کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو۔ قمر جلالوی
منتخب کلام قمر جلالوی کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو چمن میں جانا تو صیّاد دیکھ بھال آنا اکیلا چھوڑ کے آیا ہوں آشیانے کو چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو ۔۔۔۔ مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے" مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسل...