آج ساقی شراب رہنے دو۔ محسن نقوی
آج ساقی شراب رہنے دو تشنگی کے عذاب رہنے دو پوچھ ڈالو نہ آنکھ سے کاجل کچھ تو خنجر پہ آب رہنے دو تم سنوارو نہ اپنی زلفوں کو میری حالت خراب رہنے دو چاند بادل میں اچھا لگتا ہے آدھے رُخ پر نقاب رہنے دو اُن کے چہرے کی بات ہوجائے آج ذکرِ گلاب رہنے دو اُن کی چوکھٹ کو چُوم لو محسن باقی سارے ثواب رہنے دو ✍ محسن نقوی