اشاعتیں

اکتوبر, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اردو میں مشینی ترجمہ: مسائل اور امکانات

تصویر
  ایک گزارش: اپنے دستی گشتی فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ میں جہاں تک ممکن ہو سکے  ترسیلی ضرورتوں کے لیے اردو  ہی میں لکھیے کیوں کہ جیسے جیسے صارف کی تعداد بڑھے گی، کمپنیاں خود اردو فانٹس، سرچ انجن وغیرہ پر خود کام کریں گی اور ان کو بہتر بنائیں گی۔  یہ لکچر ممبئی یونی ورسٹی میں دی گئی پیش کش کا حصہ ہے۔ اسے یہاں محفوظ کر دیا ہے تاکہ وقت ضرورت کام آئے۔ 

مارکسیت اوراقبالؔ

 مارکسیت اوراقبالؔ وہ کلیمِ بے تجلی: وہ مسیحِ بے صلیب نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب اردو کی نظمیہ شاعری کی تاریخ میں محمد اقبالؔ ایک ایسا نام ہے، جسے ہم واقعتاً نابغۂ عصر کہہ سکتے ہیں۔بیسویں صدی کے نصف اول میں دوسرا کوئی ایسا شاعر نہیں جو کسی بھی اعتبار سے ان سے لگّا کھاتا ہو۔ جس طرح غالبؔ نے اردو غزل کو وہ مقام اور بلندی عطا کی ، جس سے آگے بڑھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ غزل کی پرواز کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ اسی طرح اقبالؔ نے اردو نظم کو وہ اونچائی اور عروج عطا کیا، جس سے آگے اردو نظم آج تک سفر نہ کرسکی۔ہر چند کہ ہیئت و موادکے تجربے بہت ہوئے لیکن فکر کی وہ بالیدگی جسے اقبال نے امروز و فردا کے تصور کے طور پر پیش کیا تھا وہ شاید کہیں گم ہو گئی۔ اقبالؔ ایک دانا، فلسفی اور جہاں دیدہ شخص ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی نظام سیاست سے بھی بخوبی واقف تھے۔ شاید اسی لیے عالمی حالات و واقعات سے متاثر ہو کر انھوں نے اپنا رد عمل سب سے پہلے پیش کرنے کی کوشش کی ۔  گیا دورِ سرمایہ داری گیا تماشہ دکھا کر مداری گیا  اقبال ؔ کی شاعری کو ہم تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ اول دور حب وطن کے جذبات کی...

مرزا ہادی رسوا

لکھنؤ کے مولوی گنج  کی ہوا دار منزل  کے سامنے  سے  ب چپن میں  گزر ہوتا تھا، ہمارے گھر  کے بزرگ بتاتے تھے کہ اس گھر کو پہچان لو، یہ ہے  مرزا ہادی رسوا کا گھر، جس پر ان کے رشتہ داروں نے قبضہ ضرور کر لیا مگر  پہچان تو اس کی رسوا ہی سے ہے۔ جیسے ہی  آپ پوچھیں گے  کہ کون رسوا  تو ہم نے بھی  بچپن میں  پوچھا:   کون ہادی  کون رسوا؟ تب بتایا گیا؛امراؤ جان ادا کو لکھنے  والے مرزا ہادی رسوا۔ ہم بچپن میں قیصر باغ کے سینٹینیل اسکول میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے، پھر ہمیں بتایا گیا کہ  یہاں ہادی رسوا  نے تعلیم حاصل کی ہے۔ پھر گولا گنج  میں  کرسچین کالج جب ہم  پڑھنے گئے تو پھر   بتایا گیا کہ مرزا ہادی رسوا نے یہاں پڑھایا ہے ۔ لامرٹس گراؤنڈ میں ہڈسن کی قبر کی طرف  ٹہلتے  ہوئے نکلے کہ پیچھے سے  نانا ابو نے کہا، مرزا ہادی  یہاں بھی پڑھے ہیں۔ ارے یہ کیسے رسوا ہیں جو میرا  پیچھا  نہیں چھوڑتے۔ چوپٹیا میں  پیدا ہوئے اور آج کے روز ہی یعنی 21 اکتوبر  ۱۹۳۱ء کو ...

اردو میں صوتی حرف سازی کیسے کریں؟

تصویر
 

تم اک گورکھ دھندا ہو

 مشہورِ زمانہ قوالی (تم اک گورکھ دھندہ ہو) جس کو استاد نصرت فتح علی خان کی آواز نے امر کر دیا لیکن اس کے شاعر کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے ۔آیئے ان کے بارے میں جانتے ہیں ۔ پیدائش : ان کا اصل نام محمد صدیق اور تخلص ناز تھا۔ ناز خیالوی"جھوک خیالی" نامی ایک گاؤں394 گ ب میں 1947ء میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے انھیں خیالوی کہا جاتا ہے۔  جھوک خیالی گاؤں ضلع فیصل آباد، صوبہ پنجاب، پاکستان میں تاندلیانوالہ کے نزدیک اور لاہور سے 174 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے شاگردی : وہ ایک ممتاز اردو شاعر احسان دانش کے ایک شاگرد تھے۔ نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں آخر کار شہ ...