ہفتہ، 2 مئی، 2026

استفہام، گنجینۂ معنیٰ کا طلسم اور غالبؔ


 استفہام، گنجینۂ معنی کا طلسم اور غالبؔ


غالبؔ کی تفہیم کا سلسلہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے ۔ اس عرصے میں کتنے ہی دانشور، شارحین اورمحققین نے غالبؔ کی شاعری کی مختلف جہا ت کا احاطہ کر نے کی کوششیں کیں لیکن کیا ان مفا ہیم تک ان شارحین کی رسائی ممکن ہو سکی؟ جوکہ شاعر کا اصل مدعا تھا ۔ کیا حقیقت میں ان مفاہیم تک شارحین پہنچ سکے جوکہ شاعر بیان کرنا چاہتا تھا؟ کیوں کہ دیوانِ غالبؔ کی تقریباً دو درجن شرحیں لکھی گئی ہیں۔ اگر کسی ایک کی تشریح و تفہیم سے دوسرا سخن شناس مطمئن ہوتا تو شاید مزید تشریح کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عہد میں سخن فہم حضرات نے غالبؔ کو اپنے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کو ششیں کی ہیں اوراس سلسلے کے آئندہ بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے ۔

 یہاں غالب ؔ ، استفہام اور گنجینۂ معنی کا طلسم جیسے موضوع کا انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انھیں کبھی خدائے سخن، کبھی عظیم شاعر تو کبھی فلسفی کہا گیا ہے۔ راقم کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب ؔ کی شاعری میں معنوی تہہ داری، استفہام، جذبے کی شدت، شعری محاسن، زندگی کے ایک ایک پل کا انوکھا اظہار وغیرہ ایسی چیزیں ہیں، جنھوں نے غالب ؔکے اشعار کو گنجینۂ معنی کا طلسم بنا رکھا ہے۔ اسی معنوی تہہ داری کو سمجھنے کے لیے راقم نے اس موضوع کا انتخاب کیا ہے۔

اردو کی یہ تہذیب ہے کہ شعرا جب اپنا دیوان شائع کرتے ہیں تواکثر و بیشتر سب سے پہلے حمد، نعت اور اس کے بعد غزل و نظم کا اہتمام کرتے ہیں لیکن دیوانِ غالبؔ کا پہلا شعر اپنے عہد کی روایت سے بالکل مختلف ومنفرد ہے، جس میں غالبؔ نے تنظیم دوجہاں اورانسانی تقدیر پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے۔ یہ ان کی ذہنی حوصلہ مندی اور فکری بلندی تھی ورنہ زمانے کا عام چلن توبنے بنائے راستوں پر ہی چلنے کا رہا  ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شو خیِ تحریر کا 

 کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر ِتصویر کا

اس شعر کو پڑھتے ہی غالبؔ  ہی کا یہ شعر کہ:

گنجینہ ٔ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے جو  لفظ کہ غالبؔ میرے اشعار میں آوے

بے سا ختہ ذہن میں آجا تا ہے اورغا لب ؔ کے ’’گنجینۂ معنی کے طلسم ‘‘ کا قا ئل ہونا پڑ تا ہے۔ کیوں کہ اس شعر میں جس قدر معنوی پہلو پو شیدہ ہیں، اسی قدر صنعتیں بھی موجود ہیں ۔ اس طرح کی تہ داری شاعری میں عام نہیں۔ اس شعر کی تشریح خود غا لبؔ نے کی ہے کہ ’’نقش کس کی شوخی ِتحریر کا فریادی ہے کہ جو صورت تصویر ہے، اس کا پیرہن کا غذی ہے یعنی ہستی اگر چہ مثل تصا ویر اعتبار محض ہو، موجب رنج و آزار ہے۔‘‘

شعر کی گرہ کھو لنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے شعر کے کلید ی لفظ کو تلاش کر لیا جائے۔ اس کے ہاتھ آجانے کے بعد شعر کی گرہیں خود بہ خود کھلتی چلی جائیں گی۔ زیر بحث شعر میں ناچیز کے نزدیک لفظ ’’کِس‘‘ کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے بعد ’’نقش‘‘ اور ’’شوخی ِتحریر‘‘ خاص تو جہ کے طالب ہیں۔ اگر ’’کِس‘‘ کو خالقِ کونین کا استعارہ تسلیم کر لیا جائے تو شعر کے معنی کسی حد تک واضح ہو جائیں گے لیکن شعر کی معنویت محدود ہو جائے گی۔ ساتھ ہی ’’کِس‘‘ کے استفہام کا لطف بھی جاتا رہے گا جو کہ اس شعر کی حقیقی جاذبیت ہے۔ پھر بھی اتنا کہا جا سکتا ہے کہ’’کِس‘‘ کا ا شارہ خالقِ مطلق کی طرف ہی ہے کہ اس نے از راہِ شوخی تصویر کو نا پائیدار بنا یا ہے، اسی لیے تصویر اپنی زبان بے زبانی سے فریاد کر رہی ہے کہ جب ہستی کو نا پا ئیدار ہی بنا نا تھا تو اُس میں اِس درجہ کمال، اس درجہ کشش رکھنا کیا ضروری تھا ؟

شعر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیا کی یہ رنگا رنگی، یہ کشش، یہ دل فریبی اور موہ کیا ہے؟ جب کہ ہر چیز فانی ہے۔  جب ہر شئے کا وجود فانی ہے تو پھر اس میں اس قدر جاذبیت کیوں ہے؟ 

عہدِ قدیم کیا آج بھی یہ چلن عام ہے کہ شعری مجموعوں کے آغاز میں حمد، نعت اور منقبت کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن غالبؔ نے روشِ عام سے گریز کرتے ہوئے، دیوان کے پہلے ہی شعر میں تخلیقِ کائنات پر سوالیہ نشان لگایا۔ اس شعر کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غا لب ؔ کائنات کے فلسفے کو سمجھنا چا ہتے ہیں کہ اس کائنات کا راز کیا ہے؟ جہاں ہر شئے کا وجود ایک نقش کی مانند مجبور و لاچار دکھائی دیتا ہے اورشاید اسی فلسفے کو سمجھنے کے لیے ہی انھوں نے کہا تھا کہ:

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟

ابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے؟

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود ہے 

پھر یہ ہنگامہ ائے خدا کیا ہے؟

اب شعر کے اس مفہوم کی طرف رخ کر تے ہیں، جس کا ذکرعموماً کیا جاتا ہے کہ ایران میں رسم تھی کہ فریادی فریاد کے لیے کاغذی لباس پہن کر دربار میں حاضر ہواکر تے تھے۔ کیوں کہ کاغذ کی کوئی وقعت نہیں ہوتی، یہ ہوا کے تیز جھونکے سے، آگ سے دور رہ کر بھی اس کی گرمی سے، حتٰی کہ کاغذ ذرا سی رگڑ لگنے سے بھی تار تار ہو سکتا ہے لہٰذا کا غذی پیرہن فریادی کی بے بساطی کی دلیل سمجھا جاتا تھا یعنی اس دنیا میں انسان کی ہستی کاغذی پیرہن کی طرح ہے، جس کی کوئی ساکھ، کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ چوں کہ مصور، تصویر کو کاغذ پر بناتا ہے، جس کا وجود عارضی اور بےبساط ہو تا ہے، اس لیے تصویر اپنے خالق سے جدائی پر فریاد کر رہی ہے۔ 

زیر بحث شعر کے دوسرے مصرعے ’’کا غذ ی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا‘‘ کے ’’ہر‘‘ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ اس سے تمام جاندار مراد لیے جا سکتے ہیں لیکن شعور و احساس کا ملکہ چوں کہ صرف انسان ہی کو حاصل ہے، ا س لیے ’’فریادی‘‘ سے مراد انسان ہی ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت انسان کے علاوہ دوسری کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہے لہٰذا ’’شوخیِ تحریر‘‘ سے اگر انسانی ’’شعور و احساس‘‘ مراد لیے جائیں اورسا تھ ہی ساتھ فرشتوں اور تمام جانداروں کو ملحوظ رکھا جائے تو انسان کی عظمت کا قائل ہو نا پڑتا ہے جو کہ خالق کی ’’شوخیِ تحریر‘‘ کا سب سے بڑا کرشمہ ہے۔

غا لبؔ کی شاعری پر بحث کرتے ہوئے، اس بات کو خاص طورسے ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان کی شاعری کا اصل جوہر استفہام، فلسفہ، فکر کی بلندی اوراحساس کا وہ انوکھاپن ہے، جو ہمارے دلوں کو چھو جاتا ہے۔ اس لیے ان کا مطالعہ کر تے ہوئے ہمیں مذکورہ با توں کا لحاظ خصوصی طور پر رکھنا چاہیے۔ اس شعر پر اگرشعری محاسن کے اعتبار سے غور کریں تو تلمیح، استعارہ، تجاہلِ عارفانہ، تجنیس صوتی اور حسن تعلیل کا ذکر کرنا ناگزیر ہوگا لیکن ذہن نشین رہے کہ غالبؔ کی شاعری میں ان چیزوں کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے اور تفکر و تخیل کی اول۔ اس شعر کے مفہوم کو واضح کر نے میں غالبؔ ہی کا ایک شعر ہماری رہنمائی کچھ اس طرح کر رہا ہے کہ:

نہ تھا کچھ ، تو خدا تھا ؛ کچھ نہ ہو تا ، تو خدا ہو تا 

ڈبو یا مجھ کو ہو نے نے ، نہ ہو تا میں ، تو کیا ہو تا؟ 

اس شعر کا پہلا مصرع بالکل واضح ہے اور دوسرا ہماری رہنما ئی اس طرح کر رہا ہے کہ میرے وجود نے یعنی میرے ہو نے نے، مجھ کو یعنی انسان کو خوار اور رسوا کیا ہے و رنہ میں تو ’’کُل‘‘ کا ’’جُز‘‘ تھا مگر افسوس کہ ’’کُل‘‘ سے بچھڑنے کے با عث میں کہیں کا نہیں رہا ۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں آنے کی وجہ سے انسان ذلیل و خوار ہوا ہے ورنہ وہ تو شریکِ ذاتِ خدا وندی ہوتا۔ اب ایک بار پھر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تصویر مصور سے یا ’’نقش‘‘ اپنے خالق سے جدا ہونے اور اپنے وجود کے عارضی ہونے کی شکایت کر رہا ہے۔ کیوں کہ:

  قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے کام اچھا ہے وہ جس کہ مآل اچھا ہے

غالبؔ کے اشعار میں  استفہام اور گنجینۂ معنی کی بات کرتے ہوئے آئیے اب ایک اور شعر پر غور کرتے ہیں: 

نہ تھا کچھ، تو خدا تھا؛ کچھ نہ ہو تا، تو خدا ہو تا 

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں، تو کیا ہو تا؟ 

اس شعر میں سب سے پہلے لفظ ’کیا‘ ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتا ہے کیوں کہ شاعر نے ’کیا ‘ کے استفہام سے اس شعر میں جو تہہ داری پیدا کی ہے یا معنیٰ کے جو جوہر دکھائے ہیں، اس کا لطف سخن فہم حضرات خوب جانتے ہیں۔ لفظ کیا اس شعر کا کلیدی لفظ ہے، جس نے اس شعر کو معنی کا گنجینہ بنا رکھا ہے۔ مذکورہ شعر کا پہلا مصرع بالکل صاف ہے کہ اس کائنات میں جب کچھ بھی نہیں تھا، تب بھی خدا تھا اور اگر کچھ نہیں بھی ہوتا یعنی اگر دنیاوی مخلوق پیدا نہیں ہوتیں تب بھی خدا ہوتا یا خدا کا ہونا برحق تھا۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کا یہ کہنا کہ: ’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے‘‘ یعنی انسان کی تخلیق ہی نے انسان کی عظمت کو خاک میں ملا دیا، ڈبو دیا یا یوں کہیں کہ انسان کی عظمت کو غارت کر دیا ورنہ اگر انسان کی تخلیق نہیں کی گئی ہوتی یا اسے دنیا میں نہیں اتارا گیا ہوتا تو یہ شریکِ ذاتِ خداوندی ہوتا۔ اب انسان کی عظمت کا اندازہ کیجیے کہ اس کا مرتبہ کیا ہے؟ شعر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر میں یعنی غالبؔ کو پیدا نہیں کیا گیا ہوتا تواتنی رنگ برنگی، خوب صورت دنیا میں کون سی کمی ہو جاتی یا اس دنیا کا کیا بگڑ جاتا، کیا فرق پڑتا اس دنیا کو؟ ایک اور پہلو اس شعر کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر صرف مجھے یعنی غالبؔ کو پیدا نہیں کیا گیا ہوتا تو یہ جز ’کل‘ کا حصہ ہوتا مگر افسوس کہ میں اس دنیا میں آ کر ذلیل و خوار ہو گیا ورنہ میں تو عرش معلیٰ پر ہوتا۔ گنجینۂ معنیٰ کا طلسم پرغالبؔ کی  بات کرتے ہوئے اب ہم ایک اور شعر کا انتخاب کرتے ہیں:

کاو کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ 

صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا

اس شعر کا بنیادی مضمون یہ ہے کہ محبوب کے انتظار میں رات گزارنا یا رات کاٹنا، جوئے شیرلانے سے کسی بھی صورت میں کم نہیں یعنی محبوب کے انتظار میں رات بھر اضطراب کی کیفیت میں گزارنا، اتنہا ئی دشوار گزارمرحلہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ائے میرے سخت جان محبوب، میری تنہائی کے بارے میں مت پوچھ کیوں کہ جو کاوشیں، حکمتیں، تدبیریں اورجو کوششیں میں اپنی تنہائی کو کاٹنے یا دور کر نے کے لیے کرتا ہوں وہ جوئے شیر لانے سے کسی صور ت کم نہیں بلکہ مجھے تو اس سے بڑھ کر معلوم ہوتی ہے۔

اس شعر کا ایک مفہو م یہ بھی ممکن ہے کہ جوئے شیر لانے یا کوہ کنی کی تمام مدت میں جو مشکلیں، صعوبتیں، دشواریاں، کٹھنائیاں اور سختیاں فرہاد پر گزریں، وہ تو کچھ بھی نہیں تھیں، یہاں تو عالم یہ ہے کہ اس بڑھ کر مصیبتیں مجھ پر ہر رات گزر جاتی ہیں۔ اس شعر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی مصیبت بڑی معلوم ہوتی ہے۔

شعر کا ایک پہلو یہ بھی ممکن ہے کہ شاعر انتظارِ محبوب میں شام کو صبح کرنے کے اپنے عمل کو، فرہاد کی صعوبتوں سے بڑھ کر ثابت کرنا چا ہ رہا ہو یا یہ کہ فرہاد پر جو گزری ہو سوگزری ہو لیکن میری مشکل، مجھے تو اس سے بڑھ کر معلوم ہوتی ہے۔ اب ایک بات اور یہاں غور کرنے کی ہے کہ اگر شبِ تنہا ئی سے دنیاوی زندگی مراد لی جائے تو اس کی صبح کرنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کہ کوہ کنی کرنا۔

اگر صبح کو سفید اور شام کو سیا ہی کا استعارہ تسلیم کر لیا جائے تو سیاہی کے  بطن سے سفیدی یا بدی سے نیکی پیدا کرنے کے عمل کو جوئے شیر لانے کے مترادف کہا جا سکتا ہے  جو انتہائی مشکل کام ہے۔

مو ت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوںرات بھر نہیں آتی؟ 

یہ شعر سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال کہا جا سکتا ہے۔ زیر بحث شعر بالکل سیدھا سادا ہے ۔ بہ ظاہر اس میں کچھ بھی نہیں لیکن معنوی تہہ داری اس بے حد آسان شعر میں بھی موجود ہے۔ دیوانِ غالب کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ شاید غالبؔ کو استفہام بے حد پسند تھا۔یہی سب ہے کہ ان کے دیوان میں استفہام کی ایک لہر موجزن نظر آتی ہے۔وہ اکثر استفہام سے اپنے اشعار میں خوبی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ درج بالا شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب موت کا ایک دن معین ہے تو رات میں نیند کا نہ آنا، اضطرابی کیفیت کا ہونا چہ معنی دارد؟ اِس وقت تو اسے آنا چاہیے۔ کیوں کہ موت کا وقت تو طئے شدہ ہے پھر آخر نیند کیوں نہیں آ رہی ہے؟

دوسرا پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ خالقِ کائنات نے جب اس کا وقت طئے کیا ہوگا وہ تبھی آئے گی لیکن اس نیند کا تو وقت موت کی طرح مقرر نہیں ہے لہٰذا اس کو تو آنا چاہیے۔ یہ کیوں نہیں آ رہی ہے؟ اس کا کیا معاملہ ہے؟ 

اس نیند کے نہ آنے کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس کا دن اور وقت تو مقرر نہیں ہے پھر بھی یہ کیوں نہیں آ رہی ہے؟ اس کا کیا راز ہے؟ کیا یہ خالق کائنات کی طرف سے ہے یا یہ ہمارے ذہن میں اُٹھ رہے طرح طرح کے سوالات کے باعث ہے؟ کہیں یہ حالات کی دین تو نہیں؟  وغیرہ وغیرہ۔

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چا ہیے

سینۂ شمشیر سے باہرہے دم شمشیر کا 

اس شعر کی بنیاد’’ حسنِ تعلیل‘‘ پر ہے ۔ اس لیے سب سے پہلے حسنِ تعلیل کی تعریف جان لینا مناسب ہوگا ۔’’تعلیل کے معنی ہیں وجہ بیان کر نا ، وجہ متعین کر نا ۔ یہ اس عمل کی خو بی و ندرت کی مثال ہے جب کہ کسی عمل یا واقعے کے لیے کو ئی ایسی وجہ بیان کی جائے جو چا ہے واقعی نہ ہو مگر اس میں کو ئی شاعرانہ جدت و نز اکت ہو او ربات فطر ت اور واقعے سے مناسبت بھی رکھتی ہو تو اسے حسنِ تعلیل کہتے ہیں ‘‘۔ چو نکہ ’دَم‘ لفظ اس شعر میں کلیدی حیثیت کاحامل ہے، اس لیے یہاں لفظ ’دَم‘ کی وضاحت ضروری معلو م ہو تی ہے ۔ ’دَم‘ کے معنی ہیں سانس ، روح ، جان ، تلوار کی دھار، باڑ وغیرہ ۔ تلوار کی دھار اندر کی طرف نہیں بلکہ باہر کی طرف ہو تی ہے، جو ایک فطری چیز ہے لیکن غالبؔ نے جس خوبصورتی سے حسنِ تعلیل کی بنیاد پر اس شعر کی بند ش کی ہے، اس کالطف اہلِ نظر ہی جانتے ہیں ۔ تلوار کے ’دَم‘ کو یا تلوار کی دھار کے باہر ہو نے کو اس کے قتل کر نے کی آرزو ،عاشق کے جذبہ ٔ بے اختیا ر شوق پر محمول کر نا ، شا عرانہ جدت اور فکرکی با لید گی کا کمال ہے ۔ 

عاشق کہتا ہے کہ مجھے قتل کر نے کی آرزو میں تلوار اس قدر بے اختیار ، بے قا بو ہو ئی جارہی ہے کہ دمِ شمشیر ، سینۂ شمشیر سے با ہر نکل آیا ہے ۔

محا ورہ ’’آپے سے باہر ہونا ‘‘ کو مد نظر رکھتے ہو ئے اگر غور کر یں تو کہا جاسکتا ہے کہ عاشق کو قتل کر نے کے لیے تلوار اس قدر بے اختیار ہو ئی جا رہی ہے کہ اس کا دم اس کے سینے سے باہرنکل آیا ہے ۔

عاشق کے شوقِ شہا دت کو دیکھ کر شمشیر کے بے اختیار ہو نے میں ایک پہلو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ شمشیر ، شمشیر ِحقیقی نہ ہو کر محبوب کے ناز و ادا کی شمشیر ہو، جس سے قتل ہو نے کے لیے عاشق بے قرار ہے کہ کاش میرا محبوب مجھے اپنے عشوہ و غمزے سے قتل کر دیتا تو میرے دل کی مرا د پوری ہو جاتی ۔

استفہام ،گنجینۂ معنی کا طلسم اور غالبؔ کے عنوان کے تحت اب تک جتنی مثالیں پیش کی گئیں، ان سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ غالبؔ کے یہاں فکر کی بلندی کے ساتھ ساتھ  استفہام اور معنوی تہہ داری بھی کافی اہم ہے ، جس کے باعث غالبؔ کو عظیم شاعر کہا گیا۔ یہی وجہ کہ راقم نے غالبؔ کو گنجینۂ معنی کا طلسم: غالب کہنے کی جسارت کی ہے۔



Address:

Dr. Pervez Ahmed Azmi

Assist. Professor

Dept. of Urdu

Central University of Kashmir

Transit Campus Sonwar

Srinagar-190004

Cont. no. 91-8803765953

Email: p123azmi@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

استفہام، گنجینۂ معنیٰ کا طلسم اور غالبؔ

 استفہام، گنجینۂ معنی کا طلسم اور غالبؔ غالبؔ کی تفہیم کا سلسلہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے ۔ اس عرصے میں کتنے ہی دانشور، شارحین اورم...