اشاعتیں

اکتوبر, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آوارہ از مجازؔ لکھنوی

  آوارہ از   مجازؔ لکھنوی   شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروں اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں اے غم دل کیا کروں اے ...

ایک لڑکا از اخترالایمان

  ایک لڑکا اخترالایمان   دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر کبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر کبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میں کبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میں سحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میں کبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میں تعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میں کبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میں برہنہ پاؤں جلتی ریت یخ بستہ ہواؤں میں گریزاں بستیوں سے مدرسوں سے خانقاہوں میں کبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہ کبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہ ہوا میں تیرتا خوابوں میں بادل کی طرح اڑتا پرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا مڑتا مجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانی مجھے اک لڑکا جیسے تند چشموں کا رواں پانی نظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاں مرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاں اسے ہم راہ پاتا ہوں یہ سائے کی طرح میرا تعاقب کر رہا ہے جیسے میں مفرور ملزم ہوں یہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میں...

لنگی از شموئل احمد

  لنگی   شموئل احمد نوٹ: افسانہ” لنگی” میں تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے جنسی استحصال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بیباک افسانے کو لکھنے کی وجہ سے چند روز قبل  شموئل احمد پر جان لیوا حملہ کیا گیا ہم آزادی رائے کے خلاف اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ موصول بہ وساطت شکیل سید۔ شعبہ میں نئی لڑکی کا داخلہ ہوتا تو ابو پٹّی لنگی پہنتا۔ اس کے پاس رنگ برنگ کی لنگیاں تھیں۔ لال پیلی نیلی ہری ….. ایک نہیں تھی تو سفید۔ سفید لنگی سے ابو پٹّی کو چِڑ سی تھی۔ پہنو بھی نہیں کہ میلی نظر آتی ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی رنگ ہے کہ داغوں کو چھپا نہیں پاتا ہے۔ اس اعتبار سے اس کو سیاہ لنگی پسند تھی کہ گرد خور تھی لیکن ایک جیوتشی نے کہا تھا کہ سیاہ شنی کا رنگ ہے جو نا امیدی کا ستارہ ہے اور ابو پٹّی نے بھی محسوس کیا تھا کہ سیاہ رنگ کے استعمال سے اس کو اکثر خسارہ ہوا ہے۔ اس دن اس نے سیاہ لنگی بیگ میں رکھی تھی جب زر بہار اُس کے ہاتھوں سے صابن کی طرح پھسل گئی تھی اور پروفیسر راشد اعجاز کی جھولی میں جا گری تھی۔ زر بہار ایک مقامی شاعر کی دختر نیک اختر تھی۔ اس نے ایم اے کیا تھا اور اب ایم فل میں ...