اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

استفہام، گنجینۂ معنیٰ کا طلسم اور غالبؔ

 استفہام، گنجینۂ معنی کا طلسم اور غالبؔ غالبؔ کی تفہیم کا سلسلہ ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے کو محیط ہے ۔ اس عرصے میں کتنے ہی دانشور، شارحین اورمحققین نے غالبؔ کی شاعری کی مختلف جہا ت کا احاطہ کر نے کی کوششیں کیں لیکن کیا ان مفا ہیم تک ان شارحین کی رسائی ممکن ہو سکی؟ جوکہ شاعر کا اصل مدعا تھا ۔ کیا حقیقت میں ان مفاہیم تک شارحین پہنچ سکے جوکہ شاعر بیان کرنا چاہتا تھا؟ کیوں کہ دیوانِ غالبؔ کی تقریباً دو درجن شرحیں لکھی گئی ہیں۔ اگر کسی ایک کی تشریح و تفہیم سے دوسرا سخن شناس مطمئن ہوتا تو شاید مزید تشریح کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عہد میں سخن فہم حضرات نے غالبؔ کو اپنے طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی کو ششیں کی ہیں اوراس سلسلے کے آئندہ بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے ۔  یہاں غالب ؔ ، استفہام اور گنجینۂ معنی کا طلسم جیسے موضوع کا انتخاب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انھیں کبھی خدائے سخن، کبھی عظیم شاعر تو کبھی فلسفی کہا گیا ہے۔ راقم کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب ؔ کی شاعری میں معنوی تہہ داری، استفہام، جذبے کی شدت، شعری محاسن، زندگی کے ایک ایک پل کا انوکھا اظہار وغیرہ ایسی چیزی...

کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو۔ قمر جلالوی

 منتخب کلام  قمر جلالوی  کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو چمن میں جانا تو صیّاد دیکھ بھال آنا اکیلا چھوڑ کے آیا ہوں آشیانے کو چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو ۔۔۔۔ مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے" مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسل...

پرایا گھر۔ جیلانی بانو

تمام گھر ایک جیسے ہیں، کہیں میں کسی اور گھر میں نہ پہنچ جاؤں۔ جب وہ مجھے ہاسپٹل سے گھر لے جارہے تھے تو میں بار بار یہی سوچ رہا تھا۔ ہسپتال کے ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ کار کے حادثے میں مجھے شدید چوٹ آئی تھی۔ مگر وہ سب جھوٹے ہیں، اگر مجھے چوٹ لگی تھی تو اس کااحساس کیوں نہ ہوا۔ وہ سب مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھتے رہے اور ہر وقت میرے بستر کے پاس پہرہ دیتے رہتے تھے جیسے میں اٹھ کر کہیں بھاگنے والا ہوں۔ آخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ وہ لوگ مجھے جانے کس پرائے گھر میں چھوڑ گئے، جیسے ہی مجھے سب نے پکڑ کر بستر پر لٹایا کوئی عورت زور زور سے چلانے لگی، ’’ہائے یہ کیا ہوگیا۔ نہیں نہیں، یہ میرا حامد نہیں ہوسکتا۔ اسے کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اور پھرکسی بچے نے پوچھا، ’’امی یہ چادر اوڑھے کون لیٹا ہے، ابا کے پلنگ پر؟‘‘ اب تو اس میں کوئی شک نہ رہا کہ میں غلطی سے کسی اور کے گھر میں آگیا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اسی بات کا ڈر لگا رہتا تھا کہ اگرمیں بھول کر کسی اور کے گھر میں گھس جاؤں تو کیا ہوگا؟ کہیں گھر کے مرد نہ آجائیں۔۔۔ چلو بھاگو، بھاگو۔ مگر لوگ مجھے چاروں طرف سے پکڑے بیٹھے ہیں۔ ’’چپ رہو۔۔۔ چپ رہو بھابی۔‘‘ دوسرے کمرے میں ک...