اشاعتیں

یہ انشائیہ فدوی نے دہلی اردو اکادمی کے ذریعے منعقد پروگرام ’’نئے اور پرانے چراگ‘‘ کے لیے تحریر کیا تھا۔ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جانی کیا آج میری برسی ہے. Jaun Elia جون ایلیا

جانی کیا آج میری برسی ہے؟ یعنی کیا آج مر گیا تھا میں؟   اصلی نام: سید جون اصغر، قلمی نام: جون ایلیا   ولادت: 14/ دسمبر 1931ء(امروہہ)  بھارت   وفات: 08/نومبر ،2002ء (کراچی) پاکستان     نام   سیّدجون اصغر اور تخلص جونؔ تھا۔ آپ 14؍دسمبر 1931ء کو ایک علمی وادبی خاندان میں     امروہہ ، یونائٹڈ پروونس ،بھارت میں پیدا ہوئے تھے۔ رئیسؔ امروہوی اور سیّد محمد تقی ان کے بڑے بھائی تھے۔ جون ایلیا اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے اور بھارت کے ممتاز فلم ساز کمال امروہی کے سگے   بھائی تھے۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا ۔اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انھیں خطوط پر کی۔ انھوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 /سال کی عمر میں کہا تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شفیق حسن ایلیا کی سرپرستی میں حاصل کی۔ ادیب کامل (اردو)، کامل (فارسی) ، فاضل (عربی) کے امتحانات پاس کیے۔ اردو، فارسی اور عربی زبانوں پر جونؔ ایلیا کو یکساں عبور حاصل تھا۔ 1957ء میں بھارت سے ہجرت کرنے کے ...

مشفق بھائی

مشفق بھائی پرویز احمد اعظمی ناچیز ابھی رضائی میں پڑے پڑے یہ سوچ رہا تھا کہ اب اٹھوں کہ تب اٹھوں کیوں کہ سورج کی ننھی کرنوں کو ابھی اندھیرے پہ غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا۔ کہیں دور سے مور کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں کہ اتنے میں میرے کمرے کے بازو والے کمرے کا دروازہ دھڑاک سے کھلا۔ میں نے اندازہ کر لیا کہ لگتا ہے مشفق بھائی باہر نکلے ہیں۔  اکہرا بدن، نکلتا ہوا قد، جسم کمان کی شکل اختیار کرتا ہوا، جس کے سبب ہاتھ گھٹنوں تک پہنچتے ہوئے، پیشانی پر لاتعداد شکنیں، آنکھیں ایسی کہ لوگ آنکھیں چار کرنے سے گھبرائیں۔ ناک طوطے کی مانند، بالوں میں مہندی، داڑھی سلیقے سے تراشی ہوئی، کان گاندھی جی کی طرح لمبے، مزاج اس قدر شائستہ و سنجیدہ کہ شاید ہی کسی نے کبھی ہنستا ہوا دیکھا ہو۔ طبیعت میں خلوص و انکسار کوٹ کوٹ کر بھر ہوا ہے۔ بہ ظاہر تپاک سے ہر کسی سے ملتے ہیں لیکن دل سے چند لوگوں ہی سے ملتے ہیں۔ ذہن میں ہر وقت ایک طرح کا خمار، طبیعت سے سرشار، مذہب سے بیزار، سونے میں ایسے طاق ہیں کہ سنا ہے کہ کمبھ کرن ایک رات خواب میں آکر دست بستہ گزارش کر رہا تھا کہ حضور میری لاج رکھیے ورنہ زمانہ مجھے بھلا کر آپ کی...