یہ بلاگ برقی قارئین اور بالخصوص طلبہ کی ضرورتوں کو ملحوظ رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اسے مزید بہتر بنانے کے لیے آپ کے مثبت مشوروں کی ضرورت ہے۔
Azmi's: Arzi bara-e-Izafa-e-Tankhaah
لنک حاصل کریں
Facebook
X
Pinterest
ای میل
دیگر ایپس
-
Azmi's: Arzi bara-e-Izafa-e-Tankhaah: عرضی برائے اضافہٴ تنخواہ ٹوٹ جائیں نہ سب امید کے تار وقت سے ہو گیا ہوں تنگ و نزار اس لیے آج ہوں درخواست گزار عرض کرتا ہوں...
امیر مینائی کا مختصر تعارف پیدائش: ۲۱/فروری 1829ء - وفات: ۱۳ / اکتوبر1900ء شاعر ، ادیب ، امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ لکھنؤ میں پیداہوئے درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔ شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے ۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد گئے وہاں کچھ دن قیام کیا تھا کہ بیمار ہوگئے اور وہیں انتقال کیا۔ متعدد کتابوں کے مصنف تھے ۔ ایک دیوان غیرت بہارستان ، 1857ء کے ہنگامے میں ضائع ہوا۔ موجودہ تصانیف میں دو عاشقانہ دیوان مراۃ الغیب ، صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محامد خاتم النبین ہے۔ دو مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔ ذکرشاہ انبیا بصورت مسدس مولود شریف ہے۔ صب...
ارسط و کے تنقیدی نظریات ارسطو قدیم یونان کا عظیم فلسفی، سائنسدان، ریاضی دان، استاد، تحقیق نگار ااور مصنف تھا۔ اس کی تحریروں کے م وضو عات طبیعیات، ما بعد الطبیعات ( Metaphysics )، شاعری، تھیٹر، موسیقی، منطق، فن بلاغت، لسانیات، سیاسیات، حکومت، اخلاقیات، حیاتیات اور حیوانیات تھے۔ ارسطو 384 قبل مسیح میں یونان کے ایک چھوٹے سے ساحلی قصبے Stagira میں پیدا ہوا۔ اس کے باپ کا نام Nicomachus تھا جو کہ ریاست میسیڈونیا کے بادشاہ Amyntas کا درباری طبیب تھا۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارسطو کے آبا و اجداد کئی نسلوں سے ریاست کے شاہی دربار میں بطور معالج کام کرتے چلے آ رہے تھے۔ ارسطو کا ابھی لڑکپن ہی تھا تبھی اس کے باپ کا انتقال ہو گیا لیکن اس کے باوجود ساری عمر ارسطو کا شاہی دربار سے قریبی واسطہ رہا اور اس نے اس ماحول کا کافی اثر بھی لیا۔ ارسطو کی ماں کا نام Phaestis تھا ل، اس سے زیادہ اس کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ارسطو کی ماں بھی اس کے بچپن ہی میں فوت ہو گئی تھی...
1- دو یا دو سے زیادہ لفظوں کے ایسے مجموعے کو جسے اہلِ زبان مخصوص اور غیر حقیقی معنوں میں استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں؟ A). روز مرہ B). محاورہ C). فعل D). مصدر View AnswerCorrect: B 2. ایسے حروف جنہیں سوال پوچھنے کے لیے استعمال کیا جائے انہیں ـــــــــ کہا جاتا ہے؟ A). حروفِ سوالیہ B). حروف جامع C). حروف استفہام D). حروف استدارک View AnswerCorrect: C 3. ایسے حروف جو دو جملوں کے درمیان آکر پہلے جملے کا شک رفع کریں۔ مثلاۤ(بلکہ، مگر، لیکن وغیرہ) انہیں گرائمر کی رو سے ـــــــ کہا جائے گا؟ A).حروفِ ایجاب B). حروف جامع C). حروف استفہام D). حروف استدارک View AnswerCorrect: D 4. ایسے حروف جو دو اسموں یا ایک اسم اور ایک ضمیر کے درمیان تعلق ظاہر کریں۔ مثلاۤ کا، کے، کی انہیں ـــــــــــ کہتے ہیں؟ A). حروف ایجاب B). حروف ایماء C). حروفِ اضافت D). حروفِ وضاحت View AnswerCorrect: C 5. دو جملوں میں ربط کے لیے استعمال ہونے والے حروف مثلاۤ (کہ) کو ـــــ کہتے ہیں؟ A). حروفِ ربط B). حروفِ روابط C). حروفِ ضروری D). حروفِ بیان View AnswerCorrect: C 6. جن حروف سے دکھ، تاسف یا افسوس کا اظہار ہو (مثلاۤ ہائے...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں