اشاعتیں

ازدواجی شکوہ اور جواب شکوہ

 _*ازدواجی "شکوہ اور جواب شکوہ"*_ کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں زن مریدی ہی کروں میں اور مدہوش رہوں طعنے بیگم کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا میں کوئی بزدل ہوں کہ خاموش رہوں جرات آموز مری تاب ِسخن ہے مجھکو شکوہ اک زوجہ سے ! خاکم بدہن ہے مجھکو تجھکو معلوم ہے لیتا تھا کوئی رشتہ ترا سر پٹختے ہوئے پھرتا تھا کبھی اّبا ترا کس قدر خوش تھا میں جس دن تیرا ڈولا نکلا تیرا ڈولا تو مگر موت کا گولا نکلا تو جو سوتی ہے تو سالن بھی پکاتا ہوں میں ٹیپو روتا ہے تو فیڈر بھی بناتا ہوں میں گڈی جاگے ہے تو جھولا بھی جھلاتا ہوں میں پّپو اٹھ بیٹھے جو راتوں کو کھلاتا ہوں میں پھر بھی مجھ سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں میں وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں ھےبجا حلقہ ازواج میں مشہور ھوں میں تیرا بیرا، تیرا دھوبی ، تیرا مزدور ھوں میں زن مریدی کا شرف پاکے بھی رنجور ھوں میں قصہ درد سناتا ھوں کہ مجبور ھوں میں میری مخدومہ میرے غم کی حکایت سن لے ناز بردار سے تھوڑی سی شکایت سن لے زچہ بن بن کے بجٹ میرا گھٹایا تو نے ھر نۓ سال نیا گل ھے کھلایا تو نے رشتہ داروں نے تیرے ، جان میری کھائ ھے فوج کی فوج میرے گھرمیں ج...

زخم ہمارے گننا

 مشق کرنے کے لئے پہلے ستارے گننا  گنتی آجائے تو پھر زخم ہمارے گننا  تم جو خبریں دیے جاتے ہو کہ سب اچھا ہے  اپنی بستی میں کبھی درد کے مارے گننا  بھول مت جانا گُلوں اور پرندوں کو، میاں ! اپنے احباب جو گننے ہوں تو سارے گننا  یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ شکایت کریں ہم  ہمیں آتا ہی نہیں ظلم تمہارے گننا  ویسے کم گو ہُوں مگر تم کبھی فرصت پا کر  میری خاموش نگاہوں کے اشارے گننا  گر نبھانا ہے محبت کا تعلق، مرے دوست !  فائدے گننے سے پہلے نہ خسارے گننا  محکمے غم کے بہت، دُکھ کے دفاتر ہیں کئی  ملکِ دل میں کبھی اشکوں کے ادارے گننا  جلنے والوں کے تُو جُملے نہ گنا کر فارس  غیر ممکن ہے جہنم کے شرارے گننا

مہاجر نامہ۔ منور رانا

 مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں  نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں  عقیدت سے کلائی پر جو اک بچی نے باندھی تھی وہ راکھی چھوڑ آئے ہیں وہ رشتہ چھوڑ آئے ہیں  کسی کی آرزو کے پاؤں میں زنجیر ڈالی تھی کسی کی اون کی تیلی میں پھندا چھوڑ آئے ہیں  پکا کر روٹیاں رکھتی تھی ماں جس میں سلیقے سے نکلتے وقت وہ روٹی کی ڈلیا چھوڑ آئے ہیں  یقیں آتا نہیں، لگتا ہے کچّی نیند میں شائد ہم اپنا گھر گلی اپنا محلہ چھوڑ آئے ہیں  ہمارے لوٹ آنے کی دعائیں کرتا رہتا ہے ہم اپنی چھت پہ جو چڑیوں کا جتھا چھوڑ آئے ہیں  گلے ملتی ہوئی ندیاں گلے ملتے ہوئے مذہب الہ آباد میں کیسا نظارہ چھوڑ آئے ہیں  ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں  کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں  شکر اس جسم سے کھلواڑ کرنا کیسے چھوڑے گی...

ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات۔ ریاض خیرآبادی

 ہم بھی پیئں تمہیں بھی پلایئں تمام رات جاگیں تمام رات جگایئں تمام رات ان کی جفایئں یاد دلایئں تمام رات وہ دن بھی ہو کہ ان کو ستایئں تمام رات زاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے میکش اسے شراب پلایئں تمام رات اے قیس بے قرار ہےکچھ کوہ کن کی روح آتی ہے بے ستوں سے صدایئں تمام رات تا صبح میکدے سے رہی بوتلوں کی مانگ برسیں کہاں یہ کالی گھٹایئں تمام رات خلوت ہے بے حجاب ہیں وہ جل رہی ہے شمع  اچھا ہے اس کو اور جلایئں تمام رات شب بھر رہے کسی سے ہم آغوشیوں کے لطف ہوتی رہیں قبول دعایئں تمام رات  دابے رہے پروں سے نشیمن کو رات بھر کیا کیا چلی ہیں تیز ہوایئں تمام رات کاٹا ہے سانپ نے ہمیں سونے بھی دو ریاضؔ ان گیسوؤں کی لی ہے بلایئں تمام رات   جناب ریاض خیر آبادی

یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا

 کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے  وہ جو اپنا تھا وہی اور کسی کا کیوں ہے یہی دنیا ہے تو پھر ایسی یہ دنیا کیوں ہے یہی ہوتا ہے تو آخر یہی ہوتا کیوں ہے  اک ذرا ہاتھ بڑھا دیں تو پکڑ لیں دامن  اس کے سینے میں سما جائے ہماری دھڑکن   اتنی قربت ہے تو پھر فاصلہ اتنا کیوں ہے  دل برباد سے نکلا نہیں اب تک کوئی  اس لٹے گھر پہ دیا کرتا ہے دستک کوئی  آس جو ٹوٹ گئی پھر سے بندھاتا کیوں ہے  تم مسرت کا کہو یا اسے غم کا رشتہ  کہتے ہیں پیار کا رشتہ ہے جنم کا رشتہ  ہے جنم کا جو یہ رشتہ تو بدلتا کیوں ہے  کیفی اعظمی

منشی نول کشور کی چتا کو آگ کیوں نہیں لگی؟

 تاریخ عالم کا وہ واحد ہندو جس کی چتا پر کئی من گھی ڈالاگیا مگر اُس کے جسم کو آگ نہ لگی، اُس کا قرآن سے کیا تعلق تھا ، تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے ۔ پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے۔ دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قران پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا۔ نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلی ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی* ۔دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا۔وقت گزرتا...

ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں ۔ مبشر سعید

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں صرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوں تتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں تو اگر ایک جھلک اپنی دکھا دے اُن کو سب مصور تری تصویر بنانے لگ جائیں ایک لمحے کو اگر تیرا تبسم دیکھیں ہوش والوں کے سبھی ہوش ٹھکانے لگ جائیں ہم اگر وجد میں آئیں تو زمانے کو سعید کبھی غزلیں تو کبھی خواب سنانے لگ جائیں