اشاعتیں

مئی, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ازدواجی شکوہ اور جواب شکوہ

 _*ازدواجی "شکوہ اور جواب شکوہ"*_ کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں زن مریدی ہی کروں میں اور مدہوش رہوں طعنے بیگم کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں کوئی بزدل ہوں کہ خاموش رہوں جرات آموز مری تاب ِسخن ہے مجھکو شکوہ اک زوجہ سے ! خاکم بدہن ہے مجھکو تجھکو معلوم ہے لیتا تھا کوئی رشتہ ترا سر پٹختے ہوئے پھرتا تھا کبھی اّبا ترا کس قدر خوش تھا میں جس دن تیرا ڈولا نکلا تیرا ڈولا تو مگر موت کا گولا نکلا تو جو سوتی ہے تو سالن بھی پکاتا ہوں میں ٹیپو روتا ہے تو فیڈر بھی بناتا ہوں میں گڈی جاگے ہے تو جھولا بھی جھلاتا ہوں میں پّپو اٹھ بیٹھے جو راتوں کو کھلاتا ہوں میں پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں میں وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں ھےبجا حلقہ ازواج میں مشہور ھوں میں تیرا بیرا، تیرا دھوبی ، تیرا مزدور ھوں میں زن مریدی کا شرف پاکے بھی رنجور ھوں میں قصہ درد سناتا ھوں کہ مجبور ھوں میں میری مخدومہ میرے غم کی حکایت سن لے ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سن لے زچہ بن بن کے بجٹ میرا گھٹایا تو نے ھر نۓ سال نیا گل ھے کھلایا تو نے رشتہ داروں نے تیرے ، جان میری کھائ ھے فوج کی فوج میرے گھرمیں ج...