اشاعتیں

مئی, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سقراط اور زہر کا پیالہ

  سقراط اور زہر کا پیالہ سقراط ایک سنگ تراش سوفرونس کس اور ایک دائی، فائی ناریت کا بیٹا تھا، وہ جیومیٹری اور فلکیات کا ماھر مانا جاتا تھا، اس نے ادب موسیقی اور جمناسٹکس میں باقاعدہ ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ سقراط ایک منصف مزاج تھا وہ زبانی بحث کو تحریر پر فوقیت دیتا تھا اسی لیے اس نے اپنی بالغ  زندگی کا زیادہ عرصہ ایتھنز کی گلیوں اور بازاروں میں بحث کے متمنی کسی بھی شخص کے ساتھ بحث بازی کرتے ہوئے گزارا، وہ نہایت جفاکش اور خود منضبط تھا، وہ اپنی حاضر جوابی اور دلچسپ حس مزاح کے باعث مقبول تھا وہ ایک فلسفی تھا لیکن اس نے نہ کوئی کتاب لکھی تھی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ فلسفیانہ مکتب قائم کیا تھا لیکن فلسفے میں اس کی حصے داری بنیادی طور پر اخلاقی نوعیت کی تھی، انصاف، محبت اور نیکی جیسے تصورات کی معروضی تفہیم پر یقین اور حاصل کردہ خود آگہی اس کی تعلیمات کی اساس تھی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ تمام بدی، لاعلمیت اور جہالت کا نتیجہ ہے کیونکہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے برا نہیں بنتا- سقراط  ہمیشہ حق اور سچ کی جستجو میں لگا رہتا تھا، اس کی نظر میں حقیقی علم ہی ایک ایسی چیز تھی جس ک...

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

  اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا                                                                                                                                                                                                         لوہو آتا ہے جب نہیں آتا ہوش جاتا نہیں رہا لیکن                ...

مَنحُوس غَزل۔ ابن انشا

مَنحُوس غَزل اِبنِ اِنشاء کی وَجہِ شُہرت اُن کی نظمیں اور غَزلیں ہیں جو کِتابی صُورت اِختیار کرنے سے قَبل باقاعدگی سے اَدبی جریدوں میں شائِع ہُوتی تھیں۔ سَتّر کی دَہائی کے شُروع میں اُنہوں نے ایک غَزل لِکھی جِس نے اُنہیں بامِ عُروج پر پَہُنچا دیا۔ یہ غَزل اُن کے دُوسرے مَجمُوعہِ کلام "اِس بَستی کے اِک کُوچے میں" میں شامِل ہے اور یہ غَزل ہے: "اِنشا جی اُٹھو اَب کُوچ کرو " یہ غَزل ایک اَفسُردہ شَخص کے بارے میں تھی جِس نے ایک رات کِسی مَحفِل (مُمکِنہ طَور پر قَحبَہ خانے) میں گُزاری اور پِھر اَچانک اُٹھنے اور جانے کا فیصلہ کیا۔ نہ صِرف اُس جَگہ سے بَلکہ شَہر سے بھی۔ وہ اپنے گھر واپس جاتا ہے اور وہاں عَلیَ الصُبح پَہُنچتا ہے۔ وہ اِس تَعَجُّب کا شِکار ہُوتا ہے کہ اَپنے مَحبُوب کو کیا جَواز پیش کرے گا۔ وہ ایسا شَخص ہے جِسے غَلط سَمجھا گیا ہے اور اَب وہ جو اُس کے مُطابِق لایعنی وُجُود ہے۔ اِس میں مَطلب ڈُھونڈنے نِکلا ہے۔ اِس غَزل نے جَلد ہی مَعرُوف کلاسیکل اور غَزل گُلوکار امانت علی خان کی دل چَسپی حاصِل کر لی۔ امانت ایسے الفاظ کی تلاش میں تھے جو شَہری زندگی (لاہور او...

میری بات چیت تحریک بقائے اردو فیس بک پیج کے لیے

 https://www.facebook.com/TahreekBaqaeUrdu/videos/772922176817721/ میری بات چیت تحریک بقائے اردو فیس بک پیج کے لیے

کچھ خیالات ساسوں کے، کچھ سسروں کے

کچھ خیالات ساسوں کے، کچھ سسروں کے     احمد حاطب صدیقی (ابونثر) داماد والا کالم شاید ہر ’ساس‘ کو خوش آیا۔ اب معلوم ہوا کہ ہر داماد اپنی ساس کو ’خوش دامن‘ کہہ کہہ کر کیوں یاد کرتا ہے۔ خبر نہیں ’خوش دامن‘ کی ترکیب کس خوش فہم نے ایجاد کی؟کون جانے خوشی کس کے حصے میں آتی ہے اور دامن کس کا تار تار ہوتا ہے؟ مگر اپنے اطہر شاہ خان جیدیؔ مرحوم تو لوگوں کو نیکی کی تلقین یوں فرمایا کرتے تھے : : نیکی ہی کام آتی ہے                     دنیا ہے دو دن کا مال ساس کسی کی ہو جیدیؔ                  نیکی کر دریا میں ڈال البتہ ہمارے ایک سادہ لوح دوست اُردو کی ایک معروف کہاوت میں محض ایک حرف کا تصرف کرکے یہ کہتے ہیں کہ ’’جب تک ساس ہے، تب تک آس ہے‘‘۔ غالباً یہی عقیدہ حضرتِ بیدلؔ جونپوری مرحوم کا بھی رہا ہوگا۔ بیدلؔ صاحب بڑے ’دلدار‘  شاعر تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے، ذرا اُن کے اِن اشعار کی بے ساختگی اور بالخص...