اشاعتیں

جامن کا پیڑ

جامن کا پیڑ رات کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم پڑا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑاہے۔ مالی دوڑا-دوڑا چپراسی کے پاس گیا۔ چپراسی دوڑا-دوڑا کلرک کے پاس گیا۔کلرک دوڑا-دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا-دوڑا باہر لان میں آیا۔منٹوں میں گرے ہوئے درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع ‘ اکٹھا ہو گیا۔ بیچارا! جامن کا درخت کتنا پھل دارتھا۔ ایک کلرک بولا۔ اس کی جامن کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔دوسرا کلرک بولا۔ میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر‌کےلے جاتا تھا۔ میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔تیسرے کلرک نے تقریباً آبدیدہ ہوکر کہا۔ مگر یہ آدمی؟مالی نے دبےہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ ہاں، یہ آدمی! سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔ پتہ نہیں زندہ ہے کہ مر گیا! ایک چپراسی نے پوچھا۔ مر گیا ہوگا۔ اتنا بھاری تنا جن کی پیٹھ پر گرے، وہ بچ کیسے سکتا ہے! دوسرا چپراسی بولا۔ نہیں میں زندہ ہوں! دبےہوئے آدمی نے بہ مشکل، کراہتے ہوئے کہا۔ زندہ ہے! ایک کلرک نے حیرت سے کہا۔ درخت کو ہٹاکر اس کو نکال لیناچاہی...

مسدس مد و جزر اسلام

 اقتباس از مسدس مد و جزرِ اسلام نتیجہء فکر الطاف حسین حالی نشہ میں مئے عشق کے چور ہیں وہ صفِ فوجِ مژگاں میں محصور ہیں وہ غمِ چشم و ابرو میں رنجور ہیں وہ بہت ہات سے دل کے مجبور ہیں وہ کریں کیا کہ ہے عشق طینت میں ان کی حرارت بھری ہے طبعیت میں ان کی اگر شش جہت میں کوئی دلربا ہے تو دل ان کا نادیدہ اس پر فدا ہے اگر خواب میں کچھ نظر آگیا ہے تو یاد اس کی دن رات نامِ خدا ہے بھری سب کی وحشت سے روداد ہے یاں جسے دیکھئے قیس و فرہاد ہے یاں اگر ماں ہے دکھیان تو ان کی بلا سے اپاہج ہے باوا تو ان کی بلا سے جو ہے گھر میں فاقہ ان کی بلہ سے جو مرتا ہے کنبا تو ان کی بلا سے جنہوں نے لگائی ہو لو دلربا سے غرض پھر انہیں کیا رہی ماسوا سے نہ گالی سے دشنام سے جی چرائیں نہ جوتی سے پیزار سے ہچکچائیں جو میلوں میں جائیں تو لچپن دکھائیں جو محفل میں بیٹھیں تو فتنے اٹھائیں لرزتے ہیں اوباش ان کی ہنسی سے گریزاں ہیں رندان کی ہمسائگی سپوتوں کو اپنے اگر بیاہ دیجے تو بہوؤں کا بوجھ اپنی گردن پہ لیجے جو بیٹی کے پیوند کی فکر کیجئے تو بد راہ ہیں بھانجے اور بھتیجے یہی جھینکنا کو بہ کو گھر بہ گھر ہے بہو کو ٹھکانہ نہ بیٹی کو ب...

क्वारनटीन by राजिंदर सिंह बेदी

تصویر
उर्दू अफसाना क्वारनटीन                                     राजिंदर सिंह बेदी हिंदी अनुवाद: रज़ीउद्दीन अक़ील प्लेग और क्वारनटीन! हि मालय के पांव में लेटे हुए मैदानों पर फैल कर हर चीज को धुंधला बना देने वाले कोहरे की तरह प्लेग के खौफ ने चारों तरफ अपना तसल्लुत जमा लिया था. शहर का बच्चा-बच्चा उसका नाम सुनकर कांप जाता था. प्लेग तो खतरनाक थी ही ,  मगर क्वारनटीन उससे भी ज्यादा खौफनाक थी. लोग प्लेग से उतने परेशान नहीं थे जितने क्वारनटीन से ,  और यही वजह थी कि स्वास्थ्य सुरक्षा विभाग ने नागरिकों को चूहों से बचने की हिदायत करने के लिए जो आदम-कद विज्ञापन छपवाकर दरवाजों ,  सड़कों और मार्गों पर लगाया था ,  उस पर "न चूहा न प्लेग" के शीर्षक में इजाफा करते हुए "न प्लेग न चूहा ,  न क्वारनटीन" लिखा था. क्वारनटीन से संबंधित लोगों का खौफ बजा था. एक डॉक्टर की हैसियत से मेरी राय निहायत मुसतनद है और मैं दावे से कहता हूं कि जितनी मौतें शहर में क्वारनटीन से हुईं ,...