اشاعتیں

عورت از کیفی اعظمی

  عورت اٹھ مری جان ! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے قلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آج                     حوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آج آبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آج                            حسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آج جس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے تیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہار                 تیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدار تیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردار                           تا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصار کوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھے اٹھ مری جان! م...

مولانا ابوالکلام آزاد کا سفرِ آخرت از آغــاشورش کاشمیری

بطارق مسعود: بائیس فروری یوم وفات کی مناسبت سے امام الہنـد مولانا ابوالکلام آزاد کا سفرِ آخرت، آغــاشورش کاشمیری کے سحر انگیز قلم سے:  "مولانا آزاد (رحمۃ اللہ علیہ) محض سیاست داں ہوتے تو ممکن تھا حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ، لیکن شدید احساسات کے انسان تھے ، اپنے دور کے سب سے بڑے ادیب، ایک عصری خطیب، ایک عظیم مفکر اور عالم متبحرتھے، ان لوگوں میں سے نہیں تھے ، جو اپنے لئے سوچتے ہیں ، وہ انسان کے مستقبل پر سوچتے تھے ، انہیں غلام ہندوستان نے پیدا کیا اور آزاد ہندوستان کیلئے جی رہے تھے ، ایک عمر آزادی کی جدوجہد میں بسر کی اور جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کا نقشہ ان کی منشا کے مطابق نہ تھا، وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے سامنے خون کا ایک سمندر ہے ، اور وہ اس کے کنارے پر کھڑے ہیں ، ان کا دل بیگانوں سے زیادہ یگانوں کے چرکوں سے مجروح تھا، انہیں مسلمانوں نے سالہا سال اپنی زبان درازیوں سے زخم لگائے اور ان تمام حادثوں کو اپنے دل پر گذارتے رہے ۔ آزادی کے بعد یہی سانچے دس سال کی مسافت میں ان کیلئے جان لیوا ہو گئے ، 12/فروری 1958ء کو آل انڈیا ریڈیو نے خبر دی کہ مولانا آزاد علیل ہو گئے ہیں ، اس رات کابین...

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے

 جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے  جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے وہاں تک چاہیے بچنا *دوا* سے اگر *خوں* کم بنے، *بلغم* زیادہ تو کھا *گاجر، چنے ، شلغم* زیادہ *جگر کے بل* پہ ہے انسان جیتا اگر ضعف جگر ہے کھا *پپیتا* *جگر* میں ہو اگر *گرمی* کا احساس *مربّہ آملہ* کھا یا *انناس* اگر ہوتی ہے *معدہ* میں گرانی تو پی لے *سونف یا ادرک* کا پانی تھکن سے ہوں اگر *عضلات ڈھیلے* تو فوراََ *دودھ گرما گرم* پی لے جو دکھتا ہو *گلا نزلے* کے مارے تو کر *نمکین* پانی کے *غرارے* اگر ہو درد سے *دانتوں* کے بے کل تو انگلی سے *مسوڑوں* پر *نمک* مَل جو *طاقت* میں *کمی* ہوتی ہو محسوس تو *مصری کی ڈلی ملتان* کی چوس شفا چاہیے اگر *کھانسی* سے جلدی تو پی لے *دودھ میں تھوڑی سی ہلدی* اگر *کانوں* میں تکلیف ہووے تو *سرسوں* کا تیل پھائے سے نچوڑے اگر *آنکھوں* میں پڑ جاتے ہوں *جالے* تو *دکھنی مرچ گھی* کے ساتھ کھا لے *تپ دق* سے اگر چاہے رہائی بدل پانی کے *گّنا چوس* بھائی *دمہ* میں یہ غذا بے شک ہے اچھی *کھٹائی* چھوڑ کھا دریا کی *مچھلی* اگر تجھ کو لگے *جاڑے* میں سردی تو استعمال کر *انڈے کی زردی* جو *بد ہضمی* میں تو چاہے افاقہ تو ...

میراجی کی نظم’’سمندر کا بلاوا‘‘ اور اس کے رنگ ۔۔۔ سید اختر علی

میراجی کی نظم’’سمندر کا بلاوا‘‘ اور اس کے رنگ ۔۔۔ سید اختر علی میراجی کی شخصیت نابغۂ روزگار تو تھی ہی روایتی علوم اور مغربی علوم سے واقفیت نے ان کی شخصیت کو مزید جلا بخشی۔ نیز حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستگی نے حلقہ کو اور ان کو چار چاند لگائے۔ سو یہ چاند اپنی چاندنی بکھیرنے لگا۔ اور وہ ثنا ء اللہ ثانی ڈار سے ’’میراجی‘‘ ہوا۔ اور پھر اسی نام سے جگ میں مشہور۔ میراجی نے لکھا بہت اونچا لکھا۔ لیکن آزادیِ اظہار کے نام پر وہ بھی لکھا جو ایک بولنے والا بولتے وقت بھی سو بار سوچے۔ انھوں نے سات پردے کی باتوں کو ایک سفید کاغذ کے پردے پر اجاگر کیا۔ پھر بھی عزّ و شرف ان کے حصہ میں آئی۔ اور ایک زمانہ آج بھی ان کے فکر و فن کا معترف ہے۔ میراجی علامت اور آواز کے شاعر ہیں۔ شخصیت بھی پر اسرار پائی ہے۔ آپ کو جہاں علامات اور استعارے کے پنکھ لگا کر معنیِ مضمون کی اونچی اڑان بھرنے میں مزہ آتا ہے تو وہیں دوسری طرف پھیکے اور گہرے یا شوخ و چنچل رنگوں سے بنے کیفیات کے پرچم لہرا کر الفاظ کے ذریعہ جذبات اوراحساست کے طبل پر تھاپ مار کر کائنات کی لونی و صوتی دنیا میں ہلچل پیدا کرنے میں لطف آتا ہے۔ ۔ میراجی کے یہاں لفظ ک...