امیر مینائی کا مختصر تعارف پیدائش: ۲۱/فروری 1829ء - وفات: ۱۳ / اکتوبر1900ء شاعر ، ادیب ، امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ لکھنؤ میں پیداہوئے درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔ شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے ۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد گئے وہاں کچھ دن قیام کیا تھا کہ بیمار ہوگئے اور وہیں انتقال کیا۔ متعدد کتابوں کے مصنف تھے ۔ ایک دیوان غیرت بہارستان ، 1857ء کے ہنگامے میں ضائع ہوا۔ موجودہ تصانیف میں دو عاشقانہ دیوان مراۃ الغیب ، صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محامد خاتم النبین ہے۔ دو مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔ ذکرشاہ انبیا بصورت مسدس مولود شریف ہے۔ صب...
ارسط و کے تنقیدی نظریات ارسطو قدیم یونان کا عظیم فلسفی، سائنسدان، ریاضی دان، استاد، تحقیق نگار ااور مصنف تھا۔ اس کی تحریروں کے م وضو عات طبیعیات، ما بعد الطبیعات ( Metaphysics )، شاعری، تھیٹر، موسیقی، منطق، فن بلاغت، لسانیات، سیاسیات، حکومت، اخلاقیات، حیاتیات اور حیوانیات تھے۔ ارسطو 384 قبل مسیح میں یونان کے ایک چھوٹے سے ساحلی قصبے Stagira میں پیدا ہوا۔ اس کے باپ کا نام Nicomachus تھا جو کہ ریاست میسیڈونیا کے بادشاہ Amyntas کا درباری طبیب تھا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارسطو کے آبا و اجداد کئی نسلوں سے ریاست کے شاہی دربار میں بطور معالج کام کرتے چلے آ رہے تھے۔ ارسطو کا ابھی لڑکپن ہی تھا تبھی اس کے باپ کا انتقال ہو گیا لیکن اس کے باوجود ساری عمر ارسطو کا شاہی دربار سے قریبی واسطہ رہا اور اس نے اس ماحول کا کافی اثر بھی لیا۔ ارسطو کی ماں کا نام Phaestis تھا ل، اس سے زیادہ اس کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارسطو کی ماں بھی اس کے بچپن ہی میں فوت ہو گئی تھی...
ولی کی غزل تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا تشریح و وضاحت: اس شعر کو پڑھتے ہی ہمارے ذہن میں میر کا یہ شعر فوراً رقص کرنے لگتا ہے: ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ولی اور میر دونوں ہی شعرأ کی غزلوں کے مطلعے کے دونوں مصرعوں میں تشبیہ کا استعمال ہوا ہے۔ ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک شعر کے دونوں مصرعوں میں تشبیہ کا استعمال ہوا ہو۔ شاید میر نے ولی کے مذکورہ شعر سے متاثر ہو کر اپنی غزل کے مطلعے میں ولی ہی کی طرح تشبیہ کا استعمال کیا ہو، جس کا مقصد کچھ اور نہیں بل کہ اپنی استادی اور فنی مہارت پیش کرنے کا جذبہ رہا ہو۔ زیرِ بحث شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کی تعریف کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو بدخشاں کے لعل سے تشبیہ دی ہے۔ اس کے دو پہلو ممکن ہیں۔ اول: محبوب کے ہونٹ لعل بدخشاں کی مانند سرخ ہیں۔ دوم: محبوب کے ہونٹ لعل بدخشاں ہی کی مانند قیمتی ہیں۔ لعل بدخشاں سے مراد وہ ہیرا ہے جو کہ بدخشاں میں پیدا ہوتا ہے۔ شہر بدخشاں آج کی تاریخ میں ش...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں