جمعہ، 3 اپریل، 2026

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو۔ قمر جلالوی

 منتخب کلام 

قمر جلالوی 


کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو

نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو


دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے

کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو


چمن میں جانا تو صیّاد دیکھ بھال آنا

اکیلا چھوڑ کے آیا ہوں آشیانے کو


چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت

طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو


مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے

حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو


سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے

کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو


دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام

ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو


اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا

جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو


قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی

چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو

۔۔۔۔


مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے


انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے

تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے"


مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے

کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے


بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو

قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے


ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم

ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے


بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے

اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے


وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے

قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے

۔۔۔۔


کب میرانشیمن اہلِ چمن گلشن میں گواراکرتے ہیں

غنچےاپنی آوازوں میں بجلی کوپکارا کرتے ہیں


اب نزع کاعالم ہےمجھ پرتم اپنی محبت واپس لو

جب کشتی ڈوبنےلگتی ہےتوبوجھ اتاراکرتے ہیں


جاتی ہوئی میت دیکھ کےبھی اللہ تم اٹھ کےآ نہ سکے

دوچارقدم تو دشمن بھی تکلیف گواراکرتے ہیں


بےوجہ نہ جانےکیوں ضد ہےانکوشبِ فرقت والوں سے

وہ رات بڑھادینے کےلیےگیسو کوسنواراکرتے ہیں


پونچھونہ عرق رخساروں سےرنگینئ حسن کو بڑھنے دو

سنتےہیں‌کہ شبنم کےقطرےپھولوں کونکھارا کرتے ہیں


کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں،ہےبھی تو فقط رسوائی کا

تم ہوکہ گواراکرنہ سکے،ہم ہیں کہ گواراکرتے ہیں


تاروں کی بہاروں میں ‌بھی قمرتم افسردہ سے رہتے ہو

پھولوں کوتودیکھوکانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارہ کرتے ہیں

۔۔۔۔۔

بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے

چیز کتنی سی ہے اور کِتنی گراں ٹھہری ہے


چھیڑ کر پھر مجھے مصروف نہ کر نالوں میں

دو گھڑی کے لئے صیّاد زباں ٹھہری ہے


آہِ پُر سوز کو دیکھ اے دلِ کمبخت نہ روک

آگ نِکلی ہے لگا کر یہ جہاں ٹھہری ہے


صُبح سے جنبشِ ابرو و مژہ سے پیہم

نہ تِرے تیر رُکے ہیں نہ کماں ٹھہری ہے


دم نکلنے کو ہے ایسے میں وہ آجائیں قمر

صرف دم بھر کے لیے رُوح رواں ٹھہری ہے

قمر جلالوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو۔ قمر جلالوی

 منتخب کلام  قمر جلالوی  کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہ...