استفہام، گنجینۂ معنیٰ کا طلسم اور غالبؔ
استفہام، گنجینۂ معنی کا طلسم اور غالبؔ غالبؔ کی تفہیم کا سلسلہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے ۔ اس عرصے میں کتنے ہی دانشور، شارحین اورمحققین نے غالبؔ کی شاعری کی مختلف جہا ت کا احاطہ کر نے کی کوششیں کیں لیکن کیا ان مفا ہیم تک ان شارحین کی رسائی ممکن ہو سکی؟ جوکہ شاعر کا اصل مدعا تھا ۔ کیا حقیقت میں ان مفاہیم تک شارحین پہنچ سکے جوکہ شاعر بیان کرنا چاہتا تھا؟ کیوں کہ دیوانِ غالبؔ کی تقریباً دو درجن شرحیں لکھی گئی ہیں۔ اگر کسی ایک کی تشریح و تفہیم سے دوسرا سخن شناس مطمئن ہوتا تو شاید مزید تشریح کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عہد میں سخن فہم حضرات نے غالبؔ کو اپنے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کو ششیں کی ہیں اوراس سلسلے کے آئندہ بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے ۔ یہاں غالب ؔ ، استفہام اور گنجینۂ معنی کا طلسم جیسے موضوع کا انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انھیں کبھی خدائے سخن، کبھی عظیم شاعر تو کبھی فلسفی کہا گیا ہے۔ راقم کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب ؔ کی شاعری میں معنوی تہہ داری، استفہام، جذبے کی شدت، شعری محاسن، زندگی کے ایک ایک پل کا انوکھا اظہار وغیرہ ایسی چیزی...