اشاعتیں

استفہام، گنجینۂ معنیٰ کا طلسم اور غالبؔ

 استفہام، گنجینۂ معنی کا طلسم اور غالبؔ غالبؔ کی تفہیم کا سلسلہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے ۔ اس عرصے میں کتنے ہی دانشور، شارحین اورمحققین نے غالبؔ کی شاعری کی مختلف جہا ت کا احاطہ کر نے کی کوششیں کیں لیکن کیا ان مفا ہیم تک ان شارحین کی رسائی ممکن ہو سکی؟ جوکہ شاعر کا اصل مدعا تھا ۔ کیا حقیقت میں ان مفاہیم تک شارحین پہنچ سکے جوکہ شاعر بیان کرنا چاہتا تھا؟ کیوں کہ دیوانِ غالبؔ کی تقریباً دو درجن شرحیں لکھی گئی ہیں۔ اگر کسی ایک کی تشریح و تفہیم سے دوسرا سخن شناس مطمئن ہوتا تو شاید مزید تشریح کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عہد میں سخن فہم حضرات نے غالبؔ کو اپنے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کو ششیں کی ہیں اوراس سلسلے کے آئندہ بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے ۔  یہاں غالب ؔ ، استفہام اور گنجینۂ معنی کا طلسم جیسے موضوع کا انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انھیں کبھی خدائے سخن، کبھی عظیم شاعر تو کبھی فلسفی کہا گیا ہے۔ راقم کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب ؔ کی شاعری میں معنوی تہہ داری، استفہام، جذبے کی شدت، شعری محاسن، زندگی کے ایک ایک پل کا انوکھا اظہار وغیرہ ایسی چیزی...

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو۔ قمر جلالوی

 منتخب کلام  قمر جلالوی  کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو چمن میں جانا تو صیّاد دیکھ بھال آنا اکیلا چھوڑ کے آیا ہوں آشیانے کو چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو ۔۔۔۔ مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے" مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسل...

پرایا گھر۔ جیلانی بانو

تمام گھر ایک جیسے ہیں، کہیں میں کسی اور گھر میں نہ پہنچ جاؤں۔ جب وہ مجھے ہاسپٹل سے گھر لے جارہے تھے تو میں بار بار یہی سوچ رہا تھا۔ ہسپتال کے ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ کار کے حادثے میں مجھے شدید چوٹ آئی تھی۔ مگر وہ سب جھوٹے ہیں، اگر مجھے چوٹ لگی تھی تو اس کااحساس کیوں نہ ہوا۔ وہ سب مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھتے رہے اور ہر وقت میرے بستر کے پاس پہرہ دیتے رہتے تھے جیسے میں اٹھ کر کہیں بھاگنے والا ہوں۔ آخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ وہ لوگ مجھے جانے کس پرائے گھر میں چھوڑ گئے، جیسے ہی مجھے سب نے پکڑ کر بستر پر لٹایا کوئی عورت زور زور سے چلانے لگی، ’’ہائے یہ کیا ہوگیا۔ نہیں نہیں، یہ میرا حامد نہیں ہوسکتا۔ اسے کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اور پھرکسی بچے نے پوچھا، ’’امی یہ چادر اوڑھے کون لیٹا ہے، ابا کے پلنگ پر؟‘‘ اب تو اس میں کوئی شک نہ رہا کہ میں غلطی سے کسی اور کے گھر میں آگیا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اسی بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ اگرمیں بھول کر کسی اور کے گھر میں گھس جاؤں تو کیا ہوگا؟ کہیں گھر کے مرد نہ آجائیں۔۔۔ چلو بھاگو، بھاگو۔ مگر لوگ مجھے چاروں طرف سے پکڑے بیٹھے ہیں۔ ’’چپ رہو۔۔۔ چپ رہو بھابی۔‘‘ دوسرے کمرے میں ک...

محبت کے وقت عورت کے دماغ اور جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں — سائنسی راز

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے وجود کو بدل دیتا ہے، لیکن سائنس کہتی ہے کہ جب ایک عورت محبت میں مبتلا ہوتی ہے تو صرف دل نہیں بلکہ اس کا پورا جسم، دماغ اور ہارمونز کا نظام بدلنے لگتا ہے۔ محبت عورت کے احساسات، سوچ، نیند، کھانے، حتیٰ کہ چہرے کے تاثرات تک پر اثر ڈالتی ہے۔ یہ تبدیلیاں صرف جذباتی نہیں بلکہ مکمل سائنسی حقیقت ہیں جنہیں جدید تحقیقات نے واضح کیا ہے۔ جب عورت کسی سے محبت کرتی ہے، تو اس کے دماغ میں ایک خاص کیمیائی تبدیلی شروع ہوتی ہے۔ **ڈوپامین (Dopamine)** نامی ہارمون تیزی سے خارج ہوتا ہے، جو خوشی، دلچسپی اور جذبے کو بڑھاتا ہے۔ یہی ہارمون عورت کو اُس شخص کی طرف زیادہ متوجہ کرتا ہے جس سے وہ محبت کرتی ہے۔ اس لمحے عورت کے دماغ کا "Reward System" فعال ہو جاتا ہے — وہ ہر لمحہ اُس شخص سے تعلق میں خوشی محسوس کرتی ہے اور اس کے ساتھ رہنے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی سمجھتی ہے۔ دوسری جانب، دماغ میں **آکسی ٹوسن (Oxytocin)** کا اخراج بھی بڑھ جاتا ہے، جسے محبت اور تعلقات کا ہارمون کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون عورت کو جذباتی طور پر مضبوطی سے باندھ دیتا ہے۔ اسی لیے عورت جب کسی کو دل سے ...

اردو کے تازہ اعداد و شمار

 کیا انڈیا میں اردو کا جنازہ نکل رہا ہے؟ کیا اردو صرف مشاعروں، ادبی محفلوں تک محدود ہو گئی ہے؟ کیا ہندوستان میں اردو بولنے/جاننے والے کم یا ختم ہوتے جا رہے ہیں؟ کیا قومی/ریاستی سرکاری، نیم سرکاری و غیرسرکاری سطح پر اردو کی ترویج، یا اس کے فروغ کے کاز صفر ہیں؟ کیا تعلیم و تدریس کے میدان میں اردو درسی کتب یا مواد کا مکمل فقدان ہے؟ کیا موجودہ تکنیکی و مواصلائی ذرائع سے اردو کی ترویج مناسب و موزوں سطح پر نہیں کی جا رہی؟ کیا سرکاری و خانگی اردو ادارے اردو کی ترویج و فروغ کے حوالے سے مکمل غیرسنجیدہ ہیں؟ یہ سوالات کڑوے ضرور ہیں مگر ان کے جوابات تحقیقی سطح پر اعداد و شمار کے ذریعے نہیں دئے جاتے بلکہ اکثر و بیشتر جذباتی پروپگنڈہ کیا جاتا ہے جس سے منفیت کا رجحان قوی سے قوی تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آئیے ہم معروضی سطح پر ایک عمومی جائزہ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تاکہ صورتحال کا مکمل نہ سہی کچھ نہ کچھ درست اندازہ ہو سکے۔ 1) قومی سرکاری سطح پر، متعدد اداروں کی ویب سائٹس کے اردو ورژن موجود ہیں مثلاً پریس انفارمیشن بیورو، این سی پی یو ایل، وزیراعظم ہند، انڈیا پوسٹل ڈپارٹمنٹ وغیرہ 2) وہ ریاستیں جہاں اردو بحیثی...

مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت

 مختلف تہذیبوں میں عورت کی حیثیت  یہودیوں میں: یہودی عورت کو آدم کے جنت سے نکالے جانے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک عورت حیض کے دوران ناپاک ہوتی ہے اور ان کے پاس اسے بیچنے اور وراثت سے محروم کرنے کا حق تھا۔ انہوں نے عورت پر انتہائی ظلم کیا اور اسے حقوق سے محروم رکھا۔ ان کے مطابق عورت ایک لعنت ہے کیونکہ اس نے آدم کو ورغلایا۔ تورات میں آیا ہے: "عورت موت سے بھی زیادہ تلخ ہے، اور جو اللہ کے سامنے نیک ہے وہ اس سے بچ جائے گا۔"  مسیحیوں میں: عورت انسان ہے لیکن اسے مرد کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ان کی روح جہنم کے عذاب سے بچنے والی روح سے خالی ہے، سوائے "مسیح کی ماں" کے۔  قدیم ہندوؤں میں: ہندو عورتیں اگر ان کے شوہر مر جاتے تو انہیں شوہر کی لاش کے ساتھ آگ میں جلا دیا جاتا تھا، اور بعض اوقات انہیں زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔  چینی اور جاپانیوں میں: چینیوں کے نزدیک عورت کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی اور اسے "دردناک پانی" کہتے تھے۔ عورت کو مرد کے گھر میں برائی سمجھا جاتا تھا جسے وہ جب چاہے نکال سکتا تھا۔ شوہر کے مرنے پر اسے گھر میں جانوروں کی طرح خدمت کے لیے رکھا...

ازدواجی شکوہ اور جواب شکوہ

 _*ازدواجی "شکوہ اور جواب شکوہ"*_ کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں زن مریدی ہی کروں میں اور مدہوش رہوں طعنے بیگم کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں کوئی بزدل ہوں کہ خاموش رہوں جرات آموز مری تاب ِسخن ہے مجھکو شکوہ اک زوجہ سے ! خاکم بدہن ہے مجھکو تجھکو معلوم ہے لیتا تھا کوئی رشتہ ترا سر پٹختے ہوئے پھرتا تھا کبھی اّبا ترا کس قدر خوش تھا میں جس دن تیرا ڈولا نکلا تیرا ڈولا تو مگر موت کا گولا نکلا تو جو سوتی ہے تو سالن بھی پکاتا ہوں میں ٹیپو روتا ہے تو فیڈر بھی بناتا ہوں میں گڈی جاگے ہے تو جھولا بھی جھلاتا ہوں میں پّپو اٹھ بیٹھے جو راتوں کو کھلاتا ہوں میں پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں میں وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں ھےبجا حلقہ ازواج میں مشہور ھوں میں تیرا بیرا، تیرا دھوبی ، تیرا مزدور ھوں میں زن مریدی کا شرف پاکے بھی رنجور ھوں میں قصہ درد سناتا ھوں کہ مجبور ھوں میں میری مخدومہ میرے غم کی حکایت سن لے ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سن لے زچہ بن بن کے بجٹ میرا گھٹایا تو نے ھر نۓ سال نیا گل ھے کھلایا تو نے رشتہ داروں نے تیرے ، جان میری کھائ ھے فوج کی فوج میرے گھرمیں ج...