Azeez Lakhnavi ki ghazal goyi
عزیز لکھنوی کی غزل گوئی ادب زندگی اور تہذیب کا عکاس ہوتا ہے۔ یہ خارجی حقیقتوں کو داخلی آئینے میں پیش کرتا ہے۔ ادب میں انسانی زندگی کی تصویر اس طرح پیش کی جاتی ہے کہ اس میں انسانی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ مشاہدات،تجربات اور خیالات کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں۔ شاعر یا ادیب کا تعلق کسی نہ کسی ایک سماج اور کسی ایک ملک سے ضرور ہوتا ہے۔ لہٰذا اس سماج کی رسموں اور تہذیب کا،جس میں کہ ادیب پیدا ہوا اور پلا بڑھا ہے،کا اثرادیب پرہونا لازم ہے۔ چوں کہ شاعری بھی اظہار کا ایک ذریعہ ہے، اس لیے طلبہ میں اس کا ذوق و شعور پیدا کرنے، ا ن میں شعر فہمی کو ابھارنے کے لیے شاعری کا درس دیا جاتا ہے۔ اس کے مطالعے سے طلبہ میں نہ صرف شعری ذوق پیدا ہوتا ہے بلکہ ان میں اپنی تہذیب اور زبان سے ایک لگاؤ پیدا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی وہ زبان کی باریکیوں، لفظوں کے در و بسط اور شعری محاسن سے بھی واقف ہوتے جاتے ہیں۔ دبستانِ لکھنؤ کی خدمات اردو شاعری کے تعلق سے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ چند کمیوں کو اگر نظر انداز کر کے دیکھا جائے تو ہمیں اس میں بہت سی خوبیاں بھی نظر آئیں گی۔ ان کمیوں سے الگ اس کا ایک ایسا کارنامہ ہے، جس ک...