اشاعتیں

Tanisiyat: Tasavvur aur Tareekh تانیثیت: تصور اور تاریخ

تصویر

میں اور میرا بی۔ ایڈ۔ از پرویز احمد اعظمی

میں اور میرا بی ایڈ پرویز احمد اعظمی  میرا بی ایڈ میں آنا ٹھیک ویسے ہی ہوا جیسے کہ آدم کا دنیا میں آنا۔ بس فرق اتنا ہے کہ وہ آسمان سے زمین پر گرے تھے اور میں زمین سے گڑھے میں۔ زن مریدی سے جس طرح وہ لاچار تھے، اسی طرح میں بے بس لیکن افسوس صرف اس بات کا ہے کہ جب دنیا میں ان کی تشریف آوری ہوئی، اس وقت دنیا میں یونی ورسٹیاں اوربی۔ ایڈ۔ ڈیپارٹمنٹس نہیں تھے، جب کہ یہ دونوں چیزیں سوئے اتفاق سے میرے زمانے میں موجود ہیں۔ اب آپ چاہے جو سمجھیں مگر ناچیز بقول رشید احمد صدیقی یہ تسلیم کرتا ہے کہ ہندستان میں جوانی کھونے کے دو مقام ہیں: اول ارہر کے کھیت، دوم پارک اور اب ان میں کالج اور یونی ورسٹیوں کو بھی جوڑ لیا گیا ہے۔     بی۔ ایڈ۔ میں داخلہ لیا تو دیکھا کہ ایک سے ایک اصحاب کمال یہاں موجود ہیں، جنھیں دیکھ کر طلبہ کی ایک بڑی تعداد انگشت بہ دنداں اور متحیر ہے۔ ایسے ایسے نادر عجائبات کہ اگر اس جگہ کو وزارت سیاحت کے سپرد کر دیا جائے تو راتوں رات اس کی آمدنی میں دس گنا اضافہ ہو جائے۔  حالاں کہ بعض امور میں طلبہ میں ابھی اختلاف پایا جاتا ہے مگر آمدنی میں اضافے کو ...

کالو بھنگی از کرشن چندر Kalu Bhangi

تصویر

Adhe ghante ka khuda by Krishna Chandar آدھے گھنٹے کا خدا از کرشن چندر

تصویر
kr

छोरा छोरी

छोरा छोरी बोलो ख़ाला मिज़ाज कैसे हैं?           कितने वर्षों के बाद आई हो ? मिस्सी होठों पे आंख में काजल              जैसे पैग़ाम कोई लाई हो ? लड़के की मां मेरे छोरे को छोरी होना है                    मेरा छोरा तो पक्का सोना है तुमें दिल में ज़रा नको सोचो                हाथ आया तो हीरा सोना है चार लोगाँ में उसकी अबरू है                जैसे क्योड़े के बन में खुशबू है खुले दिल की हूँ सब बताती हूँ               खुला मुखलाज में सुनाती हूँ थोड़ा तिर्पट है और लुल्ला है                 सीधी आंखों में उसकी फुल्ला है मुंह पे चेचक के खाली दागाँ हैं               रंग डामर से ज़र्रा खुल्ला है नाक नक्शे का कित्ता अच्छा है            मेरा बच्चा तो भोर बच...

چھورا چھوری از سلیمان خطیب

چھورا چھوری بولو خالہ مزاج کیسے ہیں؟           کتنے برسوں کے بعد آئی ہو؟ مِسّی ہونٹوں پہ آنکھ میں کاجل          جیسے پیغام کوئی لائی ہو؟ لڑکے کی ماں میرے چھورے کو چھوری ہونا ہے         میرا چھورا تو پکا سونا ہے تمیں دل میں ذرا نکو سوچو              ہاتھ آیا تو ہیرا سونا ہے چار لوگاں میں اس کی ابرو ہے   جیسے کیوڑے کے بن میں خوشبو ہے کھلّے دل کی ہوں سب بتاتی ہوں          کھلّا مکھلاج میں سناتی ہوں تھوڑا ترپٹ ہے اور لُلّا ہے                سیدھی آنکھی میں اس کی پھلّا ہے منہ پہ چیچک کے خالی داغاں ہیں            رنگ ڈامر سے ذرّا کھلّا ہے ناک نقشے کا  کِتّا اچھا ہے           میرا بچہ تو بھور بچہ ہے اس کے دادا بھی سو پہ بھاری تھے            یوں تو کم ذات کے مداری تھے کنولے جھاڑاں کی سیندھی پیتے تھے    ...

Eid Gah عید گاہ

عید گاہ پریم چند رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد عید آئی ہے۔ کتنا منوہر، کتنا سہانا اثر ہے. درختوں پر عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب لالی ہے۔ آج کا سورج دیکھو، کتنا پیارا ہے؟ یعنی دنیا کو عید کی مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہے، پڑوس کے گھر میں سوئی دھاگے لینے دوڑا جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں، ان میں تیل ڈالنے کے لیے تیلی کے گھر پر بھاگا جاتا ہے۔ جلدی- جلدی بیلوں کو سانی- پانی دے دیں۔ عید گاہ سے لوٹتے- لوٹتے دوپہر ہو جائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں آدمیوں سے ملنا- بھےٹنا، دوپہر کے پہلے لوٹنا ناممکن ہے۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک۔ کسی نے وہ بھی نہیں لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کے حصہ کی چیز ہے۔ روزے بڑے- بوڑھوں کے لیے ہوں گے۔ ان کے لئے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے تھے آج وہ آگئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا مطلب؟ سیویوں کے لیے دودھ اور شکر گھر میں ہیں یا نہیں، ان کی...