو جس کی چتا پر کئی من گھی ڈالاگیا مگر اُس کے جسم کو آگ نہ لگی، اُس کا قرآن سے کیا تعلق تھا ، تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے ۔ پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے۔ دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قران پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا۔ نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلی ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی* ۔دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا۔وقت گزرتا...

ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں ۔ مبشر سعید

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں صرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوں تتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں تو اگر ایک جھلک اپنی دکھا دے اُن کو سب مصور تری تصویر بنانے لگ جائیں ایک لمحے کو اگر تیرا تبسم دیکھیں ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں ہم اگر وجد میں آئیں تو زمانے کو سعید کبھی غزلیں تو کبھی خواب سنانے لگ جائیں

ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا

  ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی تری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہوگا سکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا مرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا پنڈت ہری چند اختر